آئی ایم ایف۔۔۔۔۔۔ کو ادائیگی کے انتظامات

احمد جمال نظامی
    بجلی اور گیس کا بحران بہرطور موجود ہے جس پر احتجاج اور تشویش کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اس احتجاج میں برآمدکنندگان بھی برابر شریک ہیں اور ان کی طرف سے مسلسل ایسے نکات اٹھائے جا رہے ہیں کہ جاری توانائی بحرانوں کے باعث برآمدات میں روزافزاں کمی کا سلسلہ جاری ہے جبکہ حکومت کے ادارہ برائے شماریات کے جاری کردہ تازہ اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال 2013-14ءکے پہلے چھ ماہ کے دوران وطن عزیز کے تجارتی خسارے میں 8.75فیصد کی کمی ہوئی ہے۔ گذشتہ مالی سال کے مقابلے میں رواں مالی سال میں جولائی تا دسمبر 2013ءکے دوران ملکی برآمدات میں 5.11فیصد اضافہ جبکہ مجموعی ملکی درآمدات میں 1.14فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ رواں مالی سال میں جولائی تا دسمبر 2013ءکے دوران 12.639 ارب ڈالر کی برآمدات کی گئی جبکہ گذشتہ مالی سال کے دوران اسی عرصہ جولائی تا دسمبر 2012ءکے دوران مجموعی ملکی برآمدات سے 12.024 ارب ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا تھا۔ ادارہ برائے شماریات کے مطابق دوسری جانب ملکی درآمدات بھی گذشتہ مالی سال کے اسی عرصہ کے دوران 21.671 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ ملکی برآمدات میں اضافہ اور درآمدات میں ہونے والی کمی کے نتیجہ میں جولائی تا دسمبر 2013ءکے دوران ملک کا تجارتی خسارہ 9.032ارب ڈالر تک کم ہو گیا جو گذشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے دوران 9.898 ارب ڈالر تھا۔ اس طرح رواں مالی سال میں گذشتہ مالی سال کے مقابلے میں ملک کے تجارتی خسارے میں 8.75فیصد کی کمی ہوئی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سال 2012ءملکی معیشت کے لئے انتہائی خوفناک اور بھیانک سال تھا جس کے مقابلے میں رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران تجارتی خسارہ برآمدات کی مد میں کم ہوا ہے۔ معاشی اصلاحات کی اشد ضرورت ہے تاکہ صنعتی پیداوار کے پہیے کو مزید وسعت دے کر وطن عزیز میں افراط زر اور غربت پر کنٹرول کیا جا سکے۔ اس وقت ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کے حوالے سے جو اعدادوشمار سامنے آئے ہیں ان کے مطابق ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 2کروڑ 35لاکھ ڈالر کے اضافے کے بعد ایک بار پھر 8ارب ڈالر کی سطح سے بڑھ چکے ہیں۔ سٹیٹ بینک کے مطابق 31جنوری تک زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر میں 2کروڑ 35لاکھ ڈالر کا اضافہ دیکھا گیا جس کے بعد زرمبادلہ کے ذخائر 7ارب 99کروڑ 39لاکھ ڈالر سے بڑھ کر 8ارب ایک کروڑ 7لاکھ ڈالر کی سطح پر پہنچ گئے۔ اس دوران سٹیٹ بینک کے ذخائر 56لاکھ ڈالر اضافے کے بعد 3ارب 17کروڑ 66لاکھ ڈالر اضافے سے 3ارب 18کروڑ 22لاکھ ڈالر جبکہ کمرشل بینکوں کے ذخائر ایک کروڑ 79لاکھ ڈالر اضافے سے 4ارب 81کروڑ 73لاکھ ڈالر سے بڑھ کر 4ارب 83کروڑ 92لاکھ ڈالر کی سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ ماضی کے دنوں میں ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے تھے جس کی بنیادی وجہ برآمدات میں کمی اور ڈالر کی روپے کے مقابلے میں قیمت میں اضافے کو قرار دیا جا رہا تھا۔ 12دسمبر 2013ءکو ہمارے زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر کی مالیت بارہ سال کی کم ترین سطح پر آ گئی تھی۔ زرمبادلہ کے ذخائر ایک ماہ کی درآمدات کے لئے بھی ناکافی ہو چکے تھے۔ تین ہفتے کے درآمدی بل کے برابر ذخائر توازن ادائیگی کے لئے بھی خطرہ بن چکے تھے۔ سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر کی مالیت 6دسمبر 2013ءکو 2.9ارب ڈالر کی سطح پر آ گئے تھے۔ 29نومبر سے 6دسمبر 2013ءیعنی ایک ہفتے کے دوران زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر میں 8کروڑ 35لاکھ ڈالر کی کمی واقع ہوئی تھی جبکہ رواں مالی سال کے دوران جولائی سے دسمبر تک زرمبادلہ کے ذخائر 2.9ارب ڈالر تک کم ہو چکے تھے۔ اس وقت ماہرین کے مطابق رواں مالی سال کے دوران آئی ایم ایف کو 1.9ارب ڈالر کی ادائیگیوں سے زرمبادلہ کے ذخائر کو سخت دبا¶ کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم دسمبر میں ہونے والی کمی کرنٹ اکا¶نٹ خسارے کا بھی نتیجہ تھی۔ رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ کے دوران کرنٹ اکا¶نٹ کو 1.3ارب ڈالر کے خسارے کا سامنا کرنا پڑا تھا جبکہ گذشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں کرنٹ اکا¶نٹ 14ملین ڈالر سرپلس رہا تھا۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کے براہ راست اثرات روپے کی قدر پر مرتب ہونے لگ پڑے تھے اور رواں مالی سال کے دوران روپے کی قدر 7فیصد تک کم ہو چکی تھی۔ اس وقت روپے کی قدر میں محدود ریکوری دیکھی جا رہی تھی تاہم معاشی مینجرز فروری میں ہونے والی تھری جی لائسنس کی نیلامی، غیرملکی قرضوں، بانڈز کے اجراءکے علاوہ کولیکشن سپورٹ فنڈ کو امید کی کرن قرار دے رہے تھے۔ 6دسمبر 2013ءکو سٹیٹ بینک کے مطابق زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر کی مالیت 8ارب 6کروڑ 4لاکھ ڈالر ریکارڈ کی گئی تھی اس وقت سٹیٹ بینک کے ذخائر 2ارب 96کروڑ 31لاکھ ڈالر جبکہ کمرشل بینکوں کے ذخائر 5ارب 9کروڑ 73لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے تھے۔ ہمارے ہاں یہی صورتحال مختلف زاویوں اور انداز سے مختلف معیشت سے متعلق معاملات پر اثرانداز ہو کر ہمیں بحران زدہ کرتے چلے آ رہے ہیں جس پر قابو پانے کے لئے تاحال موجودہ حکومت کی طرف سے بھی کسی قسم کے کوئی ٹھوس اور انقلابی اقدامات سامنے آتے نظر نہیں آ رہے۔ ہم نے صرف روپے کی قدر گرا کر ملک کو 770ارب روپے کا نقصان پہنچا دیا ہے مگر اس کے باوجود حکومت کسی قسم کی کوئی مناسب منصوبہ بندی نہیں کر پائی ہے۔ اس وقت بھی وزیرخزانہ کے دعو¶ں کے مطابق ڈالر اس نچلی سطح پر روپے کے مقابلے میں نہیں آ سکا جس کو مدنظر رکھ کر کہا جا سکے کہ ہم روپے کی قدر میں اضافے سے ملکی معیشت کو مزید سنبھالا دے لیں گے۔ پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر میں ایک مرتبہ پھر کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ کمی صرف 5پیسے ریکارڈ ہوئی ہے لیکن دوسری طرف یورو اور برطانوی پا¶نڈ کی قدروں میں فی کس 8پیسے کا اضافہ بھی ہو گیا ہے۔ امریکی ڈالر اس وقت 106.40روپے سے کم ہو کر 106.35روپے کی قیمت فروخت پر ہے جبکہ اس کی قیمت خرید 103.88 روپے سے کم ہو کر 103.84روپے ریکارڈ کی گئی ہے۔ حکومت نے ایک مرتبہ پھر آئی ایم ایف کے ساتھ پالیسی سطح کے مذاکرات کا گذشتہ روز پانچواں دور شروع کیا ہے۔ آئندہ پھر آئی ایم ایف کو قسط کی ادائیگی کی صورت میں زرمبادلہ کے ذخائر کی کمی کا مسئلہ درپیش آ سکتا ہے جس بارے میں حکومت کو پیشگی منصوبہ بندی کر لینے کی اشد ضرورت ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ قومی خزانے کو بھرنے کے لئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کی طرف سے پرچون فروش تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لئے نیا نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ نئے نظام پر جی آئی زیڈ اور ایف بی آر حکام پر مشتمل ٹیم اپریل سے کام شروع کر سکتی ہے۔ اسی طرح ٹیکس چوری کے ہائی پروفائل کیسوں کے لئے بھی ایف بی آر نے اعلیٰ سطح کا خصوصی تحقیقاتی ادارہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ملکی معیشت کو بہتر بنانے کے لئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں۔ آئی ایم ایف کی ہر شرط پر من و عن عملدرآمد سے گریز کیا جائے۔