دتہ خیل: زمینی کاروائی، فضائی حملہ ، 22 دہشت گرد ہلاک: جنوبی وزیرستان: بم دھماکے میں پولیٹیکل محرر، 2 محافظ جاں بحق

دتہ خیل+وانا+راولپنڈی (ایجنسیاں+بی بی سی اردو+ نوائے وقت رپورٹ) شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں سکیورٹی فورسز کی زمینی کارروائی میں 12 جبکہ فضائی حملے میں 10 دہشت گرد ہلاک ہو گئے ۔ فضائی حملے میں اسلحہ اور بارود کا ذخیرہ بھی تباہ کردیا گیا۔ دوسری جانب جنوبی وزیرستان میں ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں پولیٹیکل محرر دو محافظوں سمیت جاںبحق ہو گئے۔ دتہ خیل میں پہلی مرتبہ ایسی زمینی کارروائی کی گئی ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق اتوار کی رات دتہ خیل سے دس کلومیٹر دور یہ کارروائی کی گئی۔ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب کامیابی سے اپنے پلان کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے۔ خفیہ اطلاعات پر سکیورٹی فورسز کے زمینی آپریشن میں دہشتگردوں کو گھیرے میں لے کر کارروائی کی۔ دہشت گرد ساتھیوں کی نعشیں چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ جنوبی وزیرستان کے علاقے راگزئی میں ریمورٹ کنٹرول بم حملے میں پولیٹیکل محرر سمیت 3افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہوگئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیٹیکل محرر فاروق وزیر اپنے محافظوں سمیت دو دن کی چھٹی کے بعد ڈیوٹی پر جارہے تھے کہ انہیں نشانہ بنایا گیا۔ واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ادھر صدر ممنون حسین‘ وزیراعظم نواز شریف، وزیراعلیٰ شہبازشریف اور وزیرداخلہ چودھری نثار نے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے جانی نقصان پر اظہار افسوس کیا ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے انسانی جانوں کے ضیاع پر غمزدہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ملک سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے۔ اے ایف پی کے مطابق شمالی وزیرستان میں طالبان نے 2 قبائلیوں کو امریکہ کیلئے جاسوسی کے الزام میں قتل کر دیا۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں کلاچی ہتھالہ روڈ پر ریموٹ کنٹرول بم دھماکہ ہوا‘ پیرآف اٹل شریف اور انکے بیٹے سمیت نو افراد زخمی ہوگئے‘ دھماکے میںگاڑی تباہ ہوگئی۔