مذاکرات واحد حل ہیں: بمباری ‘ ڈرون حملوں سے امن ممکن ہے نہ خودکش حملوں سے شریعت آ سکتی ہے: منور حسن

مذاکرات واحد حل ہیں: بمباری ‘ ڈرون حملوں سے امن ممکن ہے نہ خودکش حملوں سے شریعت آ سکتی ہے: منور حسن

اسلام آباد (آن لائن) امیرجماعت اسلامی سید منور حسن نے کہا ہے کہ بمباری اور ڈرون حملوں سے امن لایاجاسکتاہے اورنہ ہی خودکش حملوں سے شریعت نافذہوسکتی ہے ،امریکہ مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث ہے ،افغانستان سے واپسی خوشی کامرحلہ ہے ،پروفیسرابراہیم کومذاکراتی عمل میں شمولیت کی اجازت کافیصلہ ابھی نہیں ہوا۔نجی ٹی وی کودیئے گئے انٹرویومیں انہوںنے کہاکہ طالبان سے مذاکرات کی بات خوش آئندہے ،پارلیمنٹ میں وزیراعظم کی تقریرنے ماحول بدلاہے ،لیکن ہم نے ابھی پروفیسرابراہیم کومذاکرات میں شمولیت کی اجازت کافیصلہ نہیں کیا۔انہوںنے کہاکہ مذاکرات کی کامیابی کے لئے ڈرون حملوں کی بندش ضروری ہے ،لیکن امریکہ کی جانب سے ڈرون حملوں کی بندش کی  یقین دہانی مشکل ہے ۔ان کاکہناتھاکہ بندوق کے ذریعے کبھی بھی امن قائم نہیں ہوسکتا،جٹ طیاروں کی بمباری اورڈرون حملے ملک میں امن نہیں لاسکتے اورنہ ہی خودکش حملوں سے شریعت نافذہوسکتی ہے اس کیلئے مذاکرات ہی واحدحل ہے ۔انہوںنے کہاکہ مذاکرات کے لئے طالبان کے ان اساتذہ کومیدان عمل میں آناچاہئے ،حالات جتنے بھی خراب ہوں مذاکرات کے ذریعے  ان  میں بہتری لائی جاسکتی ہے ۔ایک سوال پرانہوںنے کہاکہ امریکہ 12سال سے افغانستان میں لڑرہاہے دنیامیں جہاں بھی مسلمانوں کا قتل عام ہوا اس میں امریکہ ملوث ہے ،عراق ،افغانستان ،فلسطین اورکشمیرمیں بھی  امریکہ  ملوث ہے۔ انہوںنے کہاکہ مذاکرات کی کامیابی کیلئے حکومت کودہشتگردی کے خلاف جنگ کی پالیسی کاازسرنوجائزہ لیناہوگا،ہمیں اس کے ساتھ اپنی خارجہ پالیسی کاجائزہ بھی لیناہوگااورایک آزادخارجہ پالیسی بناناہوگی۔