خنک موسم میں خشک میوہ جات کی نعمت

مظہر حسین شیخ
روزبروزسردی کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے،کمبل یا رضائی سے باہر نکلنے کوجی نہیں چاہتا،اس موسم میں پیاس کم اور بھوک زیادہ لگتی ہے،جی تو یہی چاہتاالہٰ دین کا چراغ پاس ہواورہرکام بیٹھے بیٹھائے ہو جائے۔
ہرموسم کا اپنا مزاج ہوتا ہے اورہمارا رہن سہن،کھانا پینا سب کچھ موسمی حالات کے مطابق تبدیل ہوجاتا ہے۔گرمیوں میں آم،گرما،جامن اچھے لگتے ہیں اورسردیوں میں مالٹے،کنو وغیرہ،مگرایک بات ہے کہ سردی کے ٹھٹھرتے اوردھندآلودموسم میں رس والے پھل بھی ٹھنڈے محسوس ہوتے ہیں اور کھانے کو جی نہیں چاہتا۔ایسے میں یہی جی چاہتاہے کہ کچھ مزیدار اورگرم گرم کھانے کوہو۔ظاہر ہے اتنی سردی میں گرمیوں کے موسم کی طرح آئس کریم کے مزے تو نہیں لئے جا سکتے۔ہاں البتہ خشک میوے کھانے کوجی چاہتا ہے مثلاًمونگ پھلی،چلغوزے خستہ ہوں، کھٹی میٹھی خشک خوبانی،انجیر،بادام، کشمش اخروٹ اور پستہ،کیاخستہ اور مزیدار نعمتیں ہیں۔مونگ پھلی تو خیر اتنی مہنگی نہیں،مگر باقی خشک میوے خاصے مہنگے ہیں پھر بھی تھوڑے بہت تومل ہی جاتے ہیں۔ریوڑیاں بھی تو ہوتی ہیں میٹھی اورکڑکڑاتی ہوئی۔
دھندآلودموسم میں رضائی یا ہیٹر کے سامنے بیٹھ کر یہ سب چیزیں کھانے کا مزہ ہی کچھ اورہے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہر نعمت سے نوازا ہے کیسے ذائقے دارپھل اور خشک میوے کھانے کو ملتے ہیں لیکن ان چیزوں کازیادہ استعمال بھی صحت کےلئے اچھا نہیں۔مونگ پھلی زیادہ کھانے سے گلے اورسینے کے امراض پیدا ہونے کا اندیشہ ہے جبکہ دیگر خشک میوں کا ضرورت سے زیادہ استعمال بھی صحت کےلئے مناسب نہیں۔آپ جوچیز بھی کھائیں اعتدال سے کھائیں مزے کی خاطر زیادہ نہ کھائیں ورنہ یہ مزامہنگا بھی پڑسکتا ہے،مہگنے میوں کامزااپنی جگہ اورصحت کے اصول اپنی جگہ اللہ تعالیٰ نے بھی ہمیں ہمارے اعمال کے انعام میں دی جانے والی نعمتوں میں ایسے پھلوں اورمیوہ جات کاذکر فرمایا ہے کہ جن کا ذائقہ دنیا میں دستیاب پھلوں اورمیوﺅں سے کئی گنازیادہ اورمزیدارہوتاہے۔ہم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کاشکرادا کرتے ہیں اوراس کے بتائے ہوئے راستے پرچلنے کی کوشش کرتے ہیں؟ہمیں سوچناچاہئے کہ اصل زندگی تو وہ ہے جو ہمیشہ رہے گی اگر ہم نیک کام کریں اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی تعلیمات پرعمل کریں توپھر وہ پھل اور میوے بھی ہمارامقدرہونگے جن کا اللہ نے وعدہ فرمایا ہوا ہے۔
سردیاں آتے ہی خشک میوہ جات کی یاد آجاتی ہے۔گلیوں میں، کونوں پر،ریڑھیوں پرمونگ پھلی،کشمش،بادام اوردوسرے خشک میوہ جات سے لدی پھندی رھڑیاں نظرآنی شروع ہوجاتی ہیں اورجونہی بارش ہوتی ہے اورسردی بڑھ جاتی ہے ان ریڑھیوں پررش شروع ہوجاتاہے۔دکانیں جوکہ خشک میوﺅں سے بھری ہوتی ہیں گاہک آنے سے پُررونق ہو جاتی ہیں اورقیمتوں میں اضافہ شروع ہو جاتا ہے۔پاکستان میں سال میں چھ ماہ توگرمیاں رہتی ہیں فروری مارچ اوراکتوبر نومبر میٹھی بہار اور خزاں کے ہوتے ہیں اوردسمبرجنوری میں شدید سردی پڑتی ہے۔سردی آتے ہی خشک میوﺅں کا سیزن شروع ہوجاتاہے۔دھوپ سینکتے ہوئے گرم ہیٹرکے سامنے بیٹھے ہوئے یا گرم چولہے کے پاس اکیلے یا گروپ میں بیٹھ کرباتوںکےساتھ ساتھ مونگ پھلی اوردوسرے خشک میوہ جات کادور بھی چلتا ہے۔مونگ پھلی چھیلتے اورمنہ میں ڈالے چلے جاتے ہیں ہاتھ نہیں رُکتا ۔سردی اگر بغیر بارش کے ہوتو ماحولیاتی گرد وغبار کی و جہ سے نزلہ زکام زیادہ ہوتاہے اس لئے خشک سردی میں گرم میوہ جات سے لوگ کچھ پرہیزکرتے ہیں جونہی بارش ہوتی تومیوہ جات کی بہاربھی شروع ہو جاتی ہے ۔چلغوزے،مونگ پھلی، اخروٹ، پستہ، بادام خشک پھلوں میں شامل ہیں ان میں لحمیات اورپروٹین ہوتی ہیں اور یہ قوت بخش اجزام جسم میں قوت بھردیتے ہیں۔ان میں حرارہ جات خاصے ہوتے ہیں اوروہ بچے جوکہ پہلے ہی صحت مندی سے زیادہ وزن رکھتے ہیں ان کو یہ خشک میوہ جات کھاتے ہوئے خیال رکھنا چاہئے کہ اپنے جسم میں لحمیات کی زیادتی سے مزید نقصان نہ ہوکیونکہ جسم کوپروٹین کی مقدار کے مطابق گنجائش قبول ہوتی ہے۔ماہرین کے مطابق ایک بادام میں 10حرارے ہوتے ہیں اسی طرح مونگ پھلی میں ایک دانہ میں دس اورپستہ اورکشمش کے دانوں میں آٹھ سے دس حرارے ہوتے ہیں۔اگر ہم تین بادام کھا لیں تو ایک گلاس دودھ کی طرح قوت مل جاتی ہے تو یہ قوت ہے،ان کو ہم گرم تاثیر خوراک کہتے ہیں۔
سردی کے دنوں میں جب جسم کو زیادہ قوت اورگرم رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے تو یہ خشک میوہ جات ہمیںانرجی بہم پہنچا سکتے ہیں۔کچھ بچوں کو پروٹین والی خوراک سے الرجی بھی ہو سکتی ہے اگرچہ بہت زیادہ بچوںمیں گرم میوہ جات زیادہ مقدارمیں کھانے سے جلد کی خشکی اورکھجلی ہوسکتی ہے۔چنبل کے مریضوں میں مرض کی زیادتی ہو سکتی ہے اور ان حضرات اور بچوں کو جن کو دمہ یا سانس کی تکلیف ہے ان میں یہ وجہ بڑھ سکتی ہے۔کشمش میں وٹامن سی کے علاوہ دوسرے وٹامنز ہوتے ہیں۔مونگ پھلی چلغوزہ اخروٹ میں وٹامنز سے بھرپور ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتیں ضرور کھائیں مگر اعتدال کے ساتھ ۔