گرم انڈے

بارہ روپے کا ہے ایک انڈا
مارو اس کے سر پہ ڈنڈا
آدھی رات کو شور مچائے
ساری دُنیا کو وہ جگائے
گرم گرم ہیں لے لو انڈے
مزہ نہیں گر ہو گئے ٹھنڈے
سردی کی راتوں کا کھاتا
سب کے من کو ہے یہ بھاتا
جلدی کرو نکالو پیسے
مہنگے تو یہ نہیں ہیں ویسے
بارہ روپے کا صرف ہے انڈا
مارو مت تم مجھ کو ڈنڈا
اُبلے انڈے کھاتے جاو¿
گیت خوشی کے گاتے جاو¿
لے جاو¿ اور مل کر کھاو¿
فوراً بستر میں گُھس جاو¿
فاروق اے حارث