شمع جمہوریت مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح

 عزیز ظفر آزاد
ملت پاکستانیہ کی خواتین کے لئے محترمہ فاطمہ جناح کی حیات مشعل راہ ہونے کے ساتھ ہماری قومی زندگی میں ایک عظیم اثاثہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔آپ نے اپنی ساری خوشیاں تمنائیں زندگی کا پل پل عظیم بھائی کے لافانی مشن کےلئے وقف کر دیا ۔ زندگی بھر محمد علی جناح اور اس کی قوم کا مستقبل سنوارنے کےلئے تگ و دو میں شانہ بشانہ مصروف سفر نظر آئیں ۔ محترمہ فاطمہ جناح کی زندگی کو دو حصوں میں تقسیم کریں ۔ پاکستان بننے سے قبل اور پاکستان بننے کے بعد او ر دونوں ادوار میں آپ حضرت قائد کے قریب ترین مشیر ، رفیق کار ، معاون و مددگار پائی جاتی ہیں ۔فاطمہ جناح بہن بھائیوں میں چھوٹی تھیں مگر بھائی محمد علی ہمیشہ سے ان کی آئیڈیل شخصیت رہے ۔محترمہ اپنے بھائی ہی کی طرح اعلیٰ تعلیم کی متمنی تھیں جو انہوں نے حاصل کی ۔محمد علی جناح کی بیوی کی وفات کے بعد عظیم بہن نے اپنی تمام ترخواہشات، مصروفیات اورترجیحات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بھائی کا گھر سنبھال لیا ۔ لندن بھی ساتھ رہیں ۔حضرت قائد کے ہمراہ ہندوستان تشریف لے آئیں جہاں مسلم لیگ کی تنظیم نو میں بھی آپ نے ایک معاون کی صورت میں اپنی خدمات جاری رکھیں ۔1937ءمیں محترمہ فاطمہ جناح پہلی مرتبہ آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں شامل ہو کر خواتین میں مسلم قومیت کے حوالے سے بیداری کا بیڑہ اٹھایا ۔1938ءمیں خواتین کی پٹنہ میں ایک کمیٹی تشکیل دی آپ نے اس میں شریک ہو کر مسلم خواتین کو متحرک و منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ مسلم لیگ کے احیاءکے لئے حضرت قائداعظم ہندوستان کے کونہ کونہ میں مسلم زعما کے ساتھ گئے تو فاطمہ جناح آپ کے ہمراہ نظر آئیں ۔آپ نے قیام پاکستان سے قبل ہندوستان کے مختلف شہروں میں تعلیمی ادارے قائم کئے ۔بچیوں کےلئے کڑھائی سلائی سکول کے علاوہ انڈسٹریل ہوم کھولا ۔ مسلم لیگ کی میٹنگوں اور جلسوں میں خواتین کی تعلیم آپ کا اہم ترین موضوع ہوتا ۔آپ نے سماجی تبدیلیوں اور خدمت خلق کےلئے نہ صرف اپنے آپ کو وقف کر رکھا تھا بلکہ دیگر صاحب حیثیت مسلم خواتین کو بھی سماجی کاموں کی جانب مائل کرتی تھیں ۔ تحریک پاکستان کی جدو جہد میں آپ نے خواتین کی ایک ایسی فوج تیار کرلی جس نے آگے بڑھ کر تحریک میں مثبت کردار ادا کیا ۔ وہ لاہور سیکرٹرایٹ پر برطانوی جھنڈے کی جگہ سبز ہلالی پرچم لہرانے کا کارنامہ ہو یا صوبہ سرحد کے ریفرنڈم میں پشتون خواتین کی بے مثال داستانیں ہوں و ہ محترمہ فاطمہ جناح نے برصغیر کے ہر گوشہ ہر کونہ میں خواتین کو تحریکی جذبوں سے سرشار کر دیا تھا ۔
حصول آزادی کے موقع پر آپ اپنے فاتح بھائی کے ہمراہ 7اگست 1947ءکو کراچی پہنچیں ۔پاک سرزمین پر قدم رنجاں ہونے کے بعد بھی کوئی دن ایسا نہ تھا جو چین اور سکون سے گزرا ہو ۔ پنجاب اور بنگال میں مہاجرین کی آمد کے انتظامات کا مسئلہ پھر پاکستان میں ایک کروڑ کے قریب مہاجرین کی رہائش ، خوراک ، صحت عامہ اور آباد کاری جیسے بڑے مسائل مملکت کے نئے سرے سے صورت گری انتظامی امور ہوں یا ریاستی اداروں کی تخم ریزی بقول شاعر
آگ کا دریا تھا اور تیر کر جانا تھا
فولادی ارادوں والا سالار محمد علی جناح کے عظیم مقاصد کے حصول میں ہر دم ہر قدم سایہ کی طرح ساتھ ساتھ محترمہ فاطمہ جناح نظر آئیں ۔لاہور وارڈن کیمپ مہاجرین کی آمد کا سب سے بڑا مقام تھا ۔ڈاکٹر عنایت اللہ مرحوم نے راقم کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ جب بابائے قوم اپنی بہن کے ہمراہ کیمپ آئے تو وہاں قائم ہسپتال میں بھی تشریف لائے جہاں ہیضہ کی وبا سے مریض جان کی بازی ہا ر رہے تھے ۔ ڈاکٹر عنایت اللہ مرحوم بتاتے ہیں کہ دونوں عظیم اور مہربان بہن بھائی آبدیدہ ہوگئے ۔حضرت قائداعظم کی بیماری کے دوران مستقل ساتھ رہیں ۔11ستمبر 1948ءکو عظیم تر بھائی کی رحلت کا غم لیکر گوشہ نشینی اختیار کرلی البتہ سماجی معاملات اور تعلیمی امور میں ضرور رہنمائی فرماتیں۔30جون 1949ءکو مدرسہ بنات الاسلام کا قائم کیا کیا اور15جنوری 1950کو حیدر آباد لیڈیز کلب کا افتتاح کیا اسی طرح 12مئی 1950ءکو مادر ملت نے نیو ٹاﺅن کراچی سکول کی تقریب میں خواتین کی تعلیم کے حوالے سے اہم خطاب کیا ۔ محترمہ فاطمہ جناح میڈیکل کالج لاہور آپ کی علم دوستی کا ثبوت ہے ۔ اس کی بنیاد محترمہ کی خواہش پر رکھی گئی ۔خاتون پاکستان سکول محترمہ فاطمہ جناح نے ہی کھولا اور ا سکی بنیاد قائداعظم کے یوم ولادت کو 25دسمبر 1955ءمیں رکھی ۔محترمہ نے اسکے لئے ایک لاکھ روپے کا عطیہ دیا۔آپ سماجی امور میں دکھائی دیتی تھیں مگر ریاستی معاملات میں دخل اندیزی سے گریز کیا مگر مختلف ادوار میں حکومت کی رہنمائی کےلئے حکمرانوں کے اقدامات پر ہلکی پھلکی نکتہ چینی ضرورکرتی رہیں ۔ اخبارات اور ریڈیو کے ذریعے حصول وطن کی بنیادی اساس اورنظریہ پاکستان پر گامزن ہونے کی تلقین فرماتیں ۔ حکومتی غلطیوں کی نشاندہی بڑے مدبرانہ انداز میں فرماتیں مگر ایک وقت ایسا آیا کہ ووٹ کی قوت سے حاصل کئے گئے ملک میں بلٹ کے زور پر قبضہ ہوگیا ۔کوئی مائی کا لعل آمریت کا سامنا کرنے کی جرات نہ کر سکا ایسے میں ضعیف العمر قوم کی ماں نے میدان میں آکر آمر کو للکارنے کی ریت ڈالی ۔ آپ مغرور سرکش آمر کے سامنے جرات و استقامت کے پہاڑ کی طرح کھڑی ہوگئیں ۔ملت پاکستانیہ مشرق و مغرب سے لبیک کہتی ہوئیں میدان انتخاب میں نکل آئی ۔ایوب خان دھاندلی سے جیت کر تاریخ میں ہار گیا مگر مادر ملت جھرلو کے ذریعے ہا ر کر ایک روشن و تاباں تاریخ رقم کر گئیں ۔ پاکستانیوں کے دلوں میں محبت کی شمع منور کر گئیں ۔آج بھی استقلال اور بلند کردار کے احترام کے ساتھ جمہوری لوگ آپ کو شمع جمہوریت کے لقب سے یاد کر تے ہیں جو 9جولائی 1969کو تو گل ہوگئی مگر تاریخی دریچوں سے اس کی روشنی ہمیں مستقبل کی شاہراہ کی نشاندہی کرتی رہے گی ۔بابائے جمہوریت نوابزادہ نصراللہ خان مرحوم مادر ملت کو یاد کرتے ہوئے فرماتے ہیں " میں جب بھی وہ دن تصور میں لاتا ہوں جب ستمبر 1964ءمیں مادر ملت نے ہماری درخواست کو شرف قبولیت بخشا تھا اور صدارتی انتخاب میں حزب مخالف کی جانب سے حصہ لینے کا فیصلہ کیا تو میرا سر اس بزرگ نیک اور عظیم خاتون کے حضور جھک جاتا ہے ۔میں سلام کرتا ہوں اس جرات و ہمت کو اس ولولہ اور عزم کو جو مادرملت کے نحیف و نزا ر پیکر میں ایک شعلہ جوالہ بن کر دوڑ رہا تھا ۔