دور آمریت میں پرویز الٰہی منہ مانگی وزارت دینے کو تیار تھے‘ جیل جانے کو ترجیح دی: رانا ثناء

دور آمریت میں پرویز الٰہی منہ مانگی وزارت  دینے کو تیار تھے‘ جیل جانے کو ترجیح دی: رانا ثناء

فیصل آباد (نمائندہ خصوصی) سابق صوبائی وزیر قانون و بلدیات رانا ثنا ء اللہ  نے کہا ہے  خود کو پارٹی کا ادنیٰ کارکن سمجھتا ہوں، وزارت جانے کا ذرہ  برابر بھی افسوس نہیں ۔ وزارت کی انکی نظر میں تنکے کے برابر بھی حیثیت نہیں ۔دور آمریت میں چودھری پرویزالٰہی  انکے پائوں کو ہاتھ بھی لگاتے اور منہ مانگی وزارت بھی دینے کو تیار تھے مگر میں نے پارٹی کی خاطر جیل جانے اور ٹارچر برداشت کرنے کو ترجیح دی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے یونین کونسل 256میں رانا اظہر وقار کی طرف سے ان کے اعزاز میں دی گئی عید ملن پارٹی کی تقریب سے سابق ناظمین،نائب ناظمین و دیگر معززین علاقہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ حاجی امجد انصاری،یونس پہلوان،غلام رسول انصاری،میاں محمد جمشید،ملک سلطان اعوان،ندیم مغل،رانا طارق منج،عتیق الرحمن انصاری،ملک افضل قادری،حمید علی،شیخ حبیب،ڈاکٹر محمد افضل مرتضیٰ و دیگر بھی اس موقع پر موجود تھے۔ سابق صوبائی وزیر نے کہا  سانحہ ماڈل ٹائون پر مجھے بھی افسوس ہوا ہے، پر یہ میری غلطی نہیں اور نہ ہی میں نے کسی کو گولی چلانے کا حکم دیا تھا۔ یہ موقع کی مناسبت سے ہوا اور اس کے ذمہ دار موقع پر موجود لوگ ہیں ۔اگر مجھ سے غلطی ہوئی تو اس پر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں معافی کا طلبگار ہوں،طاہر القادری سے کسی صورت معافی نہیں مانگوں گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات سچ ہے کہ انکی زیر صدارت اجلاس ہوا تھا مگر اس میں صرف تجاوزات ہٹانے کا فیصلہ ہوا تھا اور ایک نہیں بلکہ 10 اجلاس ہوئے تھے۔تجاوزات ہٹانے کا فیصلہ ان کا ذاتی نہیں بلکہ حکومتی سطح کا تھا ۔انہوں نے کہا کہ ایک ماہ سے جوڈیشل کمیشن قائم ہے مگر کوئی ایک گواہ بھی انکے خلاف ثبوت پیش نہیں کر سکا ۔ مرتضیٰ بھٹو بھی پولیس کی گولیاں لگنے سے قتل ہوئے تھے تو کیا اس وقت کے وزیر قانون، وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم ذمہ دار نہیں تھے ۔کیا انہوں نے استعفیٰ دیا تھا ؟انہوں نے کہا کہ فیصل آباد میں کرپشن کے بے تاج بادشاہ انکے خلاف کرپشن کے الزامات لگا رہے ہیں تو میں ان سے کہتا ہوں کہ جوڈیشل کمیشن کے سامنے ثبوت پیش کریں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے ۔ آج تک ایک مرلہ زمین پر بھی قبضہ نہیں کیا جو کچھ بھی بنایا اس کا حساب دینے کو تیار ہوں ۔ تمام ارکان اسمبلی ترقیاتی کاموں میں 16فیصد کمیشن کام ہونے سے بھی پہلے لے لیتے ہیں مگر میں نے آج تک کمیشن کا ایک روپیہ بھی وصول نہیں کیا بلکہ معیاری کام کو ترجیح دی۔جنرل ہسپتال سمن آباد ایک ارب روپے کا پراجیکٹ ہے اور میں اسکے ٹھیکیدار کی آج تک شکل بھی نہیں دیکھی ۔