علماء کرام قتلِ مسلم جیسے فتنوں سے نوجوان نسل کو بچائیں: حافظ سعید

علماء کرام قتلِ مسلم جیسے فتنوں سے نوجوان نسل کو بچائیں: حافظ سعید

فیصل آباد (نمائندہ خصوصی) امیر جماعۃ الدعوۃ پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ فتنہ تکفیر عالم اسلام کے خلاف بہت بڑی سازش ہے۔ باہمی لڑائی اور قتل و غارت گری سے صلیبیوں و یہودیوں کو اسلام و مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈا کا موقع مل رہا ہے۔ علماء کرام انبیاء کے وارث ہیں وہ قتل مسلم جیسے فتنوں سے نوجوان نسل کو بچائیں اور ملک میں اتحاد و یکجہتی کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ فرقہ وارانہ تشدد سے بیرونی قوتوںکو مداخلت کے مواقع مل رہے ہیں۔ مغربی ممالک دنیا بھر میں اسلام کی پھیلتی ہوئی دعوت سے بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔ وہ مرکز خیبر میں جماعۃالدعوۃ کے زیر اہتمام علماء کنونشن سے خطاب کر رہے تھے۔ کنونشن میں ضلع بھر سے سینکڑوں علماء کرام نے شرکت کی۔ حافظ محمد سعید نے اپنے خطاب میں کہاکہ مغرب نے بہت عرصہ مسلمانوں پر حکومت کی اور مسلمانوں کے معاشروں کو بدل کر رکھ دیا ۔ بعد میں آزادیاں تو مل گئیں لیکن مسلمانوںکی حالت یکسر بدل چکی تھی۔ مسلم ملکوںکے نااہل حکمرانوں نے بھی بہت نقصان پہنچایا۔ انہوں نے کہاکہ روس کی طرح امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو بھی افغانستان میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ مسلمانوں کی قربانیوں کے نتیجہ میں دنیا کے حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو کامیابیوں سے نواز رہا ہے۔ وہ وقت قریب ہے جب کشمیر، فلسطین و دیگر خطوں کے مسلمان آزاد فضا میں سانس لے سکیں گے۔ جماعۃالدعوۃ کے مرکزی رہنما حافظ عبدالسلام بن محمد نے کہا مسلمانوں کے آپس میں اتحادکی کوششیں کر کے ملک میں فساد پھیلانے کی بیرونی سازشیں ناکام بنانا ہوں گی۔ انہوںنے کہاکہ پاکستانی فوج ملک کی سرحدوں کی حفاظت کر رہی ہے۔ اس کے خلا ف پروپیگنڈا درست نہیں۔ تحریک حرمت رسول ؐ کے سیکرٹری جنرل مولانا امیر حمزہ نے کہا فتنہ تکفیر کا شکار لوگ اسلام کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ مولانا سیف اللہ خالد نے کہاکہ موجودہ دور دعوت دین کیلئے بہت سازگار ہے۔ قاری یعقوب شیخ نے کہا ہے علماء کرام کو چاہئے کہ وہ منبر ومحراب کو میڈیا بنا کر کافروں کی سازشوں کی یلغار کا مقابلہ کریں۔ مفتی عبدالرحمن عابد، جماعت اسلامی فیصل آباد کے سیکرٹری جنرل محبوب الزماں بٹ، فیاض احمد، مولانا محمد اسحاق و دیگر نے کہاکہ کسی کلمہ گو پر کفر کا فتویٰ لگا کر اس کا قتل جائز نہیں ہے۔