’’مجید نظامی کے انتقال سے جو خلا پیدا ہوا کبھی پُر نہیں ہوسکے گا‘‘

’’مجید نظامی کے انتقال سے جو خلا پیدا ہوا کبھی پُر نہیں ہوسکے گا‘‘

لاہور (خصوصی رپورٹر+ کلچرل رپورٹر+ وقائع نگار خصوصی+ سٹاف رپورٹر) وفاقی وزیر دفاعی پیداوار رانا تنویر حسین نے کہا ہے پاکستان ایک عظیم نظریاتی شخصیت، نظریہ پاکستان کے محافظ اور آبروئے صحافت سے محروم ہو گیا، انکے انتقال سے جو خلا پیدا ہوا کبھی پُر نہیں ہو سکے گا، اللہ تعالیٰ انکے درجات بلند کرے اور انکے متعلقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایڈیٹر انچیف نوائے وقت گروپ رمیزہ مجید نظامی سے انکے دفتر میں ملاقات کے موقع پر کیا۔ انہوں نے مجید نظامی مرحوم کیلئے فاتحہ بھی پڑھی۔ رانا تنویر حسین نے مزید کہا مجید نظامی مرحوم نے اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ پاکستان کیلئے انکی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ انہوں نے کہا بھارت سے دوستی کے حوالے سے کئی مرتبہ اتار چڑھائو آئے لیکن انکا ایک نظریہ تھا کہ بھارت سے ہمارا ازلی دشمن ہے اور کبھی  پاکستان کا دوست نہیں ہو سکتا۔ میں تائید کرتا ہوں مجید نظامی مرحوم کی سوچ درست تھی۔ وقائع نگار خصوصی کے مطابق سابق چیف جسٹس آف پاکستان ارشاد حسن خاں نے ڈاکٹر مجید نظامی کے انتقال پر اظہار افسوس کرتے ہوئے مرحوم کو پاکستان کی منفرد شخصیت قرار دیا۔ رمیزہ مجید نظامی سے تعزیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا مجید نظامی کی زندگی اور نظریہ پاکستان لازم و ملزوم تھے۔ انکی بڑی خوبی اصولوں پر ڈٹے رہنا تھا۔ ان کی زندگی کا مقصد قائداعظمؒ، علامہ اقبالؒ کے نظریات اور نظریہ پاکستان کے تصور کی نوجوانوں میں ترویج تھا۔ انہوں نے مرحوم کے درجات کی بلندی کیلئے دعا بھی کی۔ کلچرل رپورٹر کے مطابق سابق سپیکر قومی اسمبلی چودھری امیر حسین، سابق رکن قومی اسمبلی میاں محمد آصف، میجر (ر) غلام عباس، خانوادہ حضرت سلطان باہو صاحبزادہ سلطان احمد علی اور سجادہ نشین آستانہ عالیہ شرقپور شریف صاحبزادہ میاں جلیل احمد شرقپوری نے امام صحافت مجید نظامی کے انتقال پر ایڈیٹر انچیف نوائے وقت گروپ اور ایڈیٹر نوائے وقت رمیزہ مجید نظامی سے تعزیت کے بعد نوائے وقت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا امام صحافت مجید نظامی ایک عہد کا نام ہے، انکا انتقال پورے ملک کیلئے بہت بڑا سانحہ ہے۔ انہوں نے تمام عمر جمہوریت کے فروغ،  نظریہ پاکستان کے تحفظ اور مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے میں جدوجہد کی، حکمرانوں سے ہمیشہ حق بات کی اور حکمرانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی۔ پاکستان کی سیاست اور صحافت مجید نظامی کے بغیر نامکمل ہے۔ سابق سپیکر قومی اسمبلی چودھری امیر حسین نے کہا مجید نظامی کی رحلت ایک قومی نقصان ہے۔ جس طرح انہوں نے نظریہ پاکستان کی ترویج کی یہ انہی کا طرہّ امتیاز ہے۔ بعض شخصیات کے انتقال کا نقصان صرف انکی فیملی اور عزیز و اقارب کو ہوتا ہے جبکہ نظامی صاحب کی کمی پوری قوم محسوس کر رہی ہے۔ سابق رکن قومی اسمبلی میاں محمد آصف نے کہا مجید نظامی کے ساتھ میرا بہت قریبی تعلق رہا ہے، میں نے جب سیاست شروع کی تو ان سے ہی رہنمائی لی۔ میری طرح بہت سے سیاستدان ان سے رہنمائی لیتے رہے ہیں۔ میجر (ر) غلام عباس نے کہا پاکستان کی سیاست اور صحافت میں مجید نظامی کا ایک خاص مقام ہے۔ ان میں پاکستانیت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ انکے مخالفین بھی انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ صاحبزادہ سلطان احمد علی نے کہا مجید نظامی نظریہ پاکستان کے بہت بڑے مبلغ تھے۔ انہوں نے نظریہ پاکستان کے حوالے سے دو نسلوں کی تربیت کی۔ مجید نظامی ایک عہد کا نام ہے۔ جہاں کہیں بھی نظریہ پاکستان، قائداعظمؒ اور علامہ اقبالؒ کی بات ہوگی تو وہاں سے مجید نظامی کی خوشبو ضرور آئیگی۔ صاحبزادہ میاں جلیل احمد شرقپوری نے کہا نظریہ پاکستان کو جس طریقہ سے وہ چلا رہے تھے اور جس طرح انہوں نے قائداعظمؒ کی سوچ کو سنبھالا ہوا تھا وہ انہی کا خاصا تھا۔ انہوں نے صحافت میں کمرشلزم کو غالب نہیں آنے دیا، ہر طرح کا کاروباری نقصان برداشت کیا مگر نظریئے پر آنچ نہ آنے دی۔ سٹاف رپورٹر کے مطابق یونیورسٹی آف دی پنجاب کے وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران نے ایڈیٹر انچیف نوائے وقت گروپ اور ایڈیٹر نوائے وقت رمیزہ مجید نظامی سے ملاقات کے موقع پر کہا ڈاکٹر مجید نظامی کے جانے سے پیدا ہونیوالا خلا پُر نہیں ہو سکتا۔ ڈاکٹر مجید نظامی انتہائی بیباک صحافی اور نظریہ پاکستان کا گہرا علم رکھنے والی شخصیت تھی، انکی سوچ میں کبھی تبدیلی نہیں آئی۔ ڈاکٹر مجید نظامی جمہوریت پر یقین رکھتے اور آمریت کے ہمیشہ مخالف رہے۔ فوجی ڈکٹیٹروں کے سامنے بڑی مجلس کے اندر وہ انہیں احساس دلاتے انکا اقتدار پر قبضہ ناجائز ہے۔   مسئلہ کشمیر پر انکا موقف ہمیشہ واضح رہا اور وہ کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیتے تھے۔ انہوں نے ہمیشہ کشمیریوں کیلئے آواز بلند کی۔ ڈاکٹر مجید نظامی کو بھارت کے عزائم کے حوالے سے اندازہ تھا کہ وہ کبھی پاکستان کے بارے میں مثبت سوچ نہیں رکھ سکتا۔ ڈاکٹر مجید نظامی کی خدمات مشعل راہ ہیں، انکی خدمات کو تاریخ کے سنہری حروف میں لکھا جائیگا۔ اس موقع پر نوائے وقت کے کالم نگار اکرم چودھری نے بھی ڈاکٹر مجید نظامی کی وفات پر تعزیت کا اظہار کیا اور فاتحہ خوانی کی۔ ڈاکٹر مجاہد کامران نے کہا ڈاکٹر مجید نظامی دنیا میں پہلے ایڈیٹر انچیف تھے جنہوں نے 52 برس تک ملک و قوم کی بھرپور خدمت کی۔ انہوں نے کہا ڈاکٹر مجید نظامی ہمیشہ میرے محسن رہے، اپنے والد کے دور سے ان سے ملاقات کا سلسلہ جاری رہا۔ آج پنجاب یونیورسٹی کو فخر ہے انہوں نے ڈاکٹر مجید نظامی کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری دی تھی۔ انہوں نے کہا 27 رمضان المبارک بروز جمعہ کو پاکستان آزاد ہوا اور 27 رمضان المبارک بروز جمعہ کے مبارک دن کو ڈاکٹر مجید نظامی اس دنیا سے رخصت ہوئے۔