شہرِ قائد میں قصرِفاطمہ کا نام مٹ جانے کا المیہ

غزالہ فصیح
زندہ قومیں اپنے رہنماﺅں کے کردار اور گفتار کو اپنے لئے مشعل ِ راہ بناتی ہیں اور ان سے وابستہ یادگار اشیاءکو قیمتی ورثے کی طرح سنبھال کر رکھتی ہیں مگر ہمیں نہایت د±کھ سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستانی قوم اس معاملے میں مجرمانہ غفلت کی مرتکب ہوئی ہے ۔بانیان ِ پاکستان کی سوائے چند ایک یادگاروں کے دیگر کی حفاظت اور ا±نکی شناخت برقرار رکھنے کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جارہی ۔ستم تو یہ ہے کہ قوم کی ماں محترمہ فاطمہ جناح کی رہائش گاہ بھی ”چیرہ دستی “سے محفوظ نہیں رہی ۔فاطمہ جناح وہ عظیم شخصیت ہیں جنہوں نے اپنی زندگی قوم کے لئے وقف کردی ۔قیام پاکستان کیتحریک میں اپنے عظیم بھائی محمد علی جناح کی بے مثال رفاقت ہو ، جمہوریت کے استحکام کے لئے جدوجہد یا پاکستانی خواتین کی معاشرتی وتعلیمی بہبود ہو، محترمہ کی خدمات لاتعداد ہیں ۔ آج جب ہم مادرِ ملت کی برسی مناتے ہوئے انکی خدمات کو یاد کرتے ہیں تو بہتر ہوگا کہ محترمہ سے منسوب ”قصرِ فاطمہ “ پر بھی ایک نظر ڈال لیںجو اب ”مہٹہ پیلس میوزیم “کہلاتا ہے اورسندھ کی ثقافت کا مرکز ہے ۔بظاہراس عمارت کی پر±انی شناخت بحال کی گئی ہے لیکن غور کریں تو شہرقائد سے مادرِِ ملت کی یادگار کو مٹا دیا گیا ہے۔
کلفٹن کے علاقے میں واقع یہ محل نما عمارت خوبصورتی میں اپنا ثانی نہیں رکھتی ،محترمہ فاطمہ جناح کی یہاں رہائش نے اسے تاریخی شان وشوکت عطاکی ۔ اس گھر کے در و دیوار میں محترمہ کا عکس ہے ان راہداریوں میں ان کے باوقار قدموں کی آہٹ ہے۔ دالان میں ان کی آواز کی گونج ہے اور روشن کمروں نے اس عظیم شخصیت کی تمکنت دیکھی ہے۔ اس محل کے چپے چپے پر فاطمہ جناح کے نقوش ثبت ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کے کئی سال یہاں گزارے ،ایوب خان کی آمریت کے خلاف اپنی جمہوری جدوجہد کا یہیں سے آغاز کیا اور یہیں آخری سانسیں لیں ۔
تاریخی حوالوں کے مطابق قیام ِ پاکستان سے پہلے کراچی کے ایک نام ورہندو مارواڑی تاجر رائے بہادر شیورام موہٹہ نے 1933 میں کلفٹن کے علاقے میں یہ محل نما عمارت تعمیر کرائی تھی۔ گذشتہ صدی میں تعمیر کی جانے والی یہ خوب صورت اور دل کش عمارت موہٹہ پیلس 18 ہزار اسکوائر فٹ پر مشتمل ہے۔ تقسیمِ ہند سے قبل اور بعد بھی کلفٹن کے علاقے میں اتنی وسیع و عریض عمارت نہیں ہے۔ یہ ممتاز عمارت دو منزلوں پر مشتمل ہے۔ دونوں منزلوں پر کل ملا کر 16 کمرے ہیں۔قیام پاکستان کے بعد ہندو تاجر بھارت چلا گیا اور تاریخی حوالوں کے مطابق مہٹہ نے عمارت کی چابیاں حکومتِ پاکستان کو تحفتہً دے دیں۔ تقسیمِ ہند کے بعد اس عمارت میں وزارتِ خارجہ کا دفتر قائم کیا گیا۔ڈپٹی چیف پروٹوکول آفیسر آغا ہلالی نے موہٹہ پیلس میں قائم دفتر کے حوالے سے اپنی یاد داشتوں میں لکھاہے "موہٹہ پیلس شہر سے خاصے فاصلے پر واقع تھا اور ملازمین کی وہاں تک رسائی ایک بڑا مسئلہ تھی، اس مسئلے کو ہم نے یوں حل کیا کہ ایمپریس مارکیٹ سے ملازمین کو موہٹہ پیلس لانے کے لیے بسوں کا بندوبست کیا گیا۔ اس وقت کلفٹن کے علاقے میں آبادی نہ ہونے کے برابر تھی۔ سمندرکا پانی تھا اور ریت ہی ریت، بعض اوقات تو کلفٹن کی سڑکوں پر 6 انچ کے قریب سمندری پانی کھڑا ہوجاتا تھا۔"موہٹہ پیلس کی تصویر وزارتِ خارجہ کی جانب سے سالِ نو کے موقع پر چھپنے والے کارڈ پر سرکاری طور پر شائع کی جاتی تھی۔ جب موہٹہ پیلس محترمہ فاطمہ جناح کے نام کیا گیا تو وزارتِ خارجہ نے عمارت خالی کردی۔ محترمہ فاطمہ جناح نے موہٹہ پیلس کا انتخاب قائدِاعظم کی بمبئی مالابار ہلز والی رہائش گاہ کے بدلے کیا تھا۔اس عمارت کو ”قصرِ فاطمہ “کا نام دیا گیا ۔محترمہ فاطمہ جناح کویہ عمارت اپنے محل وقوع اور طرز تعمیر کی بدولت بہت پسند تھی ۔جس وقت یہ عمارت تعمیر ہوئی تھی، ا±س وقت اس کے مکین نہ صرف گرمیوں میں سمندر کی ٹھنڈی ہواو¿ں کا لطف ا±ٹھاتے تھے بلکہ چھت پر بیٹھ کر سمندر کی سرکش لہروں کا نظارہ بھی کرتے تھے۔اس عمارت کے بالمقابل تحریک پاکستان کی معروف رہنما اورمحترمہ فاطمہ جناح کی دوست بیگم شائشتہ اکرام اللہ کا بنگلہ واقع ہے ۔بیگم اکرام اللہ مرحومہ نے روزنامہ ڈان کو دیے گئے انٹرویو میں موہٹہ پیلس کے حوالے سے اپنی یادداشتوں میں کہاتھا ؛"ایک دن شام کو محترمہ فاطمہ جناح مجھے اپنے ساتھ موہٹہ پیلس کی چھت پر لے گئیں، وہاں سے سمندر کا نظارہ بہت خوب صورت تھا۔ محترمہ جب پہلی بار رہائش کے لیے پیلس پہنچیں تو میں نے ان سے پوچھا کہ کیا یہ ایک بہت بڑی جگہ نہیں ہے۔ محترمہ نے جواباً کہا، نہیں، مجھے یہ جگہ پسند ہے۔
موہٹہ پیلس کی ایک اور اہم بات یہ ہے کہ ایوب خان کے خلاف تحریک کا مرکز بھی موہٹہ پیلس ہی تھا۔ اس عمارت سے محترمہ فاطمہ جناح نے ایوب خان کے خلاف صدارتی انتخابی مہم کا آغاز بھی کیا تھا۔ موہٹہ پیلس میں ایوب خان کے خلاف حکمتِ عملی ترتیب دینے کے لیے اجلاس بھی منعقد ہوتے تھے۔محترم ایڈیٹر نوائے وقت اور مادرِ ملت کےلئے یہ خطاب تجویز کرنے والے جناب مجید نظامی صاحب نے بھی محترمہ سے قصرِ فاطمہ میں ملاقات کی تھی ۔ آپ نے محترمہ کی ایوب کےخلاف انتخابی مقابلہ میں بہت کھل کر محترمہ کا ساتھ دیا تھا محترمہ نے قصر فاطمہ میں آپ کو ناشتے پر بھی بلایا تھا۔ محترمہ فاطمہ جناح قائداعظم کی برسی موہٹہ پیلس میں مناتی تھیں۔ اس موقع پر پیلس کے باغیچے میں شامیانے لگا کر انتظامات کیے جاتے تھے اور ایک مخصوص بوہری سے بریانی کی دیگیں منگوائی جاتی تھیں۔بتایا جاتا ہے جب تک محترمہ فاطمہ جناح حیات تھیں، ایوب خان کی انتظامیہ کی جانب سے موہٹہ پیلس کی کڑی نگرانی کی جاتی تھی۔محترمہ فاطمہ جناح کی وفات بھی اسی عمارت میں ہوئی، وہ 9جولائی1967کی صبح اپنے کمرے میں پراسرار طور پر مردہ پائی گئیں۔
محترمہ کی وفات کے بعد ان کے ورثاءمیں موہٹہ پیلس کی ملکیت کا تنازع اٹھ کھڑا ہوا۔میر علی جی والجی کی جانب سے دائر درخواست میں کہاگیا کہ ان کے والد حسین جی والجی قائد اعظم محمد علی جناح اور محترمہ فاطمہ جناح کے چچاوالجی پونجا کے پوتے ہیں امیرجی والجی نے دعوی ٰ کیا کہ محترمہ فاطمہ جناح کی چھوڑی ہوئی نصف منقولہ و غیر منقولہ جائیدادکے حقیقی وارث ہیں۔سندھ ہائی کورٹ کے سنگل بینچ نے 23 دسمبر 1976 کوحسین جی والجی کی درخواست مسترد کردیا۔ہائی کورٹ نے موہٹہ پیلس ان کی بہن شیریں جناح کے حوالے کیا ۔ محترمہ شیریں جناح اپنے اکلوتے صاحبزادے کے ہمراہ یہاں مقیم رہیں۔ 79ءمیں ان کے صاحبزادے اور 80ءمیں خود محترمہ شیریں جناح نے یہیں انتقال فرمایا۔ شیریں جناح نے اپنی زندگی میں شیریں جناح چیریٹیبل ٹرسٹ قائم کیا اور مہتہ پیلس سمیت منقولہ و غیرمنقولہ جائیداد ٹرسٹ کے سپردکردی۔انھوں نے ہدایت کی کہ مہتہ پیلس میں ”شیریں جناح گرلزمیڈیکل کالج“اور اسپتال قائم کیا جائے جہاں خالص میرٹ پر مستحق طالبات کو داخلہ دیا جائے،ٹرسٹیز میں مردان شاہ مردان پیر صاحب پگارا،عبادت یار خان ،اے کے بروہی اور دیگر شامل تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں یہ عمارت خیراتی کاموں کے لیے وقف کردی تھی۔شیریں جناح کے انتقال کے بعد ایک بار پھر ان کے ورثاء میں عمارت کے حصول کے لیے مقدمے بازی شروع ہوگئی تھی، جس کے بعد عدالت نے عمارت کو سیل کرنے کے احکامات جاری کردیے تھے، اور پھر عمارت سیل کردی گئی تھی1995 میں حکومت سندھ کی درخواست پر محترمہ بے نظیر بھٹو نے حکومتِ سندھ کے محکمہ ثقافت کو یہ پیلس خریدنے اور اسے بحال کرکے میوزیم میں تبدیل کرنے کے لیے 70 لاکھ روپے دیے۔ محکمحکمہ ثقافت نے 61 لاکھ روپے عمارت خریدنے کے لیے ادا کیے جب کہ باقی رقم عمارت کی تزئین و آرائش پر صرف کی۔ پیلس دیکھ بھال کے لیے ایک خودمختار بورڈ آف ٹرسٹینر بھی بنایا گیا۔ عمارت کی بحالی کے دوران اسے اس کے اصلی رنگ میں ڈھالنے کی بھرپور کوشش کی گئیاور اسے سندھ کا ثقافتی میوزیم بنا دیا گیا۔یہ گھر جو قائداعظم کی بہنوں کی یادوں سے بسا ہوا ہے۔ آج مہٹہ پیلس کہلاتا ہے۔ قصر فاطمہ کی تختی یہاں سے کھرچ کر اتاردی گئی ہے۔موہٹہ پیلس کا سرکاری نام اب بھی "قصر فاطمہ" ہے لیکن عمارت کی آفیشل ویب سائٹ بھی موہٹہ پیلس میوزیم کے نام سے موجود ہے اس میوزیم کا ایک بھی گوشہ فاطمہ جناح سے موسوم نہیں ۔یہ عمارت اب ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز ہے ۔
قصر، فاطمہ کی شناخت مٹا دینے کے اس عمل کے بارے میں ہم نے چند سال پہلے قائداعظم کے سوانح نگار ،معروف اسکالر رضوان احمد (مرحوم )سے گفتگو کی تھی ۔ا±نھوں نے نہایت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ مہٹہ پیلس کی شناخت بحال کرنے کے لئے فاطمہ جناح کے نام کی تختی بے دردی سے کھرچ کر اتار دی گئی تختی کو توڑا جاتا تو عمارت کا ستون ٹوٹنے کا خطرہ تھا فاطمہ جناح کے نام کی تختی ک±ھرچ کر تاریخی عمارت بچالی گئی۔ رضوان صاحب نے کہا یہ میں نے اپنی کتاب میں بھی لکھاہے کہ قصر فاطمہ سے محترمہ کی نادر اشیا‘ اہم فائلیں غائب کر دی گئیں ۔ وہ اس کے عینی شاہد ہیں۔ رضوان صاحب کے مطابق محترمہ فاطمہ جناح کے ایوب خان کے خلاف الیکشن لڑنے کے حوالے سے پنجاب گورنمنٹ نے ایوب خان کی بدعنوانیوں کے خلاف ایک فائل محترمہ کو بھجوائی تھی رضوان احمد محترمہ شیریں کے ایڈوائزر بھی رہے ہیں وہ بتاتے ہیں کہ محترمہ کے انتقال کے بعد جب شیریں جناح قصر فاطمہ میں مقیم تھیں تو سرکاری اہلکار یہاں سے 9الماریاں نکال کر لے گئے۔ محترمہ شیریں جناح اپنی سادگی کی بنا پر اس معاملے پر کوئی احتجاج نہ کر سکیں۔ ان الماریوں میں اہم خطوط ‘ فائلیں اور ضروری ریکارڈ موجود تھے ۔ ایوب خان کے خلاف الیکشن مہم میں محترمہ کا بھرپور ساتھ دینے والے رضوان احمد نے قصرفاطمہ کو مہٹہ پیلس بنادینے پر سخت احتجاج اور دکھ کا اظہار کیاتھا۔ ان کا کہنا تھاکہ قائداعظم نے بھارت میں مالا بار ہلز کا اپنا پیلس محترمہ فاطمہ جناح کو گفٹ کردیا تھا۔ پاکستان بننے کے بعد مہٹہ پیلس قائد کی مالا بار کی رہائش گاہ کے بدلے میں لیا گیا تاہم محترمہ اپنی الیکشن مہم کی وجہ سے زیادہ تر فلیگ اسٹاف ہاﺅس میں مقیم رہیں۔ بعد میں انہوں نے جب وہاں شفٹ ہونے کا فیصلہ کیا تو خود کہہ کر یہاں قصر فاطمہ لکھوایااور تختی لگوائی ۔
قائداعظم کے رشتے کے نواسے اسلم جناح سے ہم نے اس بارے میں بات کی تو ا±نھوںنے کہا کہ مادر ملت کے انتقال کے بعد وہ محترمہ شیریں کے پاس قصرِ فاطمہ جاتے رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شیریں جناح نے انہیں کئی مرتبہ پیشکش کی کہ وہ یہاں رہائش اختیار کرلیں کیوں کہ اتنے بڑے محل میں وہ اپنے اکلوتے صاحبزادے کے ساتھ مقیم تھیں۔ تاہم اسلم جناح اپنی جائے ملازمت دور ہونے کی وجہ سے وہاں رہائش اختیار نہ کر سکے مگر ان کی نانی جینا بائی جو قائداعظم کی شیریں جناح کے تایازاد بھائی جان محمد نتھو پونجا کی اہلیہ تھیں شیریں جناح کے پاس قصر فاطمہ میں طویل عرصے تک مقیم رہیں۔ اسلم جناح کہتے ہیں کہ آج ہم قصر فاطمہ کا نام مِٹا دیکھتے ہیں تو دل کو سخت تکلیف ہوتی ہے۔
 سینئر صحافی صفیہ ملک جنہوں نے محترمہ فاطمہ جناح پر کتاب لکھی ہے وہ کہتی ہیں ” سرکار نے قیام پاکستان سے پہلے کی ایک تاریخی عمارت کی ہندو شناخت بحال کردی مہٹہ پیلس اب ایک ثقافتی میوزیم ہے۔ جہاں سندھ کی ثقافت کے نمونے زیر نمائش ہیں۔ سمجھ نہیں آتی کہ یہ کس قانون کے تحت کیاگیا ہے۔ کیوں کہ قصر فاطمہ قانونی طور پر فاطمہ جناح کی ملکیت ہے جسے قائداعظم کے بھارت کے مالا بار پیلس کے بدلے دیاگیا یہ جگہ جو مادر ملت کا مسکن رہی اسے ثقافتی مرکز بنا کر یہاں ناچ گانے کے پروگرا م منعقد کرنے کے لئے عمارت کی شناخت تبدیل کردی گئی“۔
 سوچنے کی بات یہ ہے کہ پاکستان کے بانیوں کے نام مٹا کر کیا ہم اپنی شناخت برقرا ررکھ سکتے ہیں؟