محکمہ لائیو سٹاک ڈیری ……فارمنگ کے لئے کاشتکاروں کو ترغیب دے

چوہدری فرحان شوکت ہنجرا
 الحمدا للہ پاکستان میں دودھ گوشت کے حامل حلال جانوروں کی تعداد 16 کروڑ 67 لاکھ ہے۔ جس میں گائیوں کی تعداد 3 کروڑ 83 لاکھ ،بھینسوں کی تعداد 3 کروڑ 37 لاکھ ،بھیڑوں کی تعداد 2 کروڑ 88 لاکھ ،بکروں کی تعداد 6 کروڑ 49 لاکھ جبکہ اونٹوں کی تعداد 10 لاکھ تک پہنچ گئی ہے جبکہ دودھ کی پیداوار 49512 ہزار ٹن ،بڑے گوشت بیف کی 1829 ہزار ٹن ،چھوٹے گوشت مٹن کی 643 ہزار ٹن ،مرغی کے گوشت کی پیداوار 907 ہزار ٹن سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ملکی سطح پر دودھ اور گوشت کی طلب میں جیسے جیسے اضافہ ہو رہا ہے اس شعبے میں مزید وسعت کے مواقع بھی بڑھتے جائیں گے۔ جس میں فارمرز حضرات اور کاشتکاروں کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے اس میں مزید اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس وقت لائیو سٹاک سیکٹر کا ملکی پیداوار میں حصہ تقریبا 12 فی صد اور زراعت کی مجموعی پیداور ساڑھے 55 فی صد ہے ۔پنجاب سمیت ملک کی 4 کروڑ کے قریب دیہی آبادی لائیو سٹاک سیکٹر سے منسلک ہے اور اپنی 35 سے 40 فی صد تک آمدنی گوشت و دودھ کے کاروبار سے ہی حاصل کرتی ہے ۔ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی میں اضافہ کے ساتھ ساتھ دودھ ،گوشت کی پیداور میں اضافہ لانا بھی غذائی ضروریات کے حوالے سے انتہائی اہمیت اختیار کر چکا ہے انسانی زندگی کو متوازن خواراک کے طور پر حیوانی لحمیات،چکنائی ،حیاتین اور نمکیات کے علاوہ نباتاتی لحمیات کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ جسے دودھ ،دہی ،مکھن ،انڈے ،گوشت،دالوں کے ذریعے پور ا کیا جاسکتا ہے ۔لائیو سٹاک کے ذریعے لوگوں کے زرائع آمدن میں اضافے ،دودھ گوشت کی پیداور کو بیرون ملک بجھوا کر کثیر زرمبادلہ حاصل کرنے کے لیے وفاقی حکومت کو چاہیے کہ لائیو سٹاک سیکٹر میں قومی آمدنی کا 5 فی صد مختص کر دے اور کسانوں اور ڈیری فارمرز کے حامل افراد کو بلا سود قرضے دے کر حکومت ان سے پارٹنر شپ قائم کر کے دودھ اور گوشت کی پیداوار کو بیرون ممالک بجھوائے تو صرف لائیو سٹاک سیکٹر سے ہی سالانہ اربوں ڈالر حاصل ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کے تمام صوبوں کی زرعی زمینیں انتہائی زرخیز ہیں یہاں پر قدرتی چراگاہیں بھی موجود ہیں ہر صوبے کا اپنا محل و قوع اور آب و ہوا موسم ہے لہذا بڑے گوشت بیف کی زیادہ سے زیادہ پیداور حاصل کی جائے کیونکہ بیرونی ممالک میں بیف کی مانگ بہت زیادہ ہے اور پاکستان پر اللہ تعالیٰ کا یہ خاص کرم ہے کہ اس کی غذائی مصنوعات جن میں پھل،سبزیاں ،دودھ ،گوشت ،دالیں اپنی کوالٹی اور ذائقے اور پروٹین ،قوت مدافعت کے لحاظ سے دنیا میں صف اول کا ملک ہے۔ دیہی عوام اپنی صرف زرعی آمدنی پر ہی انحصار نہ کریں بلکہ روزانہ کی بنیاد پر معقول آمدنی کا حصول کر سکیں ابھی تک بالخصوص پنجاب کے دیہی علاقوں میں 60 فی صد عوام لائیو سٹاک کے شعبے سے اس طرح منسلک نہیں ہوئے وگرنہ اگر وہ اس شعبے کو ترجیح دیں تو وہ دنوں میں مالی طور پر خوشحال ہو سکتے ہیں ۔
محکمہ لائیو سٹاک کیلئے ضروری ہے کہ پورے ملک کے دیہی علاقوں میں باقاعدہ تشہری مہم چلائے ۔محکمہ لائیو سٹاک کا تو سیعی عملہ کاشتکاروں کو ٹرنینگ ورکشاپوں کا اہتمام کرے حکومت گائے ،بھینس،بھیڑ،بکریاں ،اونٹ،پالنے کے لیے انفر اسٹر کچر قائم کرنے سے لے کر دودھ ،گوشت کی بہترین پیداور حاصل کرنے کے لیے ٹرنینگ دے اگر پاکستان کے دیہی عوام دن دگنی رات چگنی خوشحالی کی منزل حاصل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں لا ئیو سٹاک سیکٹر کو اپنانا ہو گا۔
پنجاب میں کٹاپال سکیم شروع کی گئی ہے اس کے مثبت اثرات سامنے آ رہے ہیں ۔پنجاب میںملتان،ڈیرہ غازی خان،سرگودھا،فیصل آباد، گوجرانوالا، لاہور،راولپنڈی ،ساہیوال ڈ ویژن میں جدید سینٹرز بنائیں جائیں ،ملتان ،ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے اضلاع بھیڑ ،بکریوں ،اونٹوں کی افزائش کے حوالے سے موثر ہیں ۔حکومت محکمہ لائیو سٹاک اور مویشی پال حضرات کے درمیان قانونی معاہدہ ہو ۔ وہ گوشت کی پیدوار محکمہ لائیو سٹاک یا پرائیویٹ سیکٹر میں فروخت کرتے وقت متعلقہ شرائط پوری کرنے کا پابند ہو۔ جس کے تحت وہ گوشت مقررہ نرخوں پر فرخت کر سکے۔ گوشت کو ایکسپورٹ کرنے کے حوالے سے جانور کی سلاٹرنگ گوشت کی پیکنگ اور گوشت کے انٹر نیشنل معیار کے مطابق کوالٹی کو (mentain) رکھنے کے لیے جدید سلاٹرز ہاؤس بنانے ہوں گے اس وقت صرف لاہور میٹ کمپنی کے تحت ایک جدید سلاٹر ہاؤس آپریشنل ہے کیونکہ یہاں کوالٹی اور سٹینڈرڈ پر کوئی سمجھوتا نہیں۔ملک بھر کے سلاٹرز ہاؤس کی حالت انتہائی نا گفتہ بہ ہے اور بیمار اور لاغر جانوروں کی سلا ٹرنگ کی شکایات عام ہیں اگر بیرون ملک گوشت بر آمد کرنا ہے تو پھر انٹر نیشنل سٹینڈرڈ کو اپنانا ہو گا۔
صوبائی دارلحکومت میں غیر معیاری گوشت اور دودھ کی فروخت عام ہے محکمہ لائیو سٹاک کے ویٹرنری آفیسر اور پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ذمہ داران ناقص گوشت کی فروخت روکنے میں بری طرح ناکام ہیں ۔ دودھ جو کیمیکل کے ڈبوں میں آرہا ہے اس کی سر عام سڑکوں چوراہوں ،چوکوں ،دوکانوں پر فروخت عام ہے مگر حکومت اور سرکاری اداروں نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اور ضلعی انتظامیہ فی الفور ہر شہر کی داخلی راستوں پر چیک پوسٹیں قائم کر کے فی الفور کیمیکل کے ڈبوں میں آنے والے دودھ کو تو موقع پر تلف کر دیں اور دودھ فروشوں کو بھاری جرمانے و سزائیں دے۔