اسلامی تبلیغی روحانی و اصلاحی اجتماع

مولانا ابوالحفاظ الخیری
 اللہ تعالی نے اس کائنات کو اپنی شان ِقدرت سے ان گنت مخلوق سے سجایا اور حضرت انسان کواس کی خلافت ارضی سونپی، بنی نوع انسان کو اشرف المخلوقات ہونے کی عزت بخشی اور عقل و شعور جیسی عظیم دولت سے نوازا۔ اللہ رب ذوالجلال نے اپنے بندوں میںسے اپنی برگزیدہ ہستیوں کا چناﺅ فرمایا۔ جنہوں نے لوگوں میں معبودِ حقیقی کی معرفت و محبت بخشی۔ یہ سلسلہ انبیاءعلیہم السلام سے شروع ہو کر سید المرسلین کی ذاتِ با برکات پر اختتام پذیر ہوا۔ پھر اسی نور کی کرنوں سے آپ کے جانثاروں نے جہاں والوں کو جہالت کے اندھیروں سے ہمیشہ باہر نکالا اور پاک باز لوگ سلسلہ بسلسلہ اس فریضہ کو سر انجام دیتے آ رہے ہیں۔ تعلیم کتاب وحکمت ہو یا تزکیہ نفس، صالحین امت محمدیہ ہر مشکل دور میں اس مشن کی تکمیل پر کاربند ہوتے ہوئے اپنا تن من دھن قربان کرتے نظر آتے ہیں۔ ان نفوس قدسیہ کا چناﺅ مشیت ایزدی پر موقوف ہے کیونکہ خالق کائنات نے انہیں اصلاح امت اور اپنی دوستی کے لئے مخصوص فرما دیا ہے۔ انبیاءکرام علیھم السلام کے بعد ان پاک ہستیوں کی زندگیوں پر نظر ڈالی جائے تو چشم زدن میں یہ لوگ لوگوں کی کایا پلٹتے دکھائی دیتے ہیں۔ فیضان نبوت کے اُجالے تقسیم کرنے والوں میں سے کوئی تو وہ بھی ہے جو لاکھوں کو کلمہ پڑھاتا نظر آتا ہے جدھر اشارہ ہوتا ہے ادھر سے کلمہ طیبہ کی صدا بلند ہوتی ہے۔
اس کارہستی میں اللہ کریم بعض انسانوں کے نقوش حیات کو دوام عطا فرماتا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ یہ خوش نصیبی بہت کم انسانوں کو میسر آتی ہے کہ ان کی جدوجہد کو بقاءدوام کی عظمت عطا ہو جائے اور جسے یہ عظمت عطا ہو جائے وہ سعید بخت انسان کاروان انسانیت کا فخر و افتخار ہوتا ہے۔ ہاں ایسے لوگوں کی جہد پیہم کے نقوش منزل عمل کی جانب چلنے والوں کےلئے شمع راہ کا کام دیتے ہیں۔ اور تاریخ کی جبین ارادت ان کی عظمت و کمال کے آگے جھکی ہوتی ہے۔
بلا شبہ پیرِ طریقت رہبر شریعت منبع رشد و ہدایت زینت الذاکرین حضرت خواجہ ابو الخیر محمد عبد اللہ جان دامت فیوضہم و مدظلہ العالی نقشبندی، مجددی، قادری، چشتی، سہروردی، اویسی، شازلی، نظامی سجادہ نشین دربار عالیہ مرشد آباد شریف پشاور کا شمار انہی سرفراز نقوش میں ہوتا ہے جنہوں نے مقصد و لگن، مخلصانہ مساعی اور عزم بے کراں کی بدولت یہ مقام حاصل کیا جن کے طرز عمل نے انہیں عزت و شہرت کی بلندیاں عطا کر رکھی ہیں۔ان کی عظمت و وقار میں جو بات پنہاں ہے وہ عشق الٰہی و عشق رسولﷺ ہیں۔ یہ عشق کی لذت آپ کے رگ و ریشہ میں اتارنے اور نقشبندی رنگ میں مکمل طور پر رنگ دینے والے آپ کے مرشد گرامی زریں زربخت قطب عالم جناب خواجہ نواب الدین رحمة اللہ علیہ تھے۔ مرشد کریم نے ایسا نکھار دیا کہ پھر جہاں بھی گئے ہر ایک صاحب نظر نے خود بلا بلا کر حصہ عطا فرمایا۔ سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ میں اجازات شیخ العرب والعجم قطب مدینہ حضرت مولانا ضیاءالدین احمد مدنی ؒ، اور سلسلہ عالیہ، قادریہ، غفوریہ، چشتیہ، صابریہ، مجددیہ، سہروردیہ، بنوریہ، نقشبندیہ علویہ میں حضرت مولانا میرا گل صاحب(چارسدہ) نے عطا فرمائیں۔ اسی طرح یہ فیضان محبوب الٰہی شیخ المشائخ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء(دہلی) کے دربارِ گوہر بار سے بھی حاصل ہوا۔ مزید سر ہند شریف سے حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی کے عرس مبارک کے موقع پر شیخ طریقت حضرت مولانا محمد اللہ خان سجادہ نشین خانقاہ عالیہ عنائتیہ رامپور شریف (ہندوستان) نے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ، مجددیہ، مظہریہ، عنائتیہ میں اجازت و خلافت عنایت فرمائی۔
مکة المکرمہ میں العالم الفاضل فضیلة الشیخ، حضرت العلامہ السید محمد علوی المالکی الحسنی استاذ الحدیث بالبلاد الحرام حجاز مقدس نے علمی سند عطا فرمائی۔
متحدہ عرب امارات کے روحانی دورے کے موقع پر دبئی میں فضیلة الشیخ حضرت یوسف السید ہاشم الرفاعی دامت برکاتھم العالیہ نے سلسلہ عالیہ، رفاعیہ کی خلعت فاخرہ سے نوازا۔
حضرت العلامہ پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعودؒ نے بھی حظ وافر عطا فرمایا اور سلسلہ عالیہ نقشبندیہ، مجددیہ، مظہریہ، قادریہ، رضویہ، چشتیہ، اویسیہ میں اجازات و خلافت عطا فرمائی۔ اور یہ حقیقت ہے کہ بچپن سے ہی حضرت خواجہ صاحب کی پیشانی سے آثارِ ولایت ہویدا و آشکار تھے۔ آپ کی ذات میں رب کائنات نے ان گنت صفات ودیعت کی ہیں۔ صبر و شکر و توکل، حلم و فہم و فراست، فصاحت و بلاغت، صباحت و ملاحت، روحانیت و نورانیت، حسن و جمال، کم خوردن و کم گفتن، کم خفتن اور سب سے بڑھ کر ذات و آل و آثار و دیار محبوب کبریا (علیہ وعلی الہ الصلوة والسلام) سے جنون و وارفتگی کی حد تک عشق اور ذاتِ (ھُو) میں فنائیت ”ہیچ لحظہ ازاو غافل مباش“کی روش ، ہوش در دم ، نظر برقدم ، سفردروطن ، خلق خدا کی دل جوئی اور دستگیری۔
پاک و ہند کے دوسرے صوفیائے کرام اور بزگانِ دین کی طرح خواجہ ابوالخیر کے آباﺅ اجداد بھی علم و حکمت و روحانیت میں بلند پایہ مقام رکھتے تھے۔ آپ صاحب علم ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی علم دوست ہیں۔ اور آپ کو فارسی زبان و ادب سے شناسائی ورثے میں ، پشتو زبان و ادب میں قوت گویائی پشاور کے ماحول سے اور عربی زبان وادب کے صحر ا میں جادہ پیمائی...... علم لدنی کے کھاتے میں ملی۔ مدارس و مخلوق خدا کی مدد کے ساتھ ساتھ بے شمار لوگوں کو آپ نے حج و عمرے بھی کروائے ہیں۔ اور خود دس سال تک مسلسل حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی۔
 اسی طرح بلاد عالم میں اہل اللہ و اولیاءاللہ کی زیارات ، انبیاءکرام و مقدس مقامات کی زیارات میں اتنے سفر کیے کہ اہلِ نظر معترف ہیں کہ آپ کا موازنہ اگر ابن بطوطہ سے کیا جائے تو آپ نے ابن بطوطہ سے کہیں زیادہ سفر کیے۔
ایک واضح فرق ضرور ذہن میں رکھیے کہ اُس سیاح کا سفر کسی اور انداز کا تھا اور اس عظیم سیاح کا سفر کسی اور نوعیت کا ہے۔
صاحبِ کشف و کرامات ہیں مگر اظہار و تعلی سے لا تعلق ہیں۔آپ کی ذات تواضع انکساری کا ایک حسین مرقع ہے آپ کے ہر ہر فعل و ادا میں تواضع کا پہلو نمایاں ہو تا ہے حتی کہ چلنے پھرنے بیٹھنے اٹھنے کلام و گفتگو فرمانے غرض ہر چیز میں تواضع کی ایک شان نظر آتی ہے ۔ آپ کی متواضعانہ چال ولا تمش فی الارض مرحا (اور زمین میں اترا کر نہ چل) کی عملی تفسیر ہے۔ آپ اذا رو¿وا ذکراللہ کا مصداق ہیں۔لاکھوں ہزاروں کے پر رونق مجمع کی زینت و وقار ہونے کیساتھ ایک غریب کی کٹیا اور جھونپڑی کا مان بننے میں غریب سے غریب ترکے گھر کو عزت بخشنے میں کوئی عار نہیں۔بلکہ غریب پرور ہیں اور انہیں ان کے گھر گھر جا کر نوازتے ہیں۔ حضرت کا خاص طرہ¿ امتیاز ہے کہ آپ امیر و غریب ،عالم و متعلم ، اہل سخن و اہل ادب ، فقراءومشائخ میں یکساں مقبول ہیں۔مریدوں سے بے پناہ محبت فرماتے ہیں۔ تقریباً ہر مرید یہ سمجھتا ہے کہ میرا مرشد مجھ سے زیادہ محبت کر تاہے۔ حضرت خواجہ ابوالخیر کے کلام میں انتہا کا اثر ، صحبت میں تاثیر ، متانت و سنجیدگی چہرہ انور سے مترشح ہے، عارفانہ و عالمانہ کلام فرماتے ہیں، ہزاروں گم گشتہ راہوں نے آپ کے ©©”اعجاز نظر“ سے راہِ ہدایت پائی ہے۔ اور اندرون ملک و بیرونی ممالک میں بے شمار لوگوں نے آپ کے باکمال چہرے کی زیارت کرکے کلمہ پڑھا اور حلقہ اسلام میں داخل ہوئے۔ آپ کے مریدین اکثریت شریعت مطہرہ کے پابند ہیں۔ انکی چال ڈھال ، وضع قطع اسلامی طرز حیات کے مطابق ہے۔
حضرت صاحب مطالعہ کے بہت رسیا ہیں ۔دربارعالیہ مرشد آباد پشاور میں قائم کتب خانہ خیریہ نایاب کتب کا ایک بہت بڑا ذخیرہ آپ کے علمی ذوق کا مظہر ہے۔جو کہ عجائبات ِ قرآن و نوادرات اور تبرکات و قلمی مخطوطات کا شاہکار ہے۔
کتب خانہ میں موجود حضرت خواجہ ابوالخیر صاحب کی سرپرستی میں کئی ہزار رسم الخطوط میں لکھا گیا عجائب القرآن (40 من وزنی قرآن کریم) جو کہ چودہ صدیوں کے اختتام پر تمام ادوار پر مشتمل قرآنی خطاطی کی عملی تاریخ کے عظیم شاہکارنے کتب خانہ خیریہ کی زینت کوچار چاندلگا دئیے ہیں۔
اس درگاہ سے تعلیم کے ساتھ ساتھ تحریر کا سلسلہ بھی جاری و ساری ہے اس سلسلے کی ایک کڑی تصوف کا انسائیکلو پیڈیا کتاب ”تذکرہ نقشبندیہ خیریہ“ اہل حال و قال کیلئے مشعلِ راہ ہے۔ آپ کے دربار گوہر بار میں دولت کی نہیں محبت کی پوچھ ہے، علم و دانش کی پوچھ ہے، علماءو اہل سخن کی قدرومنزلت ہے بلکہ حقیقت ہے کہ آپ عالم گر و صو فی گر ہیں۔
الغرض ان چند سطور میں اس ہمہ جہت شخصیت و ہستی کے اوصاف کا احاطہ ناممکن ہے۔ آپ اپنی ذات میں ایک انجمن و ادارہ ہیں ۔ آپ کی عمر مبارک دراں حال 75 سال سے متجاوز ہے۔ جسم کی سکت کم ہو رہی ہے مگر ہمت و جذبہ تو ں توں جوان ہو رہا ہے آپ کے تمام اوصاف میں دو خوبیاں بہت ہی غالب ہیں :
۱۔ ذکر اللہ و ذکر رسول         ۲۔ علمی و دینی مراکز مع حلقہ ذکر کے مراکز
آپ کے ہاں مریدین میں یہ ذوق کثرت سے ملتا ہے ۔ عالم شباب میں حضرت کی ”بے خودی“ اور عشق الٰہی میں محویت و سرشاری کا یہ حال تھا کہ پوری پوری راتیں ذکر خدا میں گزر جاتیں ۔ جب صبح کی اذانیں ہوتیں تو گمان یہ ہونے لگتا کہ شاید محلے کی دوسری مساجد سے عشاءکی اذانیں ہو رہی ہیں ۔ لاکھوں کی تعداد میں آپ کے باکمال مریدین اندرون و بیرون ملک خوب ذکر اللہ و ذکر رسول کی دھومیں مچاتے ہیں۔
حضرت خواجہ ابو الخیر کا وقار و اعزا ز اگر کسی شخصیت کو حاصل ہے تو وہ ایک ہی نام ہے جن کی شخصیت میں مستقبل کی مسکراہٹیں ، اچھی امیدیں ،زندگی میں اچھی راہ متعین کرنے کی سوچ زندہ و جاوید ہے۔ جن کے لہجہ میں مخلص انسان کا درد بھرا ہوا ہے۔ جن کی سوچ و فکر میں ہمیشہ کیلئے بحربے کراں کی صورت اور جن کا آگے بڑھتا ہوا ہر قدم تقدیر یزداں کا استخارہ ہے جو اپنی ذات میں انجمن اور اپنی تنہا شخصیت میں سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کی ترجمانی کا اعزاز رکھتے ہیں۔جنہیں اہل عقل و دانش نے ©©”شیخ طریقت رہبر شریعت محبوب الذاکرین حضرت خو ا جہ ابوالجمال محمد بدر عالم جان “کا نام دے رکھا ہے۔
حضرت خواجہ ابوالجمال محمد بدر عالم جان صاحب سیرت و کردار ، حسن و جمال ، علم و عمل اور جذبہ عشق و مستی میں اپنے والد گرامی حضرت خواجہ ابوالخیر کا عکس ہوبہو ہیں۔
 آپ ذکرو فکر ، علم و عمل کا بہترین شاہکار ہیں متانت ، وقار و سنجیدگی ، حیاءو شرم، جہد پیہم آپ کا اوڑھنا بچھونا ہے۔آپ کو بھی مقبولیت تامہ حاصل ہے۔
(اللھم زد فزد ۔ آمین)
حضرت خواجہ ابوالجمال محمد بدر عالم جان کو سلاسل طریقت کی تمام اجازات اپنے والد گرامی سے پہلی مرتبہ حرمین شریفین کی حاضری کے موقع پر مسجد نبوی شریف میں دوسری مرتبہ حضرت خواجہ با قی باللہؒ کے مزار مقدس انڈیا حاضری کے موقع پر جبکہ تیسری مرتبہ بخارا شریف شہنشاہ نقشبند حضرت بہاو¿الدین نقشبند ؒکے مزار مقدس پر حاضری کے موقع پر عطاءہوئیں۔
علازہ ازیں مفتی اعظم شام قطب وقت الشیخ احمد کفتارو ؒنے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں اورمدینہ منورہ میں قطب مدینہ حضرت مولانا ضیاءالدین احمد مدنیؒ کے جانشین الشیخ مولانا ڈاکٹر رضوان احمد قادری رضوی مد ظلہ العالی نے سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ میں خلافت و اجازت سے نوازا۔مکةالمکرمہ میں فضیلةالشیخ حضرت علامہ السید محمد علوی المالکی الحسنیؒ کے جانشین فضیلة الشیخ السید محمد عباس علوی المالکی مدظلہ العالی نے سند ِ حدیث اور مختلف سلاسل طریقت کی اجازت سے نوازا۔
حضرت خواجہ ابوالجمال اپنے والد گرامی کی طرح متعدد بار حج بیت اللہ ، زیارات مقدسہ ،اہل اللہ و اولیاءاللہ سے شرف ملاقات اور بلاد اللہ کی سیر شرق و غرب میں وافر حصہ رکھتے ہیں ۔یہ سلسلہ جاری و ساری ہے۔
جذبہ¿ عشقِ رسول، گرمی مجالس ذکر اللہ اور تعلیمی مراکز کی نگرانی نے آپ کو واقعی ”بدر“ اسم با مسمیٰ بنا دیا ہے۔ دربارعالیہ مرشد آباد شریف پشاور اورخانقاہ نقشبندیہ مجددیہ خیریہ اسلام آباد اور ملک کے طول و عرض میں متعددتعلیمی مراکز(مدارس و سکول) کی سرپرستی آپ ہی فرما رہے ہیں۔دن رات اندرون ملک و بیرونی ممالک میںمجالس ذکر کو درس و تدریس ، علم و حکمت اور روحانیت سے گرما رہے ہیں۔
متعدد غیر مسلم آپ کے دست ِ حق پرست پر مشرف بہ اسلام ہو چکے ہیںاور ہزاروں کی تعدادمیںگم گشتگانِ راہ شب و روزآپ کی صحبت سے فیض یاب ہو کر راہِ ہدایت پا رہے ہیںجن میں کثیر تعداد نوجوانوں کی ہے۔
 اللہ تعالی اس عظیم سالارِ قافلہ کے علم و عمل میں برکتیں عطا فرمائے اور مخلوق خدا آپ کے فیضانِ نظر سے تا قیامت مستفیض ہوتی رہے۔ آمین۔
ساقی تیرے مے خانے کی خیر ہو
مرکز علوم ظاہری و باطنی ، مرکز قال و حال خانقاہ نقشبندیہ مجددیہ خیریہ G-7/2-4 اسلام آباد میں ہفتہ وار محفلِ ذکر و فکر بعد نماز جمعہ اورماہانہ محفل ذکر و فکر ہر ماہ چاند کی 10 تاریخ کو بعد نماز مغرب منعقد ہوتی ہے۔ یہ انتہائی پر سوز ، کیفیات سے لبریز و اصلاحی محافل ہوتی ہیںجن میں قلوب واذھان محبتِ رسول و محبت ِ صالحین سے سرشار ہوتے ہیں۔اور اسی طرح اسلامی تبلیغی روحانی اصلاحی اجتماع سالانہ عرس پاک کی تقریب ہر سال کی طرح امسال بھی 2، 3 اور 4 نومبر 2012 ءبروز جمعہ ، ہفتہ ، اتوار دربار عالیہ مرشد آباد شریف پشاور شہر میں منعقد ہو گی۔ جس میں اندرون ملک و بیرونی ممالک سے مشائخ عظام ، جید علماءکرام ، مریدین و متعلقین و متوسلین کثیر تعداد میں شرکت فرمائیں گے ۔