حکومتی وفد سے مذاکرات کامیاب، کسانوں کا دھرنا 18گھنٹے بعد ختم، ٹریفک بحال

اوکاڑہ (نامہ نگار) کسان اتحاد یونین کے ہزاروں افراد کی جانب سے جی ٹی روڈ اٹھارہ گھنٹے بلاک رہنے کے بعد بالآخر ایم این اے میاں خرم جہانگیر وٹو اور ضلعی انتظامیہ کے ہمراہ کسانوں سے کامیاب مذاکرات کے بعد کھول دی گئی، ٹریفک بلاک میں پھنسے مسافر اور ہزاروں مرد و خواتین بچوں نے سکھ کا سانس لیا، اگر ہمارے ساتھ مذاکرات میں کئے جانے والے وعدوں کو پورا نہ کیا گیا تو اسلام آباد کی جانب مارچ ہو گا اور غیرمعینہ مدت تک احتجاج کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔ مرکزی کسان اتحاد کے عہدیداران کا مذاکرات کرنے والے حکومتی ٹیم کے اراکین کو الٹی میٹم ۔ تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز اٹھارہ مختلف اضلاع کے ہزاروں کسانوں کی جانب سے اوکاڑہ جی ٹی روڈ کو دن گیارہ بجے آمدورفت کے لئے بند کیا گیا تھا اور رات گئے یہ جی ٹی روڈ اور ریلوے ٹریک مکمل بند کر دئیے گئے تھے جس کے باعث اوکاڑہ شہر کا زمینی رابطہ مکمل منقطع ہو گیا تھا اور گاڑیوں کی میلوں لمبی لائنیں لگ گئی تھیں۔ رات گئے وفاقی وزیر میاں منظور وٹو کے صاحبزادے ایم این اے خرم جہانگیر وٹو نے کسان اتحاد کے صدر چودھری انور،کسان اتحاد اوکاڑہ کے صدر محمد اکرم اور دیگر عہدیداران سے مذاکرات کرنے چاہئے لیکن کسانوں نے انکار کر دیا اور کہا کے ان کو کسی حکومتی شخصیت پر اعتماد نہیں ہے ہمیں لالی پاپ دینے کے بجائے نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے کہ بجلی کے ریٹ مناسب ہوں گے تاہم کئی گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد ضلعی انتظامیہ کی موجودگی میں ایم این اے خرم وٹو اور کسانوں کے مرکزی عہدیداران کے مابین مذاکرات کامیاب ہو گئے اور اٹھارہ گھنٹے بعد روڈ کھول دیا گیا اور ریلوے ٹریک بھی بحال کر دیا گیا، کسان اتحاد کے صدر کے مطابق خرم جہانگیر وٹو نے اس بات کی یقین دہانی کروائی ہے کہ ان کو باعزت طریقہ سے ریلیف دیا جائےگا اور ان کو بجلی کے مناسب ریٹ کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر تین روز کے اندر ان سے کئے جانے والے مذاکرات پر عمل نہ ہوا تو اسلام آباد کا رُخ کیا جائے گا۔ ٹریفک بلاک کے دوران ڈی سی او اوکاڑہ سید گلزار شاہ کی ہدایت پر ٹی ایم او اوکاڑہ رانا شاہد نے اپنی ٹیم کے ہمراہ ٹریفک میں پھنسے ہزاروں لوگوں کو کھانے اور پینے کا سامان فراہم کیا جبکہ محکمہ صحت اور ریسکیو کی ٹیمیں بھی لوگوں کو ریلیف فراہم کرتی رہیں۔