غزل

رہیں ویراں نہ صبح و شام میرے
کرو اپنی بہاریں نام میرے
بکھرتا جا رہا ہوں راستوں میں
بہت پھیلے ہوئے ہیں کام میرے
زمانہ جانچ لے میری حقیقت
لگائے دیکھ کر وہ دام میرے
کبھی مل آ کے پھر جان تمنا
تمہارے منتظر ہیں بام میرے
ابھی آیا نہیں دور سخاوت
ابھی خالی پڑے ہیں جام میرے
وہاں پرچم ملا نصرت کا مجھ کو
جہاں دشمن ہوئے ناکام میرے
محبت دوستی اخلاص ثاقب
مری پہچان ہیں یہ نام میرے
(احسان اللہ ثاقب)