موبائل فون سے متاثرین آپریشن کی امداد شروع، اکثر استعمال سے ناواقف

پشاور (نوائے وقت رپورٹ+ اے این این) شمالی وزیرستان کے آئی ڈی پیز کو موبائل سِم کے ذریعے امدادی رقوم کی تقسیم کا عمل شروع ہو گیا۔ اس حوالے سے گورنر ہائوس پشاور میں تقریب ہوئی۔ گورنر خیبر پی کے سردار مہتاب خان نے وزیراعظم الیکٹرانک منی ٹرانسفر سکیم کا افتتاح کیا۔ اے این این کے مطابق شمالی وزیرستان کے متاثرین قطاروں کے کلچر سے عاجز آگئے، امداد کے تمام انتظامات ایک ہی جگہ پر کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرکے پشاور آنے والے متاثرین کی مشکلات میں کمی تو دور کی بات اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔گھروں سے دربدر ہونے والے متاثرین کو روزے کی حالت میں کڑی دھوپ میں ہرکام کیلئے الگ الگ قطار میں لگنا پڑتا ہے۔ پہلے رجسٹریشن ٗ پھرراشن اور مالی امداد والی موبائل سمز کارڈ کے حصول کیلئے قطارمیں لگنا پڑتاہے ۔پریشانی صرف قطار میں لگنا ہی نہیں بلکہ مالی امداد کی فراہمی کے طریقے سے بھی لوگ پریشان ہیں۔ شمالی وزیرستان کے اکثر رہائشی موبائل فون کے استعمال سے ناواقف ہیں۔ ان متاثرین کو امدادی رقم موبائل فون سم کے ذریعے ہی دی جارہی ہے۔موبائل فون سمز کے استعمال اور اس کو ایکٹیویٹ کرنے کے طریقے سے متاثرین واقفیت نہیں رکھتے۔ متاثرین میں شامل افراد کاکہنا ہے پہلے سے ہی منصوبہ بندی کرلی جاتی تو یہ سارا کام ایک ہی جگہ پر ہوسکتا تھا۔ پشاور میں شمالی وزیرستان کے آئی ڈی پیز کی رجسٹریشن کے دسویں دن دتہ خیل اور گویا کے متاثرین کی رجسٹریشن ہوئی ۔ گزشتہ روز پیش آنے والے بدنظمی کے واقعات کے باعث آئی ڈی پیز کے رجسٹریشن سینٹر میں میڈیا کے نمائندوں کاداخلہ بند کردیاگیاہے۔