جی ایس پی پلس کا چرچا ........ ہدف کون پورا کریگا؟

احمد جمال نظامی
حکومت کی طرف سے برآمدات بڑھانے کے لئے ایکسپورٹ کریڈٹ گارنٹی سکیم متعارف کرانے کے اعلان، جی ایس پی پلس سکیم کے تحت ایکسپورٹ پالیسی اور پانچ سالوں میں برآمدات 100ارب ڈالر تک لے جانے، ایکسپورٹ ری فنانسنگ سکیم ٹیکسٹائل سیکٹر تک محدود کرنے اور ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے میں تیزی لانے جیسے فیصلے کے باوجود گیس سپلائی اور انرجی کی کمی پر قابو نہیں پایا جاسکا۔ موسم سرما میں تین ماہ کے لئے گیس کی بندش کے فیصلے کے خلاف صنعتی، تجارتی اور بالخصوص برآمدی حلقوں کی طرف سے شدید احتجاج اور گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ان شعبوں کی متفقہ رائے ہے کہ گیس بندش سے پیداواری صلاحیت انتہائی کم ہونے کے ساتھ بڑی حد تک تعطل کا شکار ہو جائے گی ۔ جس کے نتیجہ میں برآمدات میں کمی اور درآمدات کے اضافے کی صورت میں ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصانات برداشت کرنا پڑیں گے۔ پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کی طرف سے تین ماہ کے لئے گیس کی بندش کو شعبہ ٹیکسٹائل کے لئے نقصان دہ قرار دیا گیا ہے۔ انرجی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے چیئرمین رانا عارف توصیف اور پی ٹی ای اے کے چیئرمین شیخ الیاس محمود نے پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن، ایوان صنعت و تجارت فیصل آباد،پاکستان ہوزری مینو فیکچررز ایسوسی ایشن، آل پاکستان ٹیکسٹائل سائزنگ ایسوسی ایشن، آل پاکستان بیڈ شیٹ اینڈ اپ ہولسٹری مینو فیکچررز ایسوسی ایشن ،کھرڑیانوالہ انڈسٹریل اسٹیٹ ایسوسی ایشن اور لوم اونرز ایسوسی ایشن کے عہدیداران نے بتایا کہ اس جبری بندش کے باعث ٹیکسٹائل صنعت کی ساڑھے 13ارب ڈالر سے زائد مالیت کی برآمدت متاثر ہوں گی ۔جس سے اس سیکٹر کے لئے اپنی بقاءکی جنگ لڑنا مشکل ہو جائے گی۔ پہلے ہی ٹیکسٹائل کی صنعت کو ضرورت سے 71فیصد کم گیس مل رہی ہے۔جی ایس پی پلس کا فائدہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک کم از کم ہفتے میں تین روز گیس کی فراہمی یقینی نہیں بنائی جاتی۔ ٹیکسٹائل کی صنعت کے لئے گیس کے متبادل ذرائع کا استعمال کرنا ناقابل عمل ہے ۔ج کیونکہ اس سے پیداواری لاگت بھی مسابقتی ممالک کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہو جاتی ہے۔ اس وقت گیس کی بندش کے باعث برآمدی حلقوں کے کرسمس کے لئے حاصل کردہ آرڈر بروقت ترسیل نہ ہونے کے سبب منسوخ کئے جا سکتے ہیں ۔جس کا تمام تر فائدہ دیگر مسابقتی ممالک اٹھائیں گے۔ جی ایس پی پلس کی سہولت ملنے سے انڈسٹری کو بے تحاشا فوائد میسر آئیں گے مگر دسمبر، جنوری اور فروری میں گیس کی بندش سے وطن عزیز کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھنے والی ٹیکسٹائل انڈسٹری کی پیداوار رکنے سے سے ملکی برآمدات میں بے تحاشا کمی واقع ہو گی ۔ حکومت اپنے ایکسپورٹ ٹارگٹ کو پورا کرنے میں ناکام ہو جائے گی۔ جب پنجاب کے علاوہ تین صوبوں کو گیس فراہم کی جا سکتی ہے تو پھر پنجاب میں کیوں نہیں، آخر سوتیلی ماں جیسا سلوک کیوں روا رکھا جا رہا ہے۔ دراصل حکومتی عدم توجہی کے باعث ملک سے صنعتوں کا وجود ختم ہوتا جا رہا ہے اور اگریہی سلسلہ جاری رہا تو کوئی وجہ نہیں کہ سالانہ 13 ارب ڈالر سے زائد کا خطیر زرمبادلہ کمانے اور ڈیڑھ کروڑ مزدوروں کو روزگار فراہم کرنے والی ٹیکسٹائل انڈسٹری ماضی کا قصہ بن جائے۔ رواں سال انڈسٹری کو صرف 114 دن گیس میسر ہوئی جبکہ 2008 میں یہ دورانیہ 302 دن تھا۔ تین ماہ تک صنعتی و پیداواری سرگرمیاں بند رہنے سے ملکی برآمدات بالخصوص ٹیکسٹائل برآمدات میںواضع کمی ہو گی اور ملک تین ارب ڈالر کے قیمتی سرمائے سے محروم ہو سکتا ہے۔ ایک طرف حکومت کی طرف سے جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے پر بہت واویلا کیا جا رہا ہے اور ایسے دعوے کئے جا رہے ہیں کہ جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے سے ہماری 6ہزار مصنوعات کو یورپی یونین میں ڈیوٹی فری برآمدات سے ملکی معیشت کو بہت زیادہ فائدہ حاصل ہو گا جبکہ دوسری طرف حکومت صنعتوں کو تین ماہ کے لئے گیس کی بندش کی نذر کرنا چاہ رہی ہے جس سے یقینی طور پر جب یکم جنوری 2014ءسے یورپین یونین میں برآمدات کے سلسلے میں جو جی ایس پی پلس کی سہولت حاصل ہونے کی توقع ہے۔ اس کے بارے میں ایسے خدشات پیدا ہو چکے ہیں کہ وہ توانائی بحران کی نذر نہ ہو جائے ۔ جنوری میں اگر تین ماہ کے لئے گیس بندش کا شیڈول جاری کر کے اس پر عملدرآمد کیا جاتا ہے تو یقینا شعبہ ٹیکسٹائل گیس بندش کے باعث جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے والی سہولیات سے فائدہ نہیں اٹھا سکے گا اور پھر اس کے ملکی معیشت پر ناقابل تلافی اثرات مرتب ہوں گے۔ موجودہ حکومت کی طرف سے بھی افسوس کے ساتھ توانائی بحران پر قابو پانے کے لئے کسی قسم کے کوئی انقلابی اور برق رفتار اقدامات نہیں اٹھائے جا رہے۔ حکومت صرف اور صرف قرضوں پر چل رہی ہے۔ ابھی حکومت نے اپنے اخراجات پورے کرنے کے لئے مارکیٹ سے مزید 541ارب 21کروڑ روپے سے زائد کا قرضہ لیا ہے۔ ٹی بلز کی نیلامی میں حکومت نے مقررہ ہدف سے بھی 141فیصد زیادہ رقم کے بلز فروخت کر دیئے ہیں۔ حکومت نے تین ماہ مدت کے 541ارب 21کروڑ 53لاکھ روپے مالیت کے بلز فروخت کئے ۔ گویا حکومت کی طرف سے کوئی بھی ایسا اقدام نہیں اٹھایا جا رہا جس کی بدولت ملک میں صنعتی پیداوار کا پہیہ رواں دواں ہو سکے اور ملکی برآمدات مسابقتی ممالک کے مقابلے میں پھل پھول سکے یا پھر کم از کم ان کے مقابلے میں آ سکیں۔ ہمارے ہاں گذشتہ چند سالوں سے بجلی اور گیس کی صورت میں توانائی بحرانوں نے پیداواری شعبے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ موسم سرما میں گیس جبکہ موسم گرما کے دوران بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ صنعتی شعبہ کو بری طرح تباہ و برباد کر رہی ہے۔ ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ وقت کی اہم ترین ضرورت بنا ہوا ہے مگر ماضی قریب میں امریکہ بہادر اس منصوبے پر عملدرآمد نہیں ہونے دیتا تھا اب ایران اور چھ عالمی طاقتوں (سکس پلس ممالک) کے درمیان ایران کے ایٹمی پروگرام پر جو معاہدہ طے پایا ہے اس کے تحت امریکہ سمیت چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ معاہدے کے بعد ایران سے پابندیاں اٹھا لی گئی ہیں۔ امریکہ کہہ چکا ہے کہ ایران کو پرامن جوہری توانائی کا حق حاصل ہے۔ پاکستان چین اور روس کی طرف سے اس معاہدے کا خیرمقدم کیا گیا ہے۔ ایران اور پاکستان کے درمیان گیس پائپ لائن منصوبے میں تیزی لانے کا فیصلہ بھی ہو چکا ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے میں تیزی لانے کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی اور خارجہ امور سرتاج عزیز اور ایران کے وزیرخارجہ جواد ظریف کے درمیان ایک اجلاس میں ایران پاکستان گیس پائپ لائن کے بنیادی امور پر رضامندی ظاہر کی جا چکی ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق ایران پاکستان پائپ لائن منصوبے پر عملدرآمد کا نیا ٹائم شیڈول تیار کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے۔ ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے پر عملدرآمد کی صورت میں ہم اپنے ملک میں گیس کے بحران پر قابو پانے میں بڑی حد تک کامیاب ہو جائیں گے ۔ اس سے پیداواری شعبے کو درپیش مسائل کا ازالہ بھی کیا جا سکے گا۔حکومت کو اس وقت جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے کے بعد خصوصی طور پر 2014ءکے پہلے ماہ جنوری پر توجہ رکھنا ہو گی اگر گیس کی تین ماہ کے لئے بندش کی جاتی ہے تو اس سے پیداواری شعبہ فروری تک متاثر رہے گا اور اس صورت میں ہماری معیشت جی ایس پی پلس کے وہ فوائد حاصل نہیں کر پائے گی جس کی توقع کی جا رہی ہے۔ حکومت کی طرف سے نئی ایکسپورٹ پالیسی تیار کرنے کا بھی خوب چرچا ہے جس کے تحت آئندہ برسوں میں برآمدات دوگنی کرنے کے دعوے کئے جا رہے ہیں۔ اس وقت ملکی برآمدات 25ارب ڈالر ہے جبکہ یہ برآمدات 50 سے 100ارب ڈالر تک بڑھائی جا سکتی ہیں۔ وزارت تجارت کے مطابق نئی ایکسپورٹ پالیسی کے تحت پاکستان ٹیکسٹائل سیکٹر میں ویلیوایڈڈ مصنوعات کو فروغ دے کر اس کی ایکسپورٹ بڑھا سکتا ہے کیونکہ اس وقت خام کاٹن، یارن اور گرے فیبرکس80فیصد ایکسپورٹ ہوتی ہے جبکہ 20فیصد ویلیوایڈڈ مصنوعات کی ایکسپورٹ ہے ۔اگر ویلیوایڈڈ مصنوعات کی ایکسپورٹ 80فیصد کر دی جائے تو آئندہ پانچ برسوں میں ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات 30ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں لیکن ویلیوایڈڈ مصنوعات کی ایکسپورٹ بڑھانے کے لئے ضروری ہے کہ تین ماہ کی گیس بندش کی پالیسی پر نظرثانی کی جائے ۔کیونکہ اس صورت میں ہماری برآمدات مزید کم ہوں گی بڑھ نہیں سکیں گی۔ لہٰذا یہ بات واضح ہے کہ پیداواری شعبے کو بحران سے نکالے بغیر برآمدات میں اضافہ ناممکن ہے ۔ ماضی کے سالوں کی طرح اس مرتبہ بھی پیداواری شعبہ بحران کی زد میں آنے سے ٹیکسٹائل کی ویلیوایڈڈ مصنوعات برآمدات کے ضمن میں اپنا سابقہ ٹریک ریکارڈ جاری و ساری رکھنے میں بھی ناکام ہو رہی ہیں۔ تاہم پیداواری شعبہ کے مزید بحران میں جانے سے مزید صنعتی تعطل ملک کے اندر لاءاینڈ آرڈر کی صورتحال کو مزید خراب کرنے کا باعث بنے گا۔ وطن عزیز میں بیروزگاری، غربت، لاقانونیت اور بھوک و ننگ میں مزید اضافہ ہو گا۔ افراط زر مزید بڑھے گا اور حکومت کو آئی ایم ایف دیگر عالمی مالیاتی اداروں اور قرضے کے حصول کے لئے دیگر ذرائع پر مزید توجہ مرکوز کرنا پڑے گی ۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت جس طرح سے بھی ممکن ہو سکے صنعتی شعبہ کو اس کی پیداواری سکت برقرار رکھنے کے لئے کم از کم ہفتے میں تین روز گیس کی فراہمی یقینی بنائے رکھے۔ اس ضمن میں وزیراعظم نے صنعت کاروں سے کچھ وعدے کر رکھے ہیں جس کا پاس رکھنا وقت کا تقاضا ہے تاکہ ہماری معیشت اور قومی خزانہ مزید بدحالی کا شکار نہ ہو اور ہماری حکومت قرض کے چکر سے آزاد ہو سکے۔ حکومت کے لئے ضروری ہے کہ ملکی معیشت کی بہتری کے لئے ہنگامی اقدامات اٹھاتے ہوئے کم از کم اندرون ملک معاشی و اقتصادی ایمرجنسی کے تحت پالیسیاں تشکیل دے کر عمل درآمد کروایا جائے ۔ اس وقت ہماری معیشت اور غریب عوام قطعی تین ماہ کی گیس کی بندش کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ خدارا سوچا جائے!