پاکستان بھارت تعلقات میں بریک تھرو 31 روز سے بند آر پار تجارت کھولنے کا فیصلہ

چناری (آن لائن) نیو یارک میں پاکستان‘ بھارت وزرا اعظم ملاقات کے پہلا بریک تھرو گزشتہ روز 31 روز سے بند آر پار تجارت کھولنے کے فیصلے سے سامنے آیا۔جمعرات کو بعداز دوپہر آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے اعلی حکام کے درمیان جموں و کشمیر کو ملانے والے امن برج پر دو گھنٹے سے زائد ملاقات جاری رہی۔ آزاد کشمیر کی نمائندگی ٹریول اینڈ ٹریڈ اتھارٹی آزاد کشمیر کے ڈائریکٹر جنرل بریگیڈیئر (ر) محمد اسماعیل‘ ٹی ایف او چکوٹھی کراسنگ پوائنٹ بشارت اقبال جبکہ مقبوضہ کشمیر کی نمائندگی ڈپٹی کمشنر بارہمولہ خواجہ غلام محمد ٹی ایف او اوڑی و دیگر نے کی۔ ملاقات کے دوران بھارتی حکام نے سرینگر مطفرآباد دوطرفہ تجارت میں میڈ ان پاکستان آئیٹم پر لگائی جانے والی پابندی ختم کرنے اور اکتوبر 2008ء میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے معاہدے کے مطابق دوطرفہ تجارت اکتوبر 2008ء کی تجارتی لسٹ کے مطابق کرنے کا اعلان کیا جس کے بعد دونوں اطراف کے حکام نے سرینگر‘ مظفرآباد تجارت دوبارہ شروع کرنے کی یقین دہانی کرادی۔ 31 رروز تک بند رہنے والی دوطرفہ تجارت اب 8 اکتوبر سے دوبارہ شروع ہوگی۔ جموں و کشمیر ایل او سی جائنٹ فیڈریشن کے راہنما محمود ڈار اور ایل او سی ٹریڈ یونین آزاد کشمیر کے سیکرٹری جنرل اعجاز احمد میر نے سرینگر مظفرآباد تجارت 2008ء کی تجارتی لسٹ کے مطابق دوبارہ کھولنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا اس سے دونوں ملکوں کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی میں کمی کیساتھ آرپار کے تاجروں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ ہوا ہے۔ ڈی جی فاٹا بریگیڈیئر (ر) محمد اسماعیل کے جاندار موقف پر ہم انہیں خراج تحسین اور مبارکباد پیش کرتے ہیں جن کی کوششوں کی وجہ سے بھارت دوبارہ 2008ء کے معاہدے کے مطابق تجارت کرنے پر رضامند ہوا ہے۔