سلطان الہند خواجہ جواجگان۔۔۔۔۔۔۔۔حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری ؒ

سید ثاقب امین چشتی
سلطان الہند، خواجہ جواجگان حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ کے 802ویں سالانہ عرس کی تقریبات اجمیر شریف میں عروج پر پہنچ چکی ہیں اور شیخ المشائخ دیوان سید زین العابدین علی خان آج چھ رجب المرجب کو گیارہ بجے دن سماع خانہ میں قل شریف کی خاص محفل کا اہتمام اور اس رسم کی صدارت کریں گے جبکہ فاتحہ کی رسم جو دن ایک بجکر پندرہ منٹ پر انجام پذیر ہو گی انجام دینے کے بعد سماع خانہ سے روانہ ہوں گے اور گنبد مبارک میں جنتی دروازہ سے داخل ہو کر مزار اقدس پر حاضری دیں گے اور حاضرین اور عقیدتمندان حضرات خواجہ غریب نواز کے لئے بارگاہ الٰہی میں دعا فرمائیں گے۔ دیوان سید زین العابدین علی خان حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کی اولاد میں بائیسویں پشت میں انتیسویں سجادہ نشین ہیں اور وہ 1975ءمیں اپنے والد دیوان سید علم الدین علی خان نبیرہ حضرت و سجادہ نشیں حضور غریب نواز کے انتقال کے بعد سے درگاہ اجمیر شریف کے موروثی دیوان و سجادہ نشین و گدی نشین مقرر ہوئے۔ دیوان صاحب راقم الحروف کے تایا زاد بھائی ہیں اور امسال زائرین حضرت خواجہ غریب نواز کی رہنمائی کے لئے ان کی ہدایت پر میں نے رسالہ خواجہ مہاراجہ بھی مرتب کیا ہے لیکن بدقسمتی سے انڈیا کی جانب سے زائرین حضرات خواجہ کو ویزے نہ ملنے کے سبب اس سال حاضری سے محروم رہ گئے جس کا ازحد قلق ہے۔ پاکستانی حکومت نے اس سلسلہ میں بھارتی حکومت سے احتجاج کیا ہے۔
حضرت سلطان الہند خواجہ جواجگان خواجہ معین الدین چشتی اجمیری سلسلہ چشتیہ کے آفتاب ہیں۔ آپ کو حضرت خواجہ عثمان ہارونی نے خلافت عطا فرمائی تھی۔ آپ نے ہندوستان میں نوے لاکھ سے زیادہ لوگوں کو مسلمان کیا۔ آپ نے خلافت حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کو عطا کی اور قطب صاحب نے حضرت شیخ العالم بابا فریدالدین مسعود گنج شکر کو خلافت مرحمت فرمائی جنہوں نے بعدازاں حضرت محبوب الہٰی سلطان جی حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءکو خرقہ خلافت عطا فرمایا اور سلسلہ چشتیہ کے ان قابل فخر اولیاءکرام نے ظلمت کدہ ہند کو اپنی روحانی کرنوں سے ہمیشہ کے لئے منور کر دیا۔
رسومات عرس حضرت سجادہ نشین صاحب کی زیر صدارت ادا ہوتی ہیں۔ حضور غریب نواز حضرت خواجہ عثمان ہارونی کے سالانہ عرس 11ربیع الاول کی شب میں بعد نماز عشائ، ہر پنجشنبہ (ہر جمعرات) ، ہر ماہ کی قمری مہینے کی 6 تاریخ یعنی چھٹی شریف کی محفل کی رسومات جو بعد نماز عشاءاحاطہ نور درگاہ شریف میں منعقد ہوتی ہیں۔ خواجہ صاحب کے سالانہ عرس شریف کی تقریبات کے موقع پر جملہ رسومات آپ کی ہی اولاد میں آپ کے جانشین، سجاد نشین شیخ المشائخ دیوان سیّد زین العابدین علی خاں صاحب کے دستِ مبارک سے شروع ہوکر آپ کی صدارت میں انجام پذیر ہوتی ہیں۔ عرس شریف کے مبارک موقع پر جملہ تقریبات و رسومات جو حضرت دیوان سیّد زین العابدین علی خاں کے دستِ مبارک سے شروع ہوتی ہیں۔ مندرجہ ذیل ہیں۔
(1)۔ ایام عرس شریف کے موقع پر چاند رات سے لے کر 6 ر جب المرجب کی شب تک مسلسل6شب تک) اپنے جدِ بزرگوار حضرت خواجہ معین الدین چشتی کے مزار اقدس کو اپنے دستِ مبارک سے غسل شریف دینا، یہ رسم ہر شب کو ایک بجے کے بعد انجام دی جاتی ہے اور پورے سال میں غسل شریف کے لےے صرف یہی چھ شب مخصوص و مقرر ہیں۔ اس کے علاوہ پورے سال غسل شریف نہیں دیا جاتا۔
(2)۔ ایام عرس میں چاند رات سے لیکر چھ رجب کی شب تک یعنی مسلسل چھ 6 شب تک سماع خانہ میں اپنے چشتیہ سلسلہ کی قدیم روایات کو برقرار رکھتے ہوئے مخصوص محفلوں کا انتظام کرانا، اپنی نگرانی و صدارت میں ادا کرنا یہ وہ محفلیں ہیں جو اپنے جد بزرگوار کے وصال مبارک سے انجام پذیر ہوتی چلی آئی ہیں۔ یہ محفلیں شب میں 11بجے سے شروع ہو کر صبح فجر سے قبل اختتام فاتحہ تک چلتی ہیں۔
(3)۔ ایام عرس شریف میں 5 رجب المرجب کو دن میں بعد نماز ظہر حضور غریب نواز کی خانقاہ شریف ( جو سماع خانہ کی عقب میں ہے) جہاں خواجہ صاحب اپنی حیات مبارک میں رہا کرتے تھے اور بعد وصال آپ کو غسل شریف بھی اسی جگہ دیا گیا تھا۔ محفل اور بعد نماز عصر اختتام فاتحہ شریف۔
(4)۔ ایام عرس شریف کی اختتامی تقریب کے موقع پر یعنی 6 رجب المرجب کو دن میں 11بجے سماع خانہ میں قل کی خاص محفل کا انتظام اور اس رسم کی صدارت، فاتحہ کی رسم (جو دن میں ایک بجکر پندرہ منٹ پر انجام پذیر ہوتی ہے) انجام دیکر سماع خانہ سے روانہ ہوکر گنبد مبارک میں جنتی دروازہ سے داخل ہوکر مزارِ اقدس پر حاضری۔ جملہ زائرین آستانہ حضور غریب نواز کے لئے بارگاہِ الٰہی میں دست بدعا ہونا۔
درگاہ کی روشنی
عہد مغلیہ کا کوئی شاعر
درگاہ حضرت صاحب کے مراسم خصوصی میں ایک رسم یہ بھی ہے کہ اذان مغرب سے قبل اندرونِ گنبد مبارک جب روشنی کی جاتی ہے تو فانوسوں کو احترام کے ساتھ سر پر رکھا جاتا ہے اور یہ منقبت پڑھی جاتی ہے۔
خواجہ ءخواجگاں معین الدین
  اشرف اولیائے روئے زمیں
آفتاب سپہر کون و مکاں
بادشاہ سریر ملکِ یقیں
مطلعے درصفات اوگفتم
در عبارت بود چُودرِ ثمیں
اے درت قبلہ گاہِ اہل یقیں
بردرت مہر ماہ سودہ جبیں
روئے بردرگہت ہمی سایند
صدہزاراں ملک، چو خسرو چیں
ذرّہ خاکِ اُوعبیر سرشت
قطرہ آبِ اوچو ماہِ معیں
خادمانِ درت ہمہ رضواں
درصفا روضہ ات چوخلدِ بریں
الٰہی تابود خورشید و ماہی
چراغ چشتیاں را روشنائی
یہ معلوم نہ ہوسکا کہ یہ منقبت کس کی لکھی ہوئی ہے۔ یہی اشعار خواجہ صاحب کے قبر مبارک میں دیوار پر چاروں طرف تحریر ہیں۔