سیاسی جرگہ عید کے بعد مذاکرات کریگا، توقع ہے بریکر ہٹ جائینگے: سراج الحق

پشاور (نوائے وقت رپورٹ/ ایجنسیاں) امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ سیاسی جرگہ عید کے بعد دوبارہ مذاکرات کریگا، امید ہے سیاسی بریکر ہٹ جائیں گے، میں آئین کا حامی ہوں، جمہوریت کی بقا چاہتا ہوں، صوبائی حکومت بلدیاتی انتخابات کیلئے اقدامات کرے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انتخابات جمہوریت کا دروازہ ہیں، کسی کو روشندان سے آنے کی ضرورت نہیں، وسط مدتی انتخابات کیلئے اپوزیشن سے زیادہ مرکزی حکومت بنیادی کردار ادا کرسکتی ہے، حکومت اور سیاسی جماعتیں رویوں میں تبدیلی لاکر جمہوری روایات اپنائیں، تصادم کے نتیجے میں جمہوریت کا خاتمہ ہوسکتا ہے، سیاسی جرگے نے اشتعال جیسے ماحول کو بہتر بنا دیا ہے، نعشیں گرنے کا انتظار کرنیوالوں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا، طاہر القادری کا انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان نیک شگون ہے، شمالی وزیرستان کے آئی ڈی پیز کے مسائل انتہائی گھمبیر شکل اختیار کرچکے ہیں غور اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کیلئے جماعت اسلامی 9 اکتوبر کو پشاور میں آئی ڈی پیز کے نمائندہ جرگے کا انعقاد کریگی، حکومت شمالی وزیرستان کے جن علاقوں کو کلیئر قرار دے چکی ہے، وہاں آئی ڈی پیز کو فوری واپس جانے کی اجازت دی جائے، خیبر پی کے حکومت کو صوبے میں جلد بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کا کہا ہے، آصف علی زرداری سے منصورہ میں بات چیت مفید اور خوشگوار ماحول میں ہوئی، سیاسی قوتوں کے درمیان رابطے ملکی مفاد کیلئے انتہائی اہم ہیں، سیاسی جرگہ عید کے بعد دوبارہ ملے گا، حکومت اور کنٹینرز والوں کے درمیان کچھ سپیڈ بریکر آگئے، انہیں دور کرنا ہو گا، پولیوپر قابو نہ پایا گیا تو پاکستان کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، حکومت پولیوکے روک تھام بارے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کررہی ہے۔ ایبٹ آباد آپریشن کیلئے ڈاکٹر شکیل نے پولیو مہم کا جس طرح استعمال کیا اس سے مہم کو نقصان پہنچا۔ اسلام آباد میں دھرنوں کی وجہ سے شمالی وزیرستان کے آئی ڈی پیز کے مسائل پس پردہ چلے گئے ہیں، حکومت کو جو توجہ دینی چاہئے تھی وہ نہیں دی گئی۔ متاثرین کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے جوکہ ایک تشویشناک بات ہے۔ حکومت شمالی وزیرستان کے متاثرین کے مسائل سے غافل ہوگئی ہے لیکن پوری قوم انکے ساتھ ہے۔ آئی ڈی پیز کا ایک نمائندہ جرگہ 9 اکتوبر کو پشاور میں منعقد کرنیکا کا اعلان کیا ہے جن میں آئی ڈی پیز کے مسائل کے حل کیلئے تجاویز دئیے جائینگے اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مسلسل کہہ رہی ہے کہ شمالی وزیرستان کا 70 فیصد علاقہ کلیئر کردیا گیا ہے تو پھر کم از کم ان علاقوں کے متاثرین کو تو واپس بھیج دیا جائے۔ قوم کو شمالی وزیرستان آپریشن کے متاثرین، پنجاب، آزاد کشمیر، مقبوضہ کشمیر کے سیلاب زدگان کو بھولنا نہیں چاہئے۔