کشمیریوں کو حق خودارادیت ملنے تک جنوبی ایشیا میں امن قائم نہیں ہوسکتا: حافظ سعید

فیصل آباد (نمائندہ خصوصی) امیر جماعۃ الدعوۃ پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ مظلوم کشمیریوں کو حق خودارادیت ملنے تک جنوبی ایشیا میں کسی صورت امن قائم نہیں ہوسکتا۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں نے مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے دوہرا معیار اپنا رکھا ہے۔ کشمیر کی محبت ہماری رگوں میں خون کی طرح دوڑتی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھائے جا رہے ہیں۔ کشمیریوں کو بھارت کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے۔ پاکستانی قوم تحریک آزادی میں کشمیریوں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر کھڑی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گارڈن محلہ نشاط آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ حافظ محمد سعید نے کہا کہ پاکستان کے استحکام اور بقا کیلئے کشمیر کو بھارت کے غاصبانہ قبضہ سے چھڑانا بہت ضروری ہے۔ کشمیری پاکستان کی سالمیت کی جنگ لڑ رہے ہیں، کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ہے پاکستانی قوم شہدائے کشمیر کی قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دیگی، بھارت ظلم و جبر کی بنیاد پر کشمیر پر اپنا قبضہ برقرار نہیں رکھ سکتا۔ حکومت اپنی کشمیر پالیسی واضح کرے، کشمیریوں کی تکلیف کا درد پاکستانی اپنے سینوں میں محسوس کرتے ہیں، بھارت سے یکطرفہ دوستی و تجارت یا کشمیر یوں کی مرضی کے برعکس مسلط کردہ کوئی حل قوم قبول نہیں کریگی۔ انہوں نے کہا کہ جب تک بھارت مقبوضہ کشمیر سے اپنی 8 لاکھ فوج نہیں نکالتا، کشمیریوں کا ان کا حق خودارادیت نہیں دیا جاتا اور پاکستانی دریائوں پر سے وہ اپنا غاصبانہ قبضہ ختم نہیں کرتا اس سے کسی قسم کے مذاکرات اور معاہدات کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا اور نہ ہی کشمیری و پاکستانی قوم ملکی مفادات کو پس پشت ڈالتے ہوئے اس قسم کے کوئی معاہدات قبول کرنے کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بھارت کیلئے خارجہ پالیسی ایک آزاد ملک کی پالیسی نظر نہیں آتی، بھارت نے پہلے پاکستان کو دولخت کیا اور اب بھی وہ ایسے ہی منصوبوں پر عمل پیرا ہے۔ افغانستان میں تربیت لیکر پاکستان داخل ہونیوالے بھارتی ایجنٹوں نے بلوچستان، سندھ و دیگر علاقوں میں قتل و غارت گری کا بازار گرم کر رکھا ہے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ حکومت پاکستان لاکھوں شہداء کی قربانیاں پس پشت ڈالتے ہوئے اسی بھارت کے ساتھ دوستی، تجارت اور ویزا پالیسی میں نرمی جیسے فیصلے کر رہی ہے۔ جموں کشمیر میں بھارتی افواج کی بدترین انسانی حقوق کی پامالیوں اور پاکستانی دریائوں پر متنازعہ ڈیموں کی تعمیر کو نظرانداز کر دینا کسی صورت درست نہیں ہے۔ حافظ محمد سعید نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اٹھارہ کروڑ عوام ایک ہی مؤقف پر متحد ہیں کہ کشمیر پاکستان کا حصہ ہے۔ اسی خاطر کشمیری مسلمان پاکستان کی سب سے پہلی دفاعی لائن کشمیر کی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی سے آگاہ کرنے کیلئے پوری دنیا میں موجود اپنے سفارت خانوںکو متحرک کیا جائے اور مضبوط کشمیر پالیسی وضع کی جائے تاکہ مظلوم کشمیری بھائیوں کی ہر ممکن مدد کی جا سکے۔