---غزل---

شب فرقت کا بار کم ہو جائے
آنکھ تیری ذرا جو نم ہو جائے
تجھ سے ہٹ کر جدھر بھی دیکھتی ہوں
ہر نظارہ نظر پہ کم ہو جائے
یہ بھی ممکن ہے خون حسرت سے
داستانِ وفا رقم ہو جائے
ظلم کے سامنے جھکوں گی نہیں
سر اگرچہ مرا قلم ہو جائے
راہِ الفت مہک بھی سکتی ہے
وہ اگر میرا ہم قدم ہو جائے
اے نصیب بھلا عجب کیا ہے
زندگی مجھ کو محترم ہو جائے
(عارفہ صبح خان)