ڈیل کی ڈھیل اور پانامہ کا کفارہ

کالم نگار  |  عائشہ مسعو د ملک
ڈیل کی ڈھیل اور پانامہ کا کفارہ

ہمارے حکمران اور سیاستدان بے حساب دولت کے مالک کیسے بن بیٹھتے ہیں ؟ اور پھر اقتدار نئے لوگوں تک منتقل کیوں نہیں ہو سکتا ؟ اور ان حکمرانوں اور سیاستدانوں کو کسی قسم کے احتساب کا ڈر نہیں ہوتا …کیوں ؟… اور پھر ہر دور میں ترقی کے نام پر جو انقلابی اقدامات کئے جاتے ہیں اور جن کی وجہ سے اقتدار کو طول دیا جاتا ہے وہ پاکستانی اصل عوام کی حالت کیوں نہیں سدھارتے ؟ ان سوالوں کے جوابات کے لئے ایک کتاب کا حوالہ دے رہی ہوں جو معروف دانشور اور ماہر معاشیات و سیاسیات جان کینتھ گالبر نے آج سے پچپن برس پہلے ’’بے یقینی کا دور‘‘ کے نام سے لکھی تھی۔ آج کل بھی پانامہ کیس کے فیصلے کی وجہ سے عوام پر یہی دور طاری ہے۔ اس دانشور نے لکھا تھا کہ ’’اب ہم دیکھتے ہیں کہ امریکہ میں دولت مندوں کو کامیابی کیوں کر ملی ؟ امریکہ میں پچھلی صدی میں اور اس صدی میں اب تک کس چیز نے اتنے کثیر لوگوں کو دفعتاً امیر نہیں بنایا جتنا کہ ریلوے نے ‘ وہ ٹھیکیدار جنہوں نے اسے بنایا‘ وہ لوگ جو زمینوں کے مالک تھے اور وہ لوگ جو رہزنی کرتے تھے سب کے سب امیر ہو گئے‘‘ اس کے بعد مصنف لکھتا ہے کہ ’’ریلوے کو بنانے میں کچھ ایماندار لوگ بھی شامل تھے مگر اس ٹھیکیداری میں بہت سارے بدمعاش لوگ اور بدقماش لوگ کھچ کر چلے آئے تھے اور یہی لوگ سب سے زیادہ معروف و مشہور بھی تھے اور غالباً مال و د ولت جمع کرنے میں سب سے زیادہ کامیاب بھی تھے۔‘‘ ظاہر ہے ٹھیکیداری میں ایسا ہوتا ہے لیکن اس پر روائیداد خان نے جو تبصرہ کیا تھا اور جو کہ ہمارے ملک کے حالات کے مطابق تھا وہ یوں تھا کہ ’’جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو یہاں کسی چیز نے راتوں رات لوگوں کو اتنا امیر نہیں بنایا جتنا کہ سیاسی اثر و رسوخ اور اقتدار نے بنایا‘‘… ان دونوں باتوں کے بعد اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ نسل در نسل اس ملک پر حکمرانی کا خواب کیوں دیکھا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے اس مرتبہ کی جمہوریت کو اس طرح سے تماشا بنا دیا گیا ہے کہ ایک تو سرعام آنے والے الیکشن کے نتائج تک زیر بحث آتے رہے ہیں حتیٰ کہ مستقبل کی وزیراعظم اور ان کی کابینہ کے افراد کے ناموں تک بات جاتی رہی ہے جبکہ اپوزیشن لیڈر عمران خان کے بارے میں یہ کہا جاتا رہا ہے کہ انہیں وزیراعظم بننے کا لالچ ہے اور تازہ ترین صورت حال میں دوسری اپوزیشن پارٹی یعنی پیپلز پارٹی کو ڈیل کی ڈھیل دے دی گئی ہے اور جس کے نتائج بھی دیکھے جا چکے ہیں۔ دوسری جانب لیکن بدقسمتی سے اخلاقی دیوالیہ پن کچھ ایسی شکل میں سامنے آرہا ہے کہ دونوں پارٹیوں کے لوگ برابر جھوٹ بولتے چلے جا رہے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں اقتدار کی کشش ایسی ہے کہ جو ترقیاتی کام کئے جاتے ہیں ان کی بنیاد عوام کی حالت سدھانے یا ملک کو ترقی دینے کی بجائے پراجیکٹس کو مشتہر کر کے الیکشن کے نتائج حاصل کرنے کی طرف ہوتی ہے یعنی اگلے الیکشن اور پھر اس سے اگلے الیکشن تک ایک ہی پارٹی برسراقتدار رہے گی یا پھر ڈیل کے نیتجے میں کوئی دوسرا پہلے پہل ’’دوستانہ‘‘ کردارادا کرتا ہے گا مگر ظاہر ہے کہ انہیں بھی الیکشن لڑنے کے لئے کوئی معرکہ آرائی تو کرنا ہو گی جو کہ پانچویں سال سے شروع ہو جاتی ہے۔ لیکن ان سارے حالات میں یہ لوگ تاریخی واقعات اور مکافات عمل کو بھول جاتے ہیں۔اگردیکھا جائے تو ایوب خان‘ یحییٰ خان اور ضیاء الحق اور مشرف اپنے وقتوںکے طاقتور اور بااختیار سربراہ تھے وہ اپنے دور میں بھی یہ احساس دلاتے تھے کہ ملک ترقی کر رہا ہے۔ مگر یہ لوگ نہ تو ملک کو کچھ دے سکے اور نہ مکافات عمل سے بچ سکے۔ اب اگر دیکھیں کہ اصل لیڈر اپنے لوگوں کے لئے کیا کرتا ہے تو محمد علی حناح نے تو برصغیر کے مسلمانوںکے لئے کام کیا۔ امریکہ کے مارٹن لوتھر نے سیاہ فام لوگوں کے لئے امریکہ میں عدل ومساوات قائم کرنے میں کام کیا اور ہندوستان جس کے ساتھ دوستی کی بات کی جاتی ہے ان گاندھی کے اور نہرو نے اپنے ملک و قوم کی آزادی کے لئے کام کیا اور نہروکی وجہ سے کشمیرکی آزادی ادھوری رہ گئی مگر انہوں نے جدوجد کی۔مگر ہمارے حکمرانوں میں سے کون ہے جس نے کسی بڑے نظریے یا جدوجہد پر کام کیا ہو۔ یا پھر عوام کے مسائل کے حل کے لئے اور اس ملک کے لئے حقیقی سطح پر ایسی کاوشیں کی ہوں جس کا وقت اور زمان اورتاریخ تو گواہی دے مگر ان کاموں کے لئے ’’اشتہاری مہم‘‘ نہ چلانی پڑے جن پر کروڑوں روپیہ خرچ کر دیا جاتا ہے کہ دیکھو ہم یہ کام کر رہے ہیں۔ اور ایسا اس لئے کہا جاتا ہے کہ خدمت سے بڑھ کر تشہیر کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے تاکہ اقتدار ان کے ہاتھوں سے نکلنے نہ پائے حالانکہ کام کا احترام وقت اور زمانہ ضرور کرتا ہے لیکن ان کے لئے بے غرض انتظار کرنا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ اس دور حکومت میں بھی موٹر وے سے لے کر دیگر ترقیاتی کاموں اور ٹھیکیداری کے معاملات کو ’’خدمت‘‘ سے بڑھ کر الیکشن کی تیاری اور امیر کو امیر بنانے میں استعمال کیا گیا۔ آج کل ’’پڑھا لکھا پنجاب ‘‘ ’’پنجاب کی بیٹی‘‘ اور ’’پڑھو پنجاب‘‘ جیسے اشتہارات کے ساتھ سی ایم کی تصویر ہوتی ہے اور یہ بار بار چلتے رہتے ہیں۔ حالانکہ ’’پڑھا لکھا پاکستان‘‘ کا لفظ ہونا چاہئے اور پھر بعد میں پنجاب کا نام شامل کرنا چاہئے تاکہ سندھ‘ بلوچستان جیسے کم وسائل کے صوبوں کی بیٹیوں اور لوگوں میں احساس محرومی نہ پیدا ہو لیکن جانے کیوں یہ لوگ سوچتے نہیں‘ ہر دور کے حکمران کے لئے من مانی اور رعونت کا ردعمل موجود رہا ہے۔ اس حکومت کے سامنے بھی پانامہ کیس موجود ہے اور لوگ خوش خیالی اور خام خیالی دونوں کا شکار ہیں اور ان سارے حالات کی موجودگی میں مجھے ایک کہاوت یاد آ رہی ہے کہ کئی سو سال پہلے کا ذکر ہے کہ ایک جرمن گاؤں کے لوہار نے کسی شخص کو قتل کر دیا۔ مقدمہ مقامی مجسٹریٹ کی عدالت پیش ہوا ۔ گواہ آئے جرح ہوئی‘ مجسٹریٹ مقامی باشندہ تھا اور گاؤں کے سارے حالات اچھی طرح جانتا تھا اس نے سوچ بچار کے بعد فیصلہ سنا دیا کہ ’’لوہار پر قتل کا جرم ثابت ہو گیا ہے لیکن گاؤں میں ایک ہی لوہار ہے جبکہ درزی دو ہیں۔ اس لئے درزی کو پھانسی دی جا ئے کیونکہ سارے گاؤں نے ہی اس گناہ کا کفارہ ادا کرنا ہے جو لوہار نے کیا تھا۔!!!