رسول اکرم کا حسن وجمال

حافظ محمد زاہد
گزشتہ دنوں ایک متنازعہ فلم کی نمائش کی گئی جس میں (نعوذباللہ)ایک اداکار نے نبی اکرم کا کردار اداکیا۔اس پر پورے عالم اسلام میں مختلف انداز میں احتجاج کیا جارہا ہے۔احتجاج کا ایک طریقہ یہ ہے کہ نبی اکرم کی سیرتِ مطہرہ کو زیادہ سے زیادہ عام کیا جائے ۔اس حوالے سے میں نبی اکرم کے حسن وجمال کی کیفیت بیان کرنے کی سعادت حاصل کر رہاہوں جس کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ کوئی شخص بھی نبی اکرم کا کردار ادانہیں کرسکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کوئی شخص ایک فیصد بھی آپکے مشابہ نہیں ہوسکتا۔ باوجود اس کے کہ آپ کے حسن و جمال کو مکمل طور پر ظاہر نہیں کیا گیا ‘اس لیے کہ اگر آپ کے حسن و جمال کو مکمل طور پر ظاہر کر دیا جاتا تو کوئی آنکھ بھی آپ کو دیکھنے کی طاقت نہ رکھتی۔بقول شاعر
      خدا کی غیرت نے ڈال رکھے ہیں تجھ پہ ستر ہزار پردے
جہاں میں لاکھوں ہی طور بنتے جو اِک بھی اُٹھتا حجاب تیرا!
یہی وجہ ہے کہ نبی اکرم کے حسن وجمال کی اصل حقیقت اللہ عزوجل کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ۔ بقول شاعر
خدا ہے عارف و مدح ذاتِ عالی کا
جو کوئی مدح کا دعویٰ کرے خیال ہے خام!
ویسے تو نبی اکرمﷺ کا سارا جسم ہی سراپاحسن وجمال تھا لیکن آپ کے چہرہ¿ مبارک کے انوارات کی کیفیت نمایاں تھی۔ دیکھنے والوں نے آپ کے چہرہ¿ انور کو چمکتے سورج اورچودھویں رات کے چاند سے تشبیہہ دی ہے جو روشنی اور نور میںنہایے ہوتے ہیں‘لیکن یہ تشبیہات تقریبی اور بطور مثال کے ہیں‘ ورنہ آپکا چہرئہ مبارک ایک سورج اورچاند تو کیا ایسے ہزاروںسورج اورچاند سے بھی زیادہ منور تھا۔بقول شاعر
دیر و حرم میں روشنی شمس و قمر سے ہو تو کیا
مجھ کو تو تم پسند ہو اپنی نظر کو کیا کروں!
شیخ عبد الحق محدث دہلوی نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ نبی اکرم کا چہرہ¿ مبارک ربّ العالمین کے حسن وجمال کا آئینہ ہے اور ربّ العالمین کی بے انتہا تجلیات کا مظہر ہے۔الغرض آپ کا حسن و جمال ایسا کامل تھا کہ آپ قدرت کا اِک شاہکار نظر آتے تھے جسے اس کے خالق نے بڑی محبت اور چاہت سے تخلیق کے سانچے میں ڈھالا تھا ۔بقول شاعر
وہ اِک شہکارِ فطرت جس پہ خود خالق کو پیار آئے
کسی ذی روح نے آپ جیسانہ پہلے کبھی دیکھا تھا اور نہ قیامت تک دیکھ سکے گا‘ اس لیے کہ آپ ہر اعتبار سے حسن کی انتہا کو پہنچے ہوئے تھے۔جس نے بھی آپ کو دیکھا وہ بلااختیار پکار اٹھا کہ ہم نے اس سے پہلے حسن و جمال کا ایسا پیکر کبھی نہیں دیکھا ۔ حضرت براءبن عازب ؓ فرماتے ہیںکہ میں نے نبی اکرم سے زیادہ حسین کوئی چیز (چاہے انسان ہو یا غیر انسان ) کبھی نہیں دیکھی۔حضرت عائشہ فرماتی تھیں کہ زلیخا کی سہیلیاں(جنہوں نے حضرت یوسف کے حسن کو دیکھ کر اپنے ہاتھوں کو کاٹ لیا تھا)اگر وہ محمدکے چہرئہ انور کو دیکھ لیتیں تو ہاتھوں کے بجائے دلوں کو کاٹ لیتیں۔
نہ کوئی آپ سا ہوگا‘ نہ کوئی آپ جیسا تھا
کوئی یوسف سے پوچھے مصطفی کا حسن کیسا تھا!
نبی اکرم ﷺ کے حسن کی جو تعبیر شاعررسول حضرت حسان بن ثابتؓنے کی ہے وہ بھیکسی شاہکار سے کم نہیں ہے:(ترجمہ)”آپ سے زیادہ حسین کسی آنکھ نے کبھی نہیں دیکھا اور نہ کسی ماں نے آپ سے زیادہ خوبصورت جنا ہے۔آپ تو ہر عیب سے پاک پیدا کیے گئے ہیں گویا آپ نے جیسا چاہا ویسے ہی آپ کی تخلیق کر دی گئی۔“ (سبحان اللہ!)
دستِ قدرت نے ایسا بنایا تجھے
جملہ اوصاف سے خود سجایا تجھے!
اے ازل کے حسیں‘ اے ابد کے حسیں
کوئی تجھ سا نہیں‘ کوئی تجھ سا نہیں!
نبی اکرمﷺکے حسن وجمال کی اس مختصر سی کیفیت کو پڑھ کر اب کوئی بتلائے کہ کیا اس دنیا میںکوئی ایسا ہے جو آپ کا کردار ادا کرسکنے کی صلاحیت رکھتا ہو؟اس کا جواب یقینا نفی در نفی میں ہوگا۔