مشرف غداری کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ، ایک ماہ میں تمام درخواستیں نمٹائے: سپریم کورٹ

 مشرف غداری کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ، ایک ماہ میں تمام درخواستیں نمٹائے: سپریم کورٹ

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت) سپریم کورٹ نے سابق صدر پرویزمشرف کیخلاف آئین کے آرٹیکل6 کے تحت سنگین غداری کے مقدمہ میں سابق صدرکے معاونت کاروں کیخلاف کارروائی سے متعلق خصوصی عدالت کے عبوری فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے جاری حکم امتناعی کالعدم قرار دینے کے لیے دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کوہدایت کی ہے کہ ایک ماہ میں آرٹیکل 6 سے متعلق تمام درخواستوں کو نمٹائے۔ جسٹس اعجاز احمد چودھری کی سربراہی میں جسٹس مشیر عالم پر مشتمل دو رکنی بینچ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف ایڈووکیٹ توفیق آصف کی دائر درخواست کی سماعت کی، درخواست گزار توفیق آصف استدعا کی تھی کہ خصوصی عدالت نے سابق صدرکے معاونت کاروں کیخلاف بھی تحقیقات کا حکم دیا ہے جس میں سابق وزیراعظم شوکت عزیز، سابق وزیر قانون حامد خان اور سابق چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے خصوصی عدالت کا حکم چیلنج کرتے ہوئے اپیلیں دائر کی تھیں ان کیخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے خصوصی عدالت کو کیس کی کارروائی روکتے ہوئے ہدایت کی تھی کہ جب تک ان اپیلوں کا فیصلہ نہ ہو جائے مشرف کے خلاف غداری کیس کی سماعت نہ کی جائے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم امتناعی کو ختم کےا جائے تاکہ سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل 6کے تحت قائم کیس کی سماعت دوبارہ شروع کی جا سکے۔ فاضل عدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو زیرسماعت تمام درخواستوں کی سماعت 30 دن میں مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ واضح رہے ہائی کورٹ کے حکم کی وجہ سے خصوصی عدالت نے کیس کی سماعت 26 جولائی 2015 تک ملتوی کی تھی۔
مشرف کیس