عمران کو وزیراعظم بننا ہے تو بنا دینگے، ڈنڈے سے مڈٹرم نہیں ہونے دینگے: خورشید شاہ

پنو عاقل/ روہڑی (نوائے وقت رپورٹ+ آن لائن ) اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا ہے کہ ہم آئین اور جمہوریت پر ہزاروں نواز شریف قربان کر سکتے ہیں، ڈنڈے اور گولی سے مڈٹرم انتخابات نہیں ہونے دینگے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے انہوں نے کہا عمران خان اور طاہر القادری چاہیں تو وزیراعظم کو چار سالہ مدت پر مجبور کر سکتے ہیں لیکن دھرنے والے لیڈروں کے قول و فعل میں تضاد ہے، ناچ گانے اور جلسوں سے جمہوریت نہیں آیا کرتی۔ آن لائن کے مطابق صالح پٹ میں سید عباس ڈنے شاہ کے سالانہ عرس کی منعقدہ تقریبات میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا 18 اکتوبرکا جلسہ ملکی سیاست میں تہلکہ مچا دیگا، عوام بلاول بھٹو زرداری کو سیاست کے میدان میں دیکھنا چاہتے ہیں۔  بلاول بھٹوکو سیاست میں نابالغ کہنے والوں کے 18 اکتوبر کے بعد منہ بند ہوجائیں گے کہ عوام کی بھرپور شرکت کرکے ثابت کریگی کہ بلاول بھٹو زرداری کوکتنا چاہتے ہیں اور انہیں سیاست کے میدان میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری شہید محترمہ بے نظیربھٹوکی نشانی ہیں، انکے سیاست میںآنے سے ملکی سیاست میں تہلکہ مچ جائیگا۔ سکھر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لاکھ بار نوازشریف کی حکومت چلی جائے اسکی فکر نہیں لیکن پاکستان کے نوجوانوں کی نعشوں پر سیاست قبول نہیں کریں گے۔ عمران خان کو وزیراعظم بننا ہے، بنا دیں گے لیکن ان سے کہتے ہیں کہ نوجوانوں کی نعشوں سے کھیل کر پارلیمنٹ میں نہ  آئو۔ اللہ کے واسطے عمران کو کہتا ہوں مت کرو ایسی سیاست، آپ کو اقتدار چاہئے آجائو۔ انہیں جاوید ہاشمی کے اس انکشاف پر دکھ ہوا کہ دھرنے والے نعشوں پر سیاست کرنا چاہتے ہیں اگر ایسا ہے تو اسکی تحقیقات ہونی چاہئے، سیاستدان بیٹھ جائیں کہ یہ کیا ہو رہا ہے کہ اب ہم لوگوں کو مروا کے یہ جمہوریت کو ڈی ریل کرکے پاکستان کی شکل بگاڑنا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم سے گزارش کریں گے کہ اپنے ووٹ عمران خان کو ڈلوا دیں۔ میوزیکل پروگرام کے پیچھے نوجوانوں کی نعشوں پر سیاست کی جا رہی ہے، ایسا کرنیوالے بچوں پر رحم کریں۔ جمہوریت کی مضبوطی میں ہی نوجوانوں اور بچوں کی بقا ہے۔ الطاف حسین شیر ہیں جو چاہے کہیں لیکن سندھ ایک ہی گھر ہے، اسی سندھ کے ایک کمرے میں بھائیوں کو گلے لگایا تھا۔ ایک منصوبے کے تحت چینی صدر کو پاکستان  آنے سے روکا گیا اب چین اور امریکہ کی ساری نوازشیں بھارت کیلئے ہیں۔