حضرت عباس نے حضرت عمرؓ کی کمر پر کھڑے ہو کر مسجد نبوی کا پرنالہ لگایا

حضرت فاروق اعظمؓ ایک مرتبہ مسجد نبوی میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ حضور اقدس کے چچا حضرت عباس کے گھر کا پرنالہ مسجد نبوی کی طرف لگا ہوا ہے۔ بارش وغیرہ کا پانی مسجد نبوی کے اندر گرتا تھا گویا کہ مسجد کی فضا میں وہ پرنالہ لگا ہوا تھا۔ حضرت فاروق اعظمؓ نے سوچا کہ مسجد تو اللہ تعالی کا گھر ہے اورکسی شخص کے ذاتی گھر کا پرنالہ مسجد کے اندر آ رہا ہوں تو یہ اللہ کے حکم کے خلاف ہے۔ چنانچہ آپ نے اس پرنالے کو توڑنے کا حکم دے دیا اور وہ توڑ دیا گیا۔ اب دیکھئے کہ آپ نے اس پرنالے کو توڑنے کا جو حکم دیا یہ غصے کی وجہ سے تو دیا لیکن غصہ اس بات پر آیا کہ یہ کام مسجد کے احکام اور آداب کے خلاف ہے۔ جب حضرت عباسؓ کو پتہ چلا کہ میرے گھر کا پرنالہ توڑ دیا گیا ہے تو حضرت فاروق کے پاس آئے اور ان سے فرمایا کہ آپ نے یہ پرنالہ کیوں توڑ دیا؟ حضرت فاروق اعظم نے فرمایا کہ یہ جگہ تو مسجد کی ہے۔ کسی کی ذاتی نہیں ہے۔ مسجد کی جگہ میں کسی کا پرنالہ آنا شریعت کے حکم کے خلاف تھا۔ اس لئے میں نے توڑ دیا۔ حضرت عباسؓ نے فرمایا کہ آپ کو پتہ بھی ہے کہ یہ پرنالہ یہاں پر کس طرح لگا تھا؟ یہ پرنالہ حضور اقدس کے زمانے میں لگا تھا اور آپ کی اجازت سے میں نے لگایا تھا۔ آپ اس کو توڑنے والے کون ہوتے ہیں۔ حضرت فاروق اعظمؓ نے فرمایا کہ کیا حضور اقدس نے اجازت دی تھی؟ انہوں نے کہا فرمایا کہ ہاں! اجازت دی تھی۔ حضرت فاروق اعظمؓ نے حضرت عباس سے فرمایا کہ خدا کے لئے میرے ساتھ آﺅ۔ چنانچہ اس پرنالے کی جگہ کے پاس گئے اور وہاں جا کر خود رکوع کی حالت میں کھڑے ہو گئے اور حضرت عباسؓ سے فرمایا کہ اب میری کمر پر کھڑے ہو کر یہ پرنالہ دوبارہ لگاﺅ۔ حضرت عباسؓ نے فرمایا کہ میں اسے دوسروں سے لگوا لوں گا۔ حضرت فاروق اعظمؓ نے فرمایا کہ عمر کی یہ مجال کہ وہ محمد رسول اللہ کے لگائے ہوئے پرنالے کو توڑ دے۔ مجھ سے یہ اتنا بڑا جرم سرزد ہوا، اس کی کم سے کم سزا یہ ہے کہ میں رکوع میں کھڑا ہوتا ہوں اور تم میری کمر پر کھڑے ہو کر یہ پرنالہ لگاﺅ۔ چنانچہ حضرت عباسؓ نے اس کی کمر پر کھڑے ہو کر وہ پرنالہ اس کی جگہ پر واپس لگا دیا۔
    وہ پرنالہ آج بھی مسجد نبوی میں لگا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جزائے خیر دے جن لوگوں نے مسجد نبوی کی تعمیر کی ہے۔ انہوں نے اب بھی اس جگہ پر پرنالہ لگا دیا ہے۔ اگرچہ اب اس پرنالے کا بظاہر کوئی مصرف نہیں ہے لیکن یادگار کے طور پر لگا دیا ہے۔ یہ درحقیقت اس حدیث پر عمل ہے۔ پہلے جو غصہ اور بغض ہوا تھا وہ اللہ کے لئے ہوا تھا اور اب جو محبت ہے وہ بھی اللہ کے لئے ہے جو شخص یہ کام کر لے اس نے اپنا ایمان کامل بنا لیا۔ یہ ایمان کامل بنا لیا۔ یہ ایمان کے کامل ہونے کی علامت ہے۔