آم کا بٹورا اور اس سے بچاﺅ

امتیاز حسین
آم کو پاکستان میں پھلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔ یہ اپنی غذائیت کے لحاظ سے پھلوں میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ گرم مرطوب آب و ہوا آم کے پودے کی بڑھوتری اور غذائیت کےلئے بہت مناسب جانی جاتی ہے۔ اسی لئے پاکستان کے بیشتر علاقے خصوصاً جنوبی پنجاب اور سندھ کو آم کی کاشت کےلئے نہایت موزوں سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان میں اگرچہ وقت کے ساتھ ساتھ آم کے زیر کاشت رقبہ میں خاطر خواہ اضافہ ہونے کی وجہ سے اب یہ پھل پاکستان میں پھلوں کی پیداوار کے لحاظ سے پہلے نمبر پر ہے لیکن پھر بھی فی ایکٹر پیداوار میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا۔ جس کی وجوہات میں آم کا بٹور، آم کا کیرا، بے قاعدہ ثمر آوری، آم کا جھلساﺅ وغےرہ ہیں۔ ان میں آم کا بٹور اور بے قاعدہ ثمر آوری دو بہت بڑی وجوہات ہیں۔ جس کے حتمی اسباب ابھی تک نہیں جانے جا سکے۔ کچھ ماہرین کی رائے میں اسے وائرس ، پھپھوندی اور خوراکی اجزاءخصوصاً نائٹروجن اور کاربن کے غلط تناسب کی وجہ سے تصور کیا گیا ہے۔
آم کا بٹور دو قسم کا ہوتا ہے۔
نباتاتی بٹور سے زیادہ تر نرسری والے پودے متاثر ہوتے ہیں۔ تاہم یہ عام نظر نہیں آتا ۔ جس کی وجہ سے پودوں کے پتے نوکیلے اور سائز میں چھوٹے رہتے ہیں۔ پودے کی نشونما رک جاتی ہے ۔ علاوہ ازیں جن پودوں پر نباتاتی بٹور شروع ہو جائے ان پر خود بخود پھولوں کا بٹور ہو جاتا ہے اگر نرسری کے 3سے 4 ماہ کے پودوں پر اس کا حملہ ہو جائے تو متاثرہ شاخیں چند ماہ کے اندر سوکھ جاتی ہیں۔پھولوں کے بٹور کے حملے میں پھولوں کا سائز عام پھولوں کی نسبت بڑا ہوتا ہے اور متاثرہ شاخیں عام شاخوں کی نسبت 3گنا زیادہ پھول نکالتی ہیں۔ اور ان پر نر پھول زیادہ تعداد میں لگتے ہیں۔ متاثرہ کچھے سبز حالت سے سیاہ اور سخت ہو جاتے ہےں ۔
 کچھ ماہرین کی رائے کے مطابق اس بیماری کی ایک نہیں بلکہ بہت سی وجوہات ہیں۔ اس بیماری کے پھیلاﺅ میں عام طور پر بیمار شدہ پودوں والی جگہ پر نرسری اگانے سے زیادہ ہوتا ہے۔ وائرس، فنگس اور مائٹس اس بیماری کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مائٹس میزبان پودے پر زخم کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے وائرس اور فنگس ن زخموں کے ذرےعے پودے داخل ہوجاتے ہیں اور اس بیماری کے پھیلاﺅ کا سبب سنتے ہیں۔
اس بیماری کو پھیلنے سے روکنے کےلئے عام طور پر روایتی طرےقے سے اپنائے جاتے ہیں مثلا بٹور والی شاخوں کو 6 سے 8 انچ پیچھے سے کاٹ دیں اور کاٹنے کے فورا بعد پھپھوندی کش ادویات کا سپرے کرتے ہیںاور کٹے ہوئے حصے کو باغ سے باہر لے جا کر جلا دیتے یا مٹی کے اندر دبا دیتے ہیں۔ اکتوبر کے پہلے ہفتے میں 100 سے 200 پی پی ایم NAA اور فروری میں جب نئی کونپلیں نکلتی ہیں اس وقت 500 پی پی ایم ایتھرل کا سپرے کریں اور کوبالٹ سلفیٹ 1000 پی پی ایم اکتوبر کے پہلے ہفتے میں سپرے کریں ۔ پھپھوندی کش ادویات مثلا ٹاپسن ایم (Topsin M) اور بینومل (Benomil) کو 2گرام فی لٹر پانی میں حل کر کے جولائی میں سپرے کرنے سے بھی اس بیماری کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔