آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں‘ حکومت اور طالبان مذاکرات کریں : گرینڈ قبائلی جرگہ

بنوں (این این آئی) شمالی وزیرستان تحصیل میر علی کے اقوام قبائل وزیر و داؤڑ کے مشترکہ گرینڈ قومی جرگہ کے سربراہ ملک رقیب گل طوری خیل وزیر اور ملک محمد اقبال بورہ خیل وزیر ، ملک انور خان وزیر ، ملک اول جان طوری خیل وزیر ، ملک حکیم خان وزیر بوزہ خیل اور حافظ قاری اسماعیل احمد داؤڑ نے کہا ہے کہ حکومت اور طالبان کو چاہیے کہ وہ فاٹا میں قیام امن کیلئے مذاکرات کی راہ اپنائیں کیونکہ قبائلی علاقوں کے ایک کروڑ عوام پاکستان کے وفادار ، محب وطن، پر امن  اور بلامعاوضہ ملکی سرحدوں کے محافظ ہیں اور قبائل کو پاکستان کا بازوئے شمشیر زہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے کیونکہ ملک میں دیرپا امن اور خانہ جنگی کے خاتمے کا واحد حل مذاکرات ہیں آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں۔ فریقین مذاکرات کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرکے جنگ بندی کا اعلان کریں وہ شمالی وزیرستان تحصیل میر علی کے اقوا م قبائل وزیر و داؤڑ کے مشترکہ گرینڈ قبائل قومی جرگے سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا  گیارہ برس سے جاری جنگ کے دوران ڈرون حملوں اور جیٹ جہازوں کی بمباری سے ہزاروں بے گناہ عورتیں، بچے، جوان اور بوڑھے جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں۔ ہزاروں بے گناہ افراد اپاہج و معذور ہو چکے ہیں کروڑوں روپے کے املاک تباہ ہو چکی ہے اور لاکھوں قبائلی عوام اپنے گھروں سے نقل مکانی کر کے دور دراز علاقوں میں در بدر کی ٹھوکریں کھا کر کھلے آسمان تلے کسمپرسی، غریبی اور مجبوری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیرستان آپریشن سے ملک میں تباہی و بربادی کا ایک نیا دور شروع ہو جائے گا۔
گرینڈ جرگہ