گندم و شوگر پالیسی.... کسانوں کا استحصال



امان اللہ چٹھہ
گندم کی بوائی آخری مراحل میں ہے جبکہ گنا کی کٹائی کا آغاز ہو چکا ہے لیکن حکومت ابھی تک ان دو اہم زرعی اجناس کی خریداری کیلئے کاشتکاروں کو منصفانہ پالیسی دینے کے احساس سے عاری نظر آتی ہے۔ اس صورتحال سے کسانوں میں شدید مایوسی اور اضطراب پیدا ہو رہا ہے جس پر پچھلے دنوں کسان بورڈ پاکستان کے زیراہتمام کسانوں کے ملک گیر احتجاجی مظاہروں، ریلیوں میں شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا۔ حکومت کی مسلسل عدم توجہی کے باعث اگلے سیزن میں ان اجناس کی فی ایکڑ اور مجموعی ملکی پیداوار پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خطرہ پیدا ہو چکا ہے جس سے غذائی بحران جنم لے سکتا ہے۔ مسئلہ کی سنگینی اس بات سے واضح ہے کہ حکومت نے شوگر ملوں کو کسانوں کا استحصال کرنے کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔ گنا کی امدادی قیمت ہر سال کین کمشنر کے ذریعہ مقرر تو حکومت کرتی ہے لیکن اس میں کسانوں کی بجائے مکمل طور پر مل مالکان کے مفادات و خواہشات کو ہی پیش نظر رکھا جاتا ہے۔ موجودہ صورتحال سے اس غیرمنصفانہ بلکہ ظالمانہ طرز عمل کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ شوگر ملوں نے جان بوجھ کر قدرے تاخیر کے ساتھ کرشنگ سیزن کا آغاز کرتے ہوئے سرکاری آشیر باد سے گنا کی خرید 170روپے من پر شروع کی جو پچھلے سال کی امدادی قیمت تھی۔ استحصالی رویہ کا صرف یہی ثبوت کافی ہے کہ ایک سال کے دوران میں نہ صرف کھاد، تیل، بجلی کے نرخوں میں خود حکومت کی طرف سے کئی مرتبہ اضافہ کیا جا چکا ہے بلکہ تمام اشیائے ضرورت تعلیم، ادویات، لباس، ٹرانسپورٹ وغیرہ کی قیمتیں گذشتہ سال کے مقابلہ میں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ دوسری طرف ملوں کے پراڈکٹ (Product)چینی کو لیجئے جس کی قیمت یوٹیلٹی سٹور پر حال ہی میں 3روپے کلو بڑھا دی گئی ہے جبکہ 3لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کی منظوری پر برآمدی عمل شروع ہوتے ہی بازار میں چینی کے نرخ 52روپے کلو سے 62روپے کلو تک پہنچ گئے ہےں۔ اندریں حالات کسان تنظیموں نے گنا کی امدادی قیمت 230روپے من مقرر کرنے کا مطالبہ کیا جو انتہائی معقول بھی ہے اور منصفانہ بھی لیکن مل مالکان بڑی دیدہ دلیری کے ساتھ پچھلے سال کے نرخ میں ایک پیسہ اضافہ کے بھی روادار نہیں ہو رہے جس پر ہمارے حکمران پراسرار بلکہ کہنا چاہئے مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ شوگر ملیں مختلف وجوہات کی بنا پر گنا مالکان سے مختلف کٹوتیاں کرتی ہیں۔ کنڈوں میں گڑ بڑ کی بہت شکایات ہوتی ہیں۔ مزید براں قیمت کی ادائیگی کیلئے کسانوں کو سال بھر ملوں کے طواف کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ قانون موجود ہے کہ پندرہ دن تک ادائیگی نہ کرنے والی شوگر مل کو بند کیا جا سکتا ہے مگر حکمران طبقے سے تعلق رکھنے والوں کے خلاف یہ قانون شاذو نادر ہی حرکت میں آتا ہے۔ بعض اوقات تنگ کسان خود ملوں کا گھیراﺅ کرنے کے لئے جمع ہو جاتے ہیں تو کچھ شنوائی ہوتی ہے جس سے مل مالکان کی کاروباری’ ساکھ‘ اور حکومت کی گورننس کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔ کسانوں نے مطالبہ کر رکھا ہے کہ گنا خریدنے کی پرچی (CER)کو چیک کا درجہ دیا جائے تاکہ مل مالکان ادائیگی کے قانونی طور پر پابند ہو جائیں لیکن ابھی تک یہ انتہائی جائز مطالبہ بھی منظور نہیں کیا جا رہا۔
گندم پالیسی.... غذائی بحران کا خدشہ
جہاں تک گندم پالیسی کا تعلق ہے تو اسے غیر منصفانہ ہی نہیں غیردانشمندانہ قرار دیا جانا چاہئے وطن عزیز کی سرزمین کو کبھی ایشیا کا اناج گھر کہا جاتا تھا جس میں اب بھی بفضل خدا یہ صلاحیت (Potential)موجود ہے لیکن حکومت کی زرعی حکمت عملی آڑے آ رہی ہے۔ گذشتہ سال گندم کی امدادی قیمت 1200روپے من مقرر کی گئی۔ پاسکو او محکمہ خوراک کو خریداری کی ذمہ داری سونپی گئی۔ ان محکموں کے حکام کی جانب سے فصل کی کٹائی کے دوران جان بوجھ کر کسانوں میں باردانہ کی تقسیم اور خریداری کے عمل میں انتہائی سست روی (Goslow)اختیار کی جاتی ہے ۔ اس سال بھی کسان مجبور ہو کر کھلی منڈی میں 1100روپے سے 1130روپے من پر فروخت کرتے رہے لیکن جونہی فصل کسان کے ہاتھوں سے نکل گئی، باردانہ کا سیلاب آ گیا۔ غلہ منڈیوں اور بیوپاریوں کے پاس وافر سرکاری باردانہ پہنچ گیا جس سے سستے داموں خریدی ہوئی گندم ذخیرہ اندوزوں نے 1200روپے من فروخت کر کے راتوں رات لاکھوں روپے کمائے۔ مزید برآں کچھ عرصہ بعد کھلی منڈی میں گندم کے نرخ بڑھتے ہوئے 1500 بھی تجاوز کر گئے۔ اس دوران میں خیبر پختونخواہ حکومت کے ساتھ پاسکو کا 3لاکھ ٹن گندم فراہم کرنے کا سودا 1488روپے من میں طے پایا ہے۔
اس وقت پچھلی فصل کی برداشت کے 6ماہ بعد گندم کی قیمت 1600روپے من، آٹے کی 1800روپے من ہو چکی ہے جبکہ بیج کا سرکاری ادارہ پنجاب سیڈ کارپوریشن 1800من کے حساب سے نئی فصل کے لئے بیج فروخت کر رہا ہے اور نجی کمپنیوں نے سرکاری سپلائی میں کمی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کے نرخ 2400روپے من مقرر کر رکھے ہےں۔ اندریں حالات کسانوں نے اگلی فصل (جو 6ماہ بعد آئیگی) کے لئے امدادی قیمت 1500روپے من مقرر کرنے کا مطالبہ کر رکھا ہے۔ حکومت کے اپنے فیصلہ کے مطابق ہر فصل کی امدادی قیمت وغیرہ کے بارے میں پالیسی کا اعلان اس کی بوائی کے موقع پر کرنا ضروری ہے جبکہ حکومت اس سلسلہ میں ابھی تک خاموش ہے۔ ذخیرہ اندوز صارفین کو 1800روپے من آٹا فروخت کر کے دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔ حکومت شاید اس وجہ سے گریز کر رہی ہے کہ امدادی قیمت میں اضافہ سے اس کے خلاف مہنگائی میں اضافہ کی ہاہاکار مچ جائے گی ۔حالانکہ ڈیزل کے نرخ میں 30روپے لٹر، بجلی میں 6روپے یونٹ اور یوریا کھاد کی بوری 1900روپے تک مہنگی ہو جانے پر پیداوار کے نرخ اسی تناسب سے مقرر نہ کیے گئے تو اسی کا لازمی نتیجہ فی ایکڑ اور مجموعی ملکی پیداوار میں شدید کمی کی صورت میں نکلے گا۔ لہٰذا اگر ملکی سطح پراسی طرح کاشکاروں کی حوصلہ شکنی اور ناانصافی کا سلسلہ جاری رہا تو اس کے بعد غلہ درآمد کرنا پڑے گا، جس کا سرکاری خزانہ قطعاً متحمل نہیں ہو سکتا۔ اب ہمیں ان سے میں کونسا راستہ اپنانا ہے فیصلہ حکومت اور اس کے ماہرین اقتصادیات کو کرنا ہے۔