بے بصر شاعر رانا تاب عرفانی

رانا زاہد اقبال
انسان 35لاکھ سال سے کرہ ارض پر بر سرِ پےکار ہے۔ ابتداءمےں الفاظ اور زبان سے محروم شعوری طور پر احساس ، احترام، ایثار کی بنیاد پر ہاتھ میں ہاتھ ڈالے آگے بڑھتا رہا۔ اس عرصہ میں مختلف تہذیبیں، مذاہب اور عقائد وجود میں آئے اور تواہم کے اندھےروں میں گم ہو گئے لیکن انسان نے اپنی جہدو کاوش کو مقصدِ حیات بنا کر آنے والی نسلوں کے لئے بہت بڑا کام کیا کچھ صدیاں گذریں تو زبان اور الفاظ مل گئے۔ کتاب اور اخبارات نے حالات کو زنجیر کی صورت یکجا کر دیا اور پوری دنیا میں بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ ساتھ اخلاقی اقدار نمایاں ہوتی گئیں اور رشتوں کا توازن مضبوط ہوتا گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ترقی یافتہ ممالک میں بصارت اور بصیرت کا مقابلہ شروع ہو گیا اور بی بصر افراد نے ہر شعبہءزندگی میں اعلیٰ ترین مقام حاصل کیا اور اہلِ بصارت کے لئے دعوتِ عمل بن گئے۔ ان میں ادیب، شاعر، وکلائ، ججز، انجینئیر، ڈاکٹر، ادیب اور شاعر پیدا ہوئے۔  
ہمارے ملک میں ایک شخصیت رانا تاب عرفانی نے فنی، ادبی اور تعلیمی فروغ کے لئے جنگ شروع کی اور شاعری اور نثر میں آٹھ کتابیں تحریر کرتے ہوئے فلاحی میدان میں نابیناو¿ں کے کھیل، فن اور تعلیم کو با صلاحیت افراد کے حوالے سے معاشرے سے متعارف کروایا۔رانا تاب عرفانی نے بصارت سے محروم ہونے کے باوجود جو کچھ کیا یا جو کچھ کر رہے ہیں وہ ہم میں سے اکثر اہلِ بصارت نہیں کر سکتے۔ تاب عرفانی نے ماتھے کے نیچے چمکتی ہوئی آنکھیں کھو دیں شائد قدرت کو یہی منظور تھا لیکن بصارت کے چھن جانے کو انہوں نے اپنی گونا گوں صلاحیتوں کی ترقی اور فروغ سے پورا کر دیاہے۔ کیا کوئی سوچ سکتا ہے کہ ایک بے بصر شخص نے عام روایت کے مطابق اپنے ہاتھ میں کشکول پکڑنے کے بجائے دنیا کو دیوان دے دیا ہے، فلاحی تنظیموں کے لئے روحِ روان کی حیثیت بھی اختیار کر چکا ہے رانا تاب عرفانی کی شخصیت کا احاطہ کیا جائے تو وہ ایک بڑے انسان کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آئے ہیں۔
مادیت پرستی کے اس دور میں وہ مکان کو چھوڑ کر مقام کے حصول کے لئے ایک مدت سے برسرِ پےکار ہیں۔ علمی، ادبی اور فلاحی خدمات کے ہر شعبے میں وہ ایک تخلیقی اور متحرک قوت کے طور پر جانے پہچانے جاتے ہیں۔ ان کی خدمات کے پیشِ نظر بہت سی ملکی اور عالمی فلاحی تنظیموں نے اپنے کلیدی عہدے انہیں پیش کئے ہیں، جنہیں وہ بڑی ذمہ داری اور خوش اسلوبی سے نبھا رہے ہیں۔وطنِ عزیز میں بے بصر افراد کے لئے کھیلوں کے خیال کو انہوں نے عمل کے پیکر میں ڈھالا، معذورین کی ترجمانی کرنے والا ماہنامہ جریدہ بینائی نہ صرف جاری کیا بلکہ بطور چیف ایڈیٹر اور ناشر اسے اپنا خونِ جگر دے کر زندہ بھی رکھے ہوئے ہیں۔ پوری دنیا میں اپنی طرز کی واحد عالمی لائبریری بے بصر مصنفین قائم کی، وہ بھی اپنے اثاثے فروخت کر کے، شاعری آب بیتی سفرنامہ اور نثر پر مشتمل آٹھ کتابیں کرن کاجل، سیارہ شب، سحر تاب، مجھ کو سنگسار کرو، اپلوں کا دھواں، سمارت کی آنکھ سے،پاو¿ں کی خوشبو اور تیرہ شبی تخلیق کیں۔
رانا تاب عرفانی پیدائشی بے بصر نہیں تھے، چار سال کی عمر میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ موسم سے لطف اندوز ہونے کی خاطر بارش میں نہانے گئے جب نہاتے ہوئے تھک کر چور ہو گئے تو بھیگے ہوئے کپڑوں میں ہی سو گئے، والدہ نے ان کی نیند میں خلل پڑنے کے ڈر سے کپڑے تبدیل کرنے کی کوشش نہ کی، رات کے پچھلے پہر انہیں بخار نے آلیا اور صبح تک بخار کی شدت میں اضافہ ہوتا چلا گیا، ایک ہفتے کے بعد یہ بخار چیچک کے موزی مرض میں تبدیل ہو گیااور اسی طرح چھ ہفتے گزر گئے، ایک صبح وہ کسی ساتھی کی آواز سن کر دروازے کی جانب لپکے تو دےوار سے ٹکرا کر گر پڑے۔
یہ تھا حادثہ جسے ہمےشہ کے لئے رانا تاب عرفانی کے ساتھ رہنا تھا یعنی وہ اپنی بینائی کھو چکے تھے اور بے بصری کی زندگی بسر کرنا ان کا مقدر بن چکا تھا۔ شعور بیدار ہوا تو اجالے کے تصور سے آگاہی عبرتناک سزا بن گئی، محرومی اور مایوسی نے عضوِ معطل بنا دیا۔ ان کے رختِ سفر میں بے بسی، بےچارگی اور نفرت کے سوا کچھ نہ تھا۔ تاہم دل کی خلش اور جذبوں کی تپش میں دہکتے ہوئے آنسو¿ں کے چراغ کے دشتِ پرخار کو اپنی آبلہ پائی سے حنائی رنگ دیتے ہوئے مشکلات اور دشواریوں کی کڑی دھوپ میں آب و گیاہ صحراو¿ں میں گمنام منزلوں کی تلاش میں رینگتا رہا۔ والدین انہیں عالمِ دین دیکھنے کے متمنی تھے۔ دینی تعلیم کے حصول کے لئے عربی مدرسے میں داخل کروا دیا جہاں قران کریم اور دیگر کتب کے مطالعہ کا موقع ملا اسی دوران یوسف زلےخا کی پرسوز داستان پڑھ کر اس کے سوز و گداز نے تمناو¿ں اور آرزوو¿ں کو شعلہ بار کرتے ہوئے تخلیقی شعور سے شرار پیدا کر دئے چنانچہ مختلف قسم کے ناول اور ادبی جرائد سے وابستگی شدید ہوتی گئی۔ اس مطالعہ نے ادبی اصلاحات، استعارے اور تشبیہات سے آگاہی کے علاوہ حساس جذبات اور غورو فکر کی قندیلیں جگمگا اٹھیں۔ وہ بی بصری کے باوجود ناممکن کو ممکن بنا دینے کا فن جانتے ہیں اور یہ سب کچھ کوئی عام انسان نہیں بلکہ ایک بڑا انسان ہی کر سکتا ہے۔ تاب عرفانی نے اپنی صلاحیتوں اور قوتِ عمل کے تیشے سے راہِ طلب کی سنگلاخ چٹانوں کو پارہ پارہ کرتے ہوئے جس بلندی پر اپنے عزم کا پرچم لہرایا ہے، اسے دیکھ کر کم ہمتی، کم مائیگی اور بصارتی نا رسائی احساسِ ندامت میں ڈوب جاتی ہے۔ تاب عرفانی کی تخلیقات پڑھنے والوں کے اذہان کو ہےپنا ٹائز کر کے غیر محسوس طریقے پر اسے ایسی فکری بصیرت عطا کرتی ہے کہ وہ مصنف کی قلبی واردات کو اپنے دل کی دھڑکنوں میں محسوس کرنے لگتا ہے۔ تاب کی نظمیں احساسِ محرومی اور یاس میں ڈوبی ہوئی ہیں ان کی ناکام محبت اور بے وفائی کے چرکے لگنے کی مظہر ہیں۔ ان کے لئے دکھ اور احساسات کی شدت اور جذبات کی آنچ جگہ جگہ ان کی نظموں مین بکھری ہوئی ہے لیکن کہیں کہیں انہوں نے غمِ ذات کو غمِ زمانہ میں سمو دیا ہے۔ سفید چھڑی، نابینا بچہ اور ماں اسی قبیل کی نظمیں ہیں۔ انہوں نے ایک بے قرار ماں کی دل گداز اور کربناک سوچوں اور مامتا کے مقدس جذبات کی بہترین عکاسی کی ہے جسے اپنے نابینا بچے کو محض سائل کہلانے کے اندیشے نے گھائل کر رکھا ہے اس کو ناداری کے سانپوں کے حصار میں دیکھ کر وہ افسردہ ہیں۔ دوسری طرف وہ ان محرومیوں کی آنچ پر پگھل رہی ہے۔
تاب عرفانی کے رنگِ تغزل میں بھی جذبوں کی گھلاوٹ، الفاط میں نغمگی، سلیقے اور سجاو¿ کی کمی نہیں۔ بعض جگہ وہ الفاظ کے بہاو¿ میں بحر کی پابندیاں نظر انداز کر تے ہوئے گزر جاتے ہیں۔ انہوں نے کہیں مدہم مدہم لہجے میں اضطرابی کیفیات کا اظہار بڑے اچھے اور اچھوتے اسلوب میں کیا ہے۔ بعض اشعار میں تاثر ملتا ہے کہ وہ بصارت سے ہر گز محروم نہیں، محبت لطیف اور منزہ جذبات معاشرتی، تہذیبی حد بندیوں کو محسوس کرتے ہوئے یہ شعر محض تصور کی آنکھ سے دیکھ کر کہتے ہیں۔
حالِ دل سن کر بہت بے تاب ہو جانا مگر
کچھ نہ کہنا پھول سے لب کھولنا اچھا لگا
 تاب عرفانی فطرتاً ایک رجائیت پسند انسان ہیں انہوں نے بے بصری کو اپنی زندگی بھر کی کمزوری نہیں بنایا نہ اسے اپنے اوپر قابض ہونے دیا ہے۔ وہ بلند ہمتی سے زندگی کا سفر طے کر رہے ہیں۔ان کا یہ اپنا شعر ان کے عزم و عمل کی عکاسی کرتا ہے۔
میں وہ پتھر ہوں جسے تیشہءفرہاد کے ساتھ
گر سلیقے سے تراشو تو خدا بن جاو¿ں