یمن بحران اسلامی دنیا میں عدم استحکام‘ انتشار کا باعث بن سکتا ہے‘ جلد اقدامات کئے جائیں : اردگان

یمن بحران اسلامی دنیا میں عدم استحکام‘ انتشار کا باعث بن سکتا ہے‘ جلد اقدامات کئے جائیں : اردگان

انقرہ (اے ایف پی + نیٹ نیوز) ترک صدر رجب طیب اردگان نے یمن کی صورتحال کے حوالے سے خبردار کیا ہے کہ علاقائی سطح پر جاری تنازعہ تمام مسلم دنیا میں عدم استحکام اور انتشار کا باعث بن سکتا ہے۔ بطور مسلمان مختلف نظریات رکھے جاسکتے ہیں لیکن اگر کوئی ایک نظریہ کسی دوسرے ملک پر مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو مسلم اُمہ میں پھوٹ پڑجائیگی۔ ایران کے دورے سے واپسی پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت مسلم دنیا عدم استحکام کے خطرے سے دوچار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس عدم استحکام کے خاتمے کیلئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ ترک اخبار حریت اور صباح کے مطابق انہوں نے کہا کہ وہ اس حوالے سے کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔ وہ اس مقصد کیلئے انڈونیشیا، ملائیشیا کے علاوہ ایک بار پھر سعودی عرب جانے کو تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ او آئی سی اور دیگر ممالک کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ عراق، مصر، لیبیا، شام اور یمن جیسے فلیش پوائنٹس مقامات پر تشدد کو ورکنے کیلئے سنجیدگی سے اقدامات کرنے کیلئے پرعزم ہیں۔ انہوں نے مشرق وسطیٰ کے تازہ تنازعات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی دنیا میں انتشاری کیفیت کو روکنے کیلئے فوری طور پر اقدامات کی ضرورت ہے۔ ترک صدر نے اپنے دورہ ایران کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ تہران میں اپنے قیام کے دوران انہوں نے ایرانی صدر حسن روحانی اور سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے ساتھ ملاقاتوں میں یمن سمیت دیگر علاقائی مسائل پر بھی تبادلہ خیالات کیا۔ یمن کے مختلف گروپوں کو مل کر ممکنہ حل کیلئے کوشش کرنی چاہئے۔ سعودی عرب، ترکی اور ایران کو یمن کے بحران کے سفارتی حل کی کوششوں میں شامل ہونا چاہئے۔ ایرانی رہنماﺅں سے یمن اور دوسرے امور پر بات ہوئی ہے۔ سعودی رہنماﺅں سے ہونے والی ملاقاتوں کی تفصیل کے بارے میں ایرانی رہنماﺅں کو آگاہ کیا ہے۔
طیب اردگان