ظاہری اور باطنی کبیرہ گناہ

مولف: علامہ ابن حجر مکی ہیتمیؒ
مترجم: مولانا حافظ محمد ظفر اقبال
دوسری قسط
اس زمرے میں نبی کا یہ فرمان بھی آتا ہے کہ بعض بیان جادو کا سا اثر رکھتے ہیں۔ مطلب یہ کہ متکلم اپنے حسن بیان اور بلیغ عبارتوں کے ذریعے کلام کی مشکل چیزوں کو واضح اور اس کی حقیقت کو کھول دیتا ہے اور یہ کہنا کہ نبی کا یہ فرمان فصاحت و بلاغت کی مذمت پر مشتمل ہے کیونکہ اسے جادو سے تشبیہ دی گئی ہے، بہت بعید از حقیقت بات ہے اور اس قول کے قائلین نے جن چیزوں سے استدلال کیا ہے ان میں ان کی دلیل بنتی نہیں ہے، مثلاً وہ نبی کے اس فرمان سے استدلال کرتے ہیں کہ ہو سکتا ہے تم میں سے بعض لوگ دوسرے لوگوں سے زیادہ وضاحت کے ساتھ اپنی حجت بیان کر سکتے ہوں۔ اسی طرح نبی کا یہ فرمان بھی ان کا مستدل ہے کہ تم میں سے میرے نزدیک سب سے زیادہ مبغوض وہ شخص ہے جو لمبا چوڑا کلام کرنے والا اور اسے دہرانے والا ہو۔ البتہ یہ صحیح ہے کہ مذکورہ حدیث کے راوی امام شعبی اور صعصعہ بن صوحان کہتے ہیں کہ جہاں تک نبی کے اس فرمان کا تعلق ہے کہ بعض بیان جادو ہوتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک آدمی حق پر ہو، دوسرا آدمی حقدار سے زیادہ چرب لسان ہو اور اپنی حجت واضح طور پر پیش کرکے لوگوں پر جادو کر دے اور اس کا حق چھین کر لے جائے، علماءبلاغت اور زبان دانی کی تعریف بھی اس وقت تک کرتے ہیں جب تک وہ باطل کو حق کی صورت میں اجاگر نہ کرے، اب اگر اس حدیث کا پہلا مطلب لیا جائے کہ اس میں حق پر مبنی فصاحت کی تعریف کی گئی ہے تو اس حدیث میں حق بات کو واضح کرنے والی چیز کو جادو کا نام دیا گیا ہے اور جادو سے مراد اظہار خفاہے، وہ معنی مراد نہیں ہے جس پر سحر کا لفظ دلالت کرتا ہے۔ یعنی اخفاءظاہر کیونکہ اتنی مقدار تو محض دلوں کو راغب کرنے کے لیے ہوتی ہے اور اس اعتبار سے یہ سحر کے مشابہہ ہو گی کہ اس سے بھی دلوں کو اپنی طرف مائل کیا جاتا ہے نیز جادو کے ساتھ اس کی مشابہت کی ایک دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ قادر الکلام فصیح و بلیغ آدمی بسا اوقات اچھے کو برا اور برے کو اچھا بنانے پر بھی قادر ہوتا ہے جیسا کہ جادو میں ہوتا ہے۔
    اس مسئلے میں علماءکی مختلف آراءہیں کہ آیا سحر کی کوئی حقیقت ہوتی ہے یا یہ محض ایک تصوراتی ، تخیلاتی اور توہماتی چیز ہے؟ چنانچہ بعض علماءکی رائے یہ ہے کہ یہ ایک تخیلاتی چیز ہے، اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ”جادو گروں کے جادو کی وجہ سے انہیں یوں متخیل ہوا کہ وہ لاٹھیاں اور رسیاں دوڑ رہی ہیں“ جبکہ جمہور علماءکی رائے ”جس پر احادیث بھی دلالت کرتے ہیں اور وہی زیادہ صحیح رائے ہے“ یہ ہے کہ سحر کی حقیقت ہوتی ہے کیونکہ ایک ملعون یہودی جادوگر لبید بن اعصم نے نبی پر جادو کر دیا تھا، نبی نے وحی کی روشنی میں بئرذروان سے وہ چیزیں نکالنے کا حکم دیا جن پر جادو کیا گیا تھا، انہیں نکالا گیا تو دیکھا کہ ان پر گرہیں لگائی ہوئی ہیں، جوں جوں گرہیں کھلتی گئیں نبی کی طبیعت ہلکی ہوتی گئی حتیٰ کہ جب ساری گرہیں کھل گئیں تو نبی کو یہ محسوس ہوا جیسے انہیں کسی رسی سے آزاد کر دیا ہو، اسی طرح ایک مرتبہ حضرت ابن عمرؓ اپنے پھلوں کا تخمینہ لگانے کے لیے خیبر تشریف لے گئے، وہاں یہودیوں نے ان پر جادو کر دیا اور ان کا بازو اپنی جگہ سے ہل گیا، بالآخر حضرت عمرؓ نے یہودیوں کو خیبر سے جلا وطن کر دیا، اسی طرح ایک عورت حضرت عائشہ صدیقہؓ کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ اے ام المومنین! اگر کوئی عورت اپنے ”اونٹ“ کو رسی سے باندھ دے تو اس پر کوئی گناہ ہو گا؟ حضرت عائشہؓ اس کا مطلب نہیں سمجھیں اس لیے فرما دیا کہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہو گا، اس پر وہ عورت کہنے لگی کہ میں نے اپنے شوہر پر دوسری عورتوں سے بندش کرا دی ہے، حضرت عائشہؓ نے فرمایا اس جادوگرنی کو میرے پاس سے نکالو۔
    باقی رہی سورہ¿ طہٰ کی مذکورہ آیت کی توجیہ تو وہ یہ ہے کہ اس بات کے ہم بھی قائل ہیں کہ سحر کی بعض اقسام تخیلاتی بھی ہیں اور بعض اقسام ایسی ہیں جن کی حقیقت بھی ہوتی ہے، رہی یہ بات کہ نبی پر جادو کا اثر کیسے ہو گیا حالانکہ اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ ”لوگوں سے آپ کی حفاظت اللہ تعالیٰ خود فرمائے گا“۔