حسن غزل

فقیری سے کوئی نسبت نہ سلطانی سے رکھتے ہیں
ولے اک شوقِ وافر عرصہ¿ فانی سے رکھتے ہیں
جھڑی سے آنسو¶ں کی سبز ہوتی ہے زمینِ دل
اُمیدِ فصل ہم اس کشتِ بارانی سے رکھتے ہیں
ادب سے سر کیا جاتا ہے راہِ جذب و مستی کو
قدم اس راستے میں پائے پیشانی سے رکھتے ہیں
لباسِ وہم کو بھی چاک کر دیں قامتِ دل پر
بلا کا ذوق تیرے مست عریانی سے رکھتے ہیں
غزل سے کام کچھ بنتا نہیں کارِ محبت میں
قصیدے کی توقع دل کی خاقانی سے رکھتے ہیں
(سراج منیر مرحوم)