”سو گئے خواب سے لوگوں کو جگانے والے“ مادر ِ ملت اور نوائے وقت

خالد کاشمیری
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ پاکستان میں پرنٹ میڈیا پر فیلڈ مارشل ایوب خان کے دورِآمریت سے زیادہ کٹھن اور ابتلا کا وقت کبھی نہیں آیا۔ پریس اینڈ پبلی کیشنز آرڈیننس کے تحت نہ صرف اخبارات کی تعداد محدود رکھنے کا مقصد حاصل کیا گیا تھا بلکہ پریس ٹرسٹ بنا کر اچھے بھلے اخبارات کو حکومت کی تحویل میں لے لیا گیا تھا۔ پورے ملک میں جو دو تین اخبار آزاد پالیسی کے حامل تھے‘ روزنامہ نوائے وقت ان کا سرخیل تھا۔ اس قبیل کے باقی اخبارات ایوبی آمریت کے بوجھ تلے دفن ہو گئے۔ صرف روزنامہ نوائے وقت ہی ایسا اخبار ہے جو ڈاکٹر مجید نظامی کی ادرات میں آزمائش کے اس طویل دور میں نامساعد مالی حالات کے باوجود آزادی صحافت کی جنگ لڑتا رہا۔
ایسے ہی حالات تھے جب حضرت قائداعظمؒ کی ہمشیرہ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح نے 1964ءمیں صدر ایوب خان کے مقابلے میں صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا تھا۔ مرحومہ کو اس وقت کی متحدہ حزب اختلاف نے بڑی جدوجہد کے بعد اس مقصد کیلئے میدان سیاست میں آنے پر مجبور کیا تھا۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ابھی اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد‘ متحدہ حزبِ ا اختلاف کی طرف سے ایوب خان کے مقابلے میں مادر ملت کو اپنے امیدوار کے طورپر نامزد نہیں کیا تھا کہ ایوب خان کی طرف سے اعلیٰ حکومتی حکام کو یہ واضح ہدایات جاری کی گئیں کہ تمام اخبارات بالخصو ص روزنامہ نوائے وقت پر گہری نظر رکھی جائے کہ حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی جماعتوں کے رہنماﺅں کے حکومت مخالف بیانات کو نمایاں طورپر شائع نہ کیا جائے اور صدر ایوب خان کے صدارتی امیدوار بننے کے حوالے سے تو اپوزیشن کے تنقیدی بیانات شائع نہ کرنے کی ہدایات دن رات محکمہ اطلاعات کے اعلیٰ حکام کی طرف سے جاری ہونے لگیں۔ اس مقصد کیلئے ٹیلیفون ہی زیادہ تر استعمال کئے جاتے۔ پاکستان میں ایسے پُرآشوب حالات میں نوائے وقت نے حکومتی ہدایات کو پرِکا جتنی بھی اہمیت نہ دی۔ عملہ ادرات کو ایڈیٹرانچیف ڈاکٹر مجید نظامی کا حکم تھا کہ حزبِ اختلاف کے رہنماﺅں کے بیانات کو جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا جائے۔ یہ وہ دور تھا کہ حکومت کے پالتو لوگ اپوزیشن جماعتوں کے جلسے میں پولیس کی موجودگی میں ہلڑ بازی کرنے‘ لاﺅڈ سپیکروں کی تاریںکاٹی جاتیں۔ جلسہ درہم برہم کردیا جاتا مگر ایسی خبریں ڈاکٹر مجیدنظامی کی خصوصی ہدایات پر صرف نوائے وقت ہی میں دیکھی جاسکتی تھیں۔ ایسے حالات میں نوائے وقت ہی وہ اخبار تھا جس نے 16 ستمبر 1964ءمیں اس خبر کو شہ سرخی بنایا کہ ”خاتون پاکستان نے اپوزیشن پارٹیوں کا صدارتی امیدوار بننا قبول کر لیا۔“ اس خبر کو بھی ”پلے ڈاﺅن“ کرنے کیلئے ایوب خان کی ہدایت پر اعلیٰ حکومتی حکام نے ڈاکٹر مجید نظامی پر دباﺅ ڈالنے کی کوشش کی۔ وہ چاہتے تھے کہ اسے ایک چھوٹی خبر کے طورپر اخبار میں کسی بھی جگہ پر چھاپ دیا جائے۔ مگر ڈاکٹر مجید نظامی نے اس حوالے سے حکومتی دھمکیوں کی کوئی پروا نہ کی اور اس کے بعد تو روزنامہ نوائے وقت اور اس کے چیف ایڈیٹر ڈاکٹر مجید نظامی نے ایوبی آمریت کے خلاف مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی انتخابی مہم کو قومی فریضہ سمجھ کر انجام دیا۔ نوائے وقت نے تو پہلے ہی آزادی صحافت کا پرچم بلند کر رکھا تھا۔ آمریت کے خلاف معرکہ میں مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح صحافت اور آمریت کے مابین ڈھال ثابت ہوئیں۔ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ کے صدارتی انتخاب میں امیدوار بننے کے بعد 19 ستمبر 1964ءکو ڈاکٹر مجیدنظامی نے ”قوم کا امتحان“ کے عنوان سے اپنے اداریہ میں جہاں مادرِملت کے فیصلے کا خیرمقدم کیا‘ وہاں بڑے طریقے اور سلیقے سے ایوب خان کو کھری کھری سنائیں اور اداریہ کے آخر میں انہوں نے آمریت سے دل برداشتہ عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ”خاتون پاکستان نے امیدوار صدارت قبول کرکے پاکستانی عوام کو آئینی ذرائع سے حکومت تبدیل کرنے کا موقع فراہم کر دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان کے دل کس کے ساتھ ہیں اور ووٹ کس کے ساتھ!“
اس کے بعد تو ڈاکٹر مجیدنظامی کی نگرانی و سرپرستی میں جب نوائے وقت کے صفحات مادر ملت اور متحدہ حزبِ اختلاف کے رہنماﺅں کے بیانات سے جگمگانے لگے تو ملک کے بعض دیگر اخبارات نے بھی ایسے بیانات اور اپوزیشن جماعتوں کے جلسوں کی کارروائیوں کو نمایاں طورپر شائع کرنا شروع کر دیا مگر جہاں تک نوائے وقت کا تعلق ہے‘ ڈاکٹر مجید نظامی نے اپنے اس اخبار کے صفحات کو ایوبی آمریت کی پیدا کردہ رکاوٹوں اور دھمکیوں کے باوجود مادر ملت کی انتخابی مہم کیلئے وقف کئے رکھا۔ بلاشبہ نوائے وقت حق اور صداقت کی آواز کو بلند کرنے میں پہلے بھی کسی قسم کی کوتاہی سے کام نہیں لیا تھا مگر مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح اہلِ صحافت کیلئے ایک ڈھال بن کر آئی تھیں جس کے نتیجے میں صحافتی مورچوں سے کہیں زیادہ جرا¿ت و بے باکی اور دلیری کے ساتھ آمرانہ حکومتی ہتھکنڈوں کے خلاف لفظوں کی سنگزنی کرنے لگے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ مادرِملت محترمہ فاطمہ جناح نے صدارتی انتخاب میں متحدہ حزبِ اختلاف کا امیدوار بن کر نہ صرف عوام کے دلوں سے ایوبی آمریت کا خوف دور کر دیا بلکہ سہمے ہوئے لوگوں کو اذن کلام بھی دیا اور مختلف اخبارات میں مادر ملت کی تقریروں کو حکومت خود اپنے اور اپنے اقتدار کیلئے خطرہ محسوس کرنے لگی تھی۔ چنانچہ حکومت کی طرف سے ایوب خان کی ہدایت پر حزبِ اختلاف کے رہنماﺅں کی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ حزبِ اختلاف کی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سرگرم سیاسی کارکنوں سے حوالاتیں اور جیلیں بھرنے کا کام شروع کر دیا گیا۔ ایسے حکومتی اقدامات سے ملک میں کچھ اس قسم کا سماں پیدا ہو گیا جیسے ملک میں متشدد حکمرانوں اور مظلوم رعایا کے مابین باقاعدہ معرکہ آرائی شروع ہو چکی ہے اور حکومتی کارندے اخبارات کے دفاتر میں یہ بو سونگھتے پھر رہے تھے کہ حکومتی ظالمانہ ہتھکنڈوں کی خبر تو نہیں چھپ رہی؟
اس سلسلے میں انہیں بعض جگہ کامیابی بھی ہوئی اور ایسی خبریں شائع ہونے سے روکی گئیں مگر روزنامہ نوائے وقت کے چیف ایڈیٹر نے کسی حکومتی پیشکش اور ترغیب کو قبول نہ کیا۔ اس دور میں ایسی تمام خبریں نوائے وقت میں شامل اشاعت ہوکر عوام سے خراج تحسین حاصل کرنے کا موجب بنتی رہیں۔ نوائے وقت ثابت قدمی سے اس راہ پر گامزن رہا۔ ایوب خان نے ادارہ نوائے وقت کے خلاف اس کے ایڈیٹرانچیف اور ادارہ سے وابستہ کارکنوں کو رزق کی مار دینے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی اس کے اشتہارات قطعی طورپر بند کر دیئے گئے۔
مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح نے بذریعہ طیارہ 4 اکتوبر 1964ءکو لاہور پہنچنا تھا۔ صدارتی امیدوار بننے کے بعد آپ پہلی دفعہ کراچی سے لاہور تشریف لا رہی تھیں۔ نوائے وقت نے اس خبر کو اس طرح مرتب کرکے شائع کیا کہ لوگوں کو بانی¿ پاکستان کی ہمشیرہ محترمہ کے استقبال کیلئے جوق در جوق ایئرپورٹ جانے کی ترغیب ملی۔ 4 اکتوبر کے نوائے وقت میں یہ خبر اس طرح تھی۔ ”آج زندہ دلانِ لاہور خاتونِ پاکستان کا پُرجوش استقبال کریں گے۔“ پھر ان کے ایئرپورٹ پر تاریخی فقیدالمثال استقبال کی خبر نوائے وقت نے تفصیل سے شائع کی اور اسی روز یعنی مادر ملت کی لاہور آمد کے دن ایڈیٹر نوائے وقت کا اداریہ ”ضمیر کا معاملہ“ کے عنوان سے تھا۔ اس اداریہ میں ایوب خان کے بارے میں تیز و تند الفاظ میں تلخ حقائق بیان کرتے ہوئے نتائج سے بے پروا ہوکر کہا گیا تھا۔   
”یہ ضمیر کا معاملہ ہے‘ صدر ایوب کو دیکھنا چاہئے کہ اس ملک میں ٭ خودمختار پارلیمنٹ ٭ آزاد پریس ٭ آزاد عدلیہ کی ضرورت ہے؟ اگر ہے تو پھر پارلیمنٹ خودمختار اور پریس اور عدلیہ آزاد ہیں؟
ملک کے بعض بڑے بڑے اردو اور انگریزی میں شائع ہونے والے اخبارات نیشنل پریس ٹرسٹ کی تحویل میں تھے جو براہ راست حکومت کے کنٹرول میں ہوتے تھے۔ شروع شروع میں انہوں نے ایوب خان کے بیانات اور تقریروں کو مادرِملت محترمہ فاطمہ جناح کی تقریروں سے کہیں زیادہ جلی سرخیوں کے ساتھ نمایاں طورپر شائع کرنا شروع کیا تھا مگر نوائے وقت بڑی جرا¿ت کے ساتھ مادرِملت کی ایسی خبریں نمایاں طورپر شائع کرتا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ نہ صرف نیشنل پریس ٹرسٹ کے اخبارات کی فروخت نہ ہونے کے برابر ہونا شروع ہو گئی بلکہ مختلف شہروں میں ان اخبارات کو عوام نے نذرآتش کیا۔ اس صورتحال سے بچنے کیلئے نیشنل پریس ٹرسٹ کے اخبارات کو بھی ایوب خان کے ساتھ مادرِملت کی خبروں کو نمایاں طورپر شائع کرنا پڑا مگر نیشنل پریس ٹرسٹ کے رویوں میں تبدیلی میں بھی نوائے وقت کے اس بنیادی کردار کا سو فیصد تعلق تھا جو مدیر نوائے وقت نے مادرِملت محترمہ فاطمہ جناح کی دل و جان سے حمایت کے فیصلے کے تحت متعین کیا تھا۔ مادرِملت حزب اختلاف کی صدارتی امیدوار نہ ہوتیں اور نوائے وقت ہرچہ بادا باد کے مصداق ایوب خان کی آمریت کے خلاف سینہ سپر نہ ہوتا تو اس وقت ایوبی آمریت کی جڑیں اکھیڑنا آسان نہ رہتا۔ اس دور میں تو عوامی اُمنگوں اور جمہوریت کے دشمن ایوب خان کے تنخواہ دار دین سے ناواقف دینی عناصر نے مادرِملت کا صدارتی انتخاب میں حصہ لینا ناجائز کہنا شروع کر دیا تھا مگر روزنامہ نوائے وقت نے 12 اکتوبر کی اشاعت میں صفحہ اول پر ایک ڈبل کالم چوکھٹا میں ایک خبر شائع کی جس نے دین سے نابلد لوگوں کے منہ بند کر دیئے۔ اس خبر کو اہتمام کے ساتھ شائع کرنے کی ہدایت بھی ایڈیٹر نوائے وقت کی طرف سے بطورِخاص عملہ ادارت کو دی گئی تھی۔ یہ بیان تھا امیر جماعت اسلامی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کا جس میں انہوں نے واشگاف الفاظ میں ثابت کیا تھا کہ ”عورت سربراہ مملکت ہو سکتی ہے۔“
مادرِ ملت تو ایوب خان سے صدارتی امیدوار بن کر حالت جنگ میں تھیں مگر نوائے وقت نے ملک کو آمریت سے نجات دلانے کیلئے مادرِملت کے ہراول دستے میں شائع ہونے کا فیصلہ خود کیا تھا۔ یہ بات علی الوجہ البصیرت کہی جا سکتی ہے۔ اگر روزنامہ نوائے وقت کی ادرات کے فرائض ڈاکٹر مجیدنظامی انجام نہ دے رہے ہوتے تو یہ محترمہ فاطمہ جناح کی انتخابی مہم کا معرکہ ایوب خان کے ایوان اقتدار کو لرزہ براندام کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا تھا۔ اگرچہ ایوب خان نے دھونس‘ دھن‘ دولت سے کامیابی حاصل کر لی تھی مگر مادرِملت کی انتخابی مہم میں سرگرمی سے حصہ لیتے ہوئے نوائے وقت نے ایوب حکومت کی چولیں ہلا دی تھیں۔
بالآخر وہ دن بھی آن پہنچا جس دن کیلئے جمہوریت کا پرچم مادرِملت کی قیادت میں سربلند رکھنے کی خاطر نوائے وقت نے دن رات ایک کر رکھا تھا۔
اگرچہ ایوب خان جیت گئے مگر نوائے وقت نے اس جیت کو ایک شہ سرخی میں مٹی میں ملا دیا۔
”چیف الیکشن کمشنر نے صدر ایوب کی کامیابی کا اعلان کر دیا۔“
مادر ملت 8 اور 9 جولائی 1967ءکی درمیانی رات دنیائے فانی سے عالم جاودانی کو سدھار گئیں۔ نوائے وقت نے سیاہ حاشیہ کے ساتھ انتقال کی خبر کو شہ سرخی بنایا،اورنامور شاعر حبیب جالب کا یہ قطع بھی شائع کیا۔   
اب رہیں چین سے بے درد زمانے والے
سو گئے خواب سے لوگوں کو جگانے والے
دیکھنے کو تو کروڑوں ہیں مگر کتنے ہیں
ظلم کے آگے کبھی سر نہ جھکانے والے
مر کے بھی مرتے ہیں کب مادر ملت کی طرح
شمع تاریک فضاﺅں میں جلانے والے