فاٹا میں فورسز کی بھرپور کارروائیاں، شدت پسند پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئے: امریکی تھنک ٹینک

وزیرستان (نوائے وقت رپورٹ) فاٹا میں سکیورٹی فورسز کی بھرپور کارروائیوں سے شدت پسند پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئے۔ مئی میں سکیورٹی فورسز نے112 آپریشن میں 175 شدت پسندوں  جاںبحق ہوئے۔ ایک آزاد امریکی تھنک ٹینک ’’دی کنفلیکٹ مانیٹرنگ سنٹر‘‘ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اپریل اور مئی میں پاکستان کے قبائلی علاقوں میں کامیاب آپریشن کیے گئے۔ خان سید سجنا کی علیحدگی سے بھی طالبان کو دھچکا لگا۔ دوسری جانب حافظ گل بہادر کی جانب سے مذاکراتی عمل کی منسوخی بھی حکومت کیلئے کسی دھچکے سے کم نہیں۔ اس وقت کالعدم تحریک طالبان دیگر گروپوں سے اتحاد کی کوششیں کر رہی ہے۔ خیبر ایجنسی میں منگل باغ کے لشکر اسلام سے مذاکرات کیے جا رہے ہیں۔ سکیورٹی فورسز نے کارروائیوں میں شدت پسندوں کو جانی و مالی نقصان پہنچایا وہیں یہ کارروائیاں کئی شدت پسند گروپوں کو متحد بھی کر رہی ہیں۔ رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ شدت پسندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کا ردعمل جون میں سامنے آ سکتا ہے اور طالبان، القاعدہ کی جانب سے ملک کے بڑے شہروں اور فاٹا میں دہشت گردی کی کارروائیاں ہو سکتی ہیں۔