عمران کا یہ اقدام نوازشریف کے لانگ مارچ سے قائم ہونیوالی بری مثال کا نتیجہ ہے: اسلم بیگ

عمران کا یہ اقدام نوازشریف کے لانگ مارچ سے قائم ہونیوالی بری مثال کا نتیجہ ہے: اسلم بیگ

 لاہور (سید شعیب الدین سے) سابق آرمی چیف جنرل (ر) مرزا اسلم  بیگ نے کہا ہے کہ پاکستان کے سیاسی معاملات بیحد گھمبیر ہو چکے ہیں، عمران خان کا لانگ مارچ اور دھرنا 2009ء کے میاں نواز شریف کے لانگ مارچ سے قائم ہونیوالی بری مثال کا نتیجہ ہے، لانگ مارچ کو گوجرانوالہ پہنچنے سے پہلے ہی اسوقت کے آرمی چیف نے میاں نواز شریف کو فون کرکے کہا تھا کہ انکے مطالبات مان لئے گئے ہیں جس کے بعد حکومت نے مارچ کے مقاصد تسلیم کرلئے اور عدلیہ بحال ہو گئی۔ یہ تمام عمل پارلیمنٹ سے ماورا تھا جس کی وجہ سے آج لوگوں کے ذہن میں حکومت کی تبدیلی کا نقشہ 2009ء کے منظر نامہ کی روشنی میں ہے ۔ لانگ مارچ  اور دھرنے دونوں کا مقصد آئین، پارلیمنٹ سے ماورا، الیکشن کمشن سے ہٹ کر اور عدلیہ سے رجوع کئے بغیر حکومتی تبدیلی کا بڑا فیصلہ سڑکوں پر کرانا ہے، یہی انقلابی اور سونامی کہلائیگا۔ نوائے وقت سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج ایک بری اور غیر جمہوری روایت قائم ہو رہی ہے۔ کل عمران خان نے حکومت بنائی تو نواز شریف بھی یہی کریں گے۔ آصف زرداری کراچی کی بندر گاہ اور پورٹ قاسم  بلاک کر کے بیٹھ جائیں گے، حکومت کو بنانے کا یہ غیر جمہوری طریقہ ہے اس سے جو غیر جمہوری روایت قائم ہو رہی ہے وہ جمہوریت کی نفی ہے۔  مشرق وسطیٰ میں ’’عرب سپرنگ‘‘ انقلاب اور تبدیلی کے نتیجے میں اخوان المسلمون نے حکومت بنائی تھی مگر مقتدر قوتوں نے ان سے حکومت چھین لی، مصر میں تبدیلی لانے والی قوتوں میں امریکہ، سعودی عرب اور خلیجی ریاستیں شامل تھیں جنہوں نے جنرل السیسی کو حکمران بتایا اب اس کی حمایت کر رہی ہیں۔ ہمارے ملک میں جو منظر نامہ تشکیل پا رہا ہے اس میں اور مصر کے حالات میں بہت مماثلت ہے۔  عدالتوں، پارلیمنٹ سے ماورا فیصلے نہیں ہونے چاہئیں، عمران خان کے مطابق الیکشن کمیشن نے ان کی بات نہیں سنی تو عمران خان کو چاہئے کہ سپریم کورٹ جائیں، آئینی طریقہ یہی ہے۔ حکومت جس طرح پریشان ہے اس سے لگ رہا ہے کہ انہیں یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ معاملات کیسے سنبھالیں، یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ پاکستان میں بھی وہی ہوا چل چکی ہے جو مصر اور الجزائر میں چلی تھی یہ بہت بڑا کھیل ہے، اسکے پیچھے وہی غیر ملکی قوتیں ہیں جو مصر میں تھیں۔ حالات خراب ہونے کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔ حکومت کی بدحواسی سے لگ رہا ہے کہ تبدیلی کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ حکومت نے فوج کو اپنے تحفظ اور اپنی حفاظت کیلئے بلا لیا ہے سوچنا چاہئے تھا کہ اس کا ردعمل کیا ہوگا، کیا نتیجہ نکلے گا۔ ہماری حکومت اور حزب اختلاف سب کا مفاد اسی میں ہے کہ جمہوری اقدار پامال نہ کریں ورنہ سب کچھ دھرا رہ جائیگا، ’’سب لاد چلے گا بنجارا‘‘ 2009ء میں فوج، پیپلزپارٹی کی حکومت، نواز شریف اور سب نے ملکر غلط روایت قائم کی تھی جس کا عکس اب مختلف شکل میں آ رہا ہے۔ انہوں نے بھارت کے نئے آرمی چیف جنرل دلبر سنگھ سہاگ کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جنرل دلبر سنگھ کا انداز بچگانہ ہے جس موقع پر انہوں نے یہ بیان دیا اس وقت ایسا کوئی بیان نہیں دیا جاتا۔ یہ الفاظ سننے کے بعد اب جنرل راحیل شریف کیسے اسے مبارکباد دیں گے۔ یہ ایک بڑا بیان ہے جس کے کوئی معنی نہیں۔ ہمیں اس بیان سے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ یہ بیان دینے والا بھارت افغانستان میں شکست کھا چکا ہے۔ شکست خوردہ لوگ ایسے ہی بیان دیتے ہیں۔ جنرل دلبر سنگھ کے بیان سے اس سازش کا بھی انکشاف ہوا ہے کہ امریکہ اور بھارت ملکر جماعت الدعوۃ کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ امریکیوں کو بھارت میں قائم بھارت کا وہ جاسوسی نیٹ ورک نظر نہیں آیا جو پاکستان میں مسلسل مداخلت کر رہا ہے اور دہشت گردی کر رہا ہے۔ یہ جاسوسی نیٹ ورک امریکہ، افغانستان، سی آئی اے، موساد کی پشت پناہی سے کام کر رہا ہے۔ اگر امریکی اسی جاسوسی نیٹ ورک کو ختم نہیں کر سکتے تو ہمارے خلاف کس منہ سے کارروائی کی بات کرتے ہیں۔ امریکہ اور بھارت گذشتہ 10-9 برسوں سے افغانستان میں بیٹھ کر ہمارے خلاف سازشیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے 23 ستمبر 2001ء کو مشرف سے بھری محفل میں کہا تھا کہ افغانستان پر حملہ آور ہونے کے فیصلہ کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ طالبان اٹھیں گے، لڑیں گے، جیتیں گے، امریکہ ہارے گا۔ جس پر لوگ ہنسے تھے۔ مگر آج نیویارک ٹائمز نے تسلیم کیا ہے کہ امریکہ ہار گیا ہے۔ قندھار، کابل، ہرات پر طالبان غالب آ چکے ہیں۔ طالبان کے مقابلے کیلئے غیر پشتون عناصر پر مشتمل 3 لاکھ کی فوج طالبان سے مل گئی ہے۔ جلد افغانستان میں طالبان کی حکومت ہو گی اور افغانستان میں بھارت کا فتنہ طالبان کے ہاتھوں ختم ہو گا۔