بھارتی تجارتی وفد کی پاکستان آمد تیاریاں

قدوس فائق
دنیا بھر میں علاقائی تجارت بڑی اہمیت حاصل کرگئی ہے اورعلاقائی تجارت کے ذریعہ کم لاگت پر درآمدات وبرآمدات پر بھرپور توجہ دی جارہی ہے یورپی یونین کے ممالک کی جدید ٹیکنالوجی ، جدید صنعتوں اور ا ن کی مستحکم ہوتی ہوئی کرنسی کو دیکھ کر دنیا کے دیگر حصوں میں بھی پڑوسی ممالک نے سارک‘آسیان‘ افریقی یونین اوردیگر تنظیمیں قائم کی ہیں ۔ سارک کی تنظیم میں پاکستان‘ بھارت‘ سری لنکا‘ بنگلہ دیش‘ مالدیپ ‘بھوٹان‘ نیپال اوربعد میں افغانستان بھی شامل ہوچکا ہے۔ سارک ممالک کی تنظیم کے تحت سارک چیمبرآف کامرس قائم کیا گیا ہے اورہر دو سال بعد رکن ممالک سے ترتیب وار اس کے صدر اورتمام ممالک کسے عہدیدارنامزد کئے جاتے ہیں ۔ سارک ممالک میں تجارت کے لحاظ سے بھارت‘ پاکستان‘ بنگلہ دیش اورسری لنکا نمایاں ممالک ہیں۔2011ءمیں ان ممالک کو پاکستان سے ان ممالک کی باہمی تجارت 5ارب 44کروڑ 90لاکھ ڈالرز تھی جس میں 3ارب 54کروڑ 10لاکھ ڈالرز کی پاکستانی برآمدات اور ایک ارب 90کروڑ 80لاکھ ڈالرز کی د رآمدات تھیں۔ اسی طرح ایک ارب 63کروڑ 30لاکھ ڈالرز کا تجارتی توازن پاکستان کے حق میں تھا۔ یہ باہمی تجارت 2013 میں کم ہوکر4ارب 45کروڑ 50لاکھ امریکی ڈالرز رہ گئی۔ اس میں پاکستانی برآمدات 2ارب 54کروڑ 90لاکھ امریکی ڈالرز اوردرآمدات ایک ارب 90کروڑ 60لاکھ ڈالرز تھیں ۔2013ءمیں ان ممالک سے پاکستان کو2ارب 54کروڑ 90لاکھ امریکی ڈالر فاضل تجارت تھی۔ سارک ممالک سے باہمی تجارت کا پاکستان کے حق میں یہ توازن افغانستان‘ بنگلہ دیش‘ سری لنکا کو پاکستانی برآمدات کی وجہ سے رہا۔ اس کے برعکس بھارت سے پاکستان کی تجارت شدید خسارے سے دوچار ہے۔ 2013ءمیں بھارت سے ایک ارب 67کروڑ 70لاکھ امریکی ڈالرز کا سامان درآمد کیا گیا اور اسی مدت میں بھارت نے پاکستان سے محض 32کروڑ 90لاکھ امریکی ڈالرز کی پاکستانی مصنوعات درآمد کیں۔ اس طرح بھارت سے پاکستان کو ایک ا رب 34کروڑ 80لاکھ روپے کے تجارتی خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں بھارتی درآمدات کا تخمینہ تقریباً 5ارب ڈالرز ہے جبکہ ماضی میں 12/10سال بھارت سے تجارت کا توازن پاکستان کے حق میں تھا اور اس مدت میں پاکستان بھارتی سامان کی ایک بڑی منڈی ثابت ہوا ہے۔ بھارتی مصنوعات کی مزید کھپت کیلئے بھارتی حکومت اورتاجر مزید کوشاں ہیں۔ جبکہ پاکستانی مصنوعات کی بھارت میں کھپت روکنے کے لئے طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کئے جاتے ہیں۔ جسے تاجر نان ٹیرف ہرڈلز کے نام سے پکارتے ہیں ۔ان ہتھکنڈوں میں پہلا ہتھکنڈہ یہ ہوتا ہے کہ پاکستان سے برآمد کئے جانے والے سامان کیلئے ضروری ہے کہ وہ بھارت کے سرکاری ادارہ کوالٹی اینڈ کنٹرول سے معیار کا سرٹیفکیٹ حاصل کرے۔ اس کیلئے ڈالر میں بھاری فیس اورنمونے دینے کے بعد تقریباً ایک سال تک پاکستانی تاجروں کو سرٹیفکیٹس کا انتظار کرنا پڑتا ہے اور پھر پاکستانی مصنوعات ا علیٰ معیار کی ثابت ہونے پربرآمد کی جاتی ہیں۔ بھارت کے خفیہ ادارہ پاکستانی مصنوعات درآمد کرنے والے بھارتی تاجروں کوہراساں کرتے ہیں۔بھارتی کسٹمز شپنگ کمپنیوں کو ان پاکستانی مصنوعات کی شپمنٹ نہ کرنے کی ہدایت کردیتا ہے بھارت میں بہت پسند کی جانے والی پاکستانی مصنوعات میں خواتین کے تھری پیس سوٹس‘ مردانہ شرٹس‘ اونیکس اورماربل کا سامان‘پلاسٹک کی مصنوعات ‘مصالحہ جات‘ ککنگ آئل‘ ویجیٹیبل گھی‘ کراکری ‘کٹلری ‘جراحت کا سامان‘ لیدرگارمنٹس اوردیگرشامل ہیں۔لیکن اس میں حائل رکاوٹ کا اندازہ اس بات سے باآسانی لگایاجاسکتا ہے کہ ہرسال نئی دہلی میں ہونے والی انڈین انٹرنیشنل ٹریڈ فیئر میں بھارتی عوام کی صرف پاکستانی پویلین پر بھیڑ ہوتی ہے۔2005 میں اس نمائش میں بھارت کے مختلف صوبوں کے پویلین کے ساتھ ساتھ پاکستانی پویلین جو ایک وسیع ہال پر مشتمل تھا عوام کی توجہ کا مرکز تھا اوربھارتی پاکستانی مصنوعات خریدنے میں مصروف تھے۔
 1980 ءکی دہائی میں جب پہلی بار پاکستان نے اس نمائش میں شرکت کی تھی تو رہبر کے واٹر کولر ایک دن میں 2لاکھ فروخت ہوئے تھے۔ بھارتی عوام میں اس پذیرائی سے پریشان ہوکر بھارتی حکومت اورا ن کے ا داروں نے نان ٹیرف ہتھکنڈوں کااستعمال شروع کردیا تھا اورپاکستانی مصنوعات کے سامنے بند باندھ دیا تھا۔ اب اس نے پاکستان میں اپنی مصنوعات کی کھپت کیلئے جدوجہد تیز کردی ہے۔ اسی سلسلہ میں 16فروری سے 19فروری 2014ءتک لاہور میں میڈان انڈیا (MADE IN INDIA) نامی نمائش منعقد ہورہی ہے اوربھارت کے وعزیر تجارت آنند شرما ایک بڑے تجارتی وفد کے علاوہ فلمی ستاروں اورشھارتی دانشوروں اورنوجوانوں کا 300سے زیادہ افراد کا وفد لے کر لاہورپہنچ رہے ہیں۔ وفد واگہ کی سرحد سے پاکستان میں داخل ہوگا وفد میں شامل فلمی ستارے پرانی نادر ونایاب ونٹج VINTAGE کاروں میں پہنچیں گے۔ لاہور میں ثقافتی شو کے علاوہ گورنرہاﺅس میں یوتھ فیسٹول منعقد ہوگا۔ اس کے منتظمین میں سارک کے نائب صدر افتخار علی ملک پیش پیش ہیں۔ نمائش کی کامیابی کیلئے پاکستان میں متعین بھارتی ہائی کمشنر ڈاکٹر رگھوان نے کراچی کا دورہ کیا اوروفاق ایوان ہائے تجارت کے صدر اورعہدیداروں سے مشاورت کی۔ حالیہ برسوں میں پہلی بارفیڈریشن کے صدر زبیر احمد ملک نے باہمی تجارت میں اضافہ کیلئے مسئلہ کشمیر کے حل کو لازمی قرار دیا جبکہ ایک اورعہدیدار نے بھارت کی جانب سے نئے ڈیم بنانے پر پاکستان کوبنجر بنائے جانے کی شکایت بھی کی ہے ۔ ڈاکٹررگھوان اس صورت حال میں بھی توقع رکھتے ہیں کہ پاکستان میں بھارتی مصنوعات کے سیلاب کے ساتھ ساتھ بھارت کے ٹرکوں کو افغانستان اورایران تک راہداری دے دی جائے۔ حال ہی میں دہلی میں اس کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا۔ جسے حکومت نے ٹال دیا مگر اب وقت آگیا ہے کہ حکومت پاکستان تجارتی تعلقات کو مسئلہ کشمیر کے حل سے منسلک کردے کیونکہ اس مسئلہ کے حل کے بغیر باہمی تجارت ‘راہداری کی فراہمی اور بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینا مناسب نہیں۔