”مفاہمت“ اور ”قانون کی حکمرانی“!

کالم نگار  |  سید روح الامین
”مفاہمت“ اور ”قانون کی حکمرانی“!

2008ءکے الیکشن سے قبل مشرف کے این آر او نے قومی خزانے کو بھرپور نقصان پہنچایا تھا تقریباً ساڑھے آٹھ ہزار سیاستدانوں، بیوروکریٹس وغیرہ کے لاکھوں، اربوں کے قرضے این آر او کے تحت معاف کئے گئے اور ہزاروں مقدمات سے انہیں ”بری“ کردیا گیا تھا۔ یہ مشرف کی صرف ”چودھراہٹ“ تھی حالانکہ قانون نے مشرف کو یہ اختیار قطعاً نہیں دیا تھا۔ اس این آر او کے تحت ”قائدتحریک“ الطاف حسین کے بھی 72مقدمات ختم ہوئے۔ 2008ءمیں جب پیپلز پارٹی واضح اکثریت حاصل نہ کرسکی تو ”اتحادیوں“ کی بدولت انہوں نے حکومت بنائی۔ پھر پانچ سال میں زرداری حکومت نے ملک کے ساتھ جوکھیل کھیلا اور جس انداز میں پیپلز پارٹی نے اور اتحادیوں نے ملک کو دونوںہاتھوں سے لوٹا۔ ملکی ادارے ریلوے پی آئی اے کو تباہ کر دیا گیا۔ کرپشن کی کوئی انتہاہی نہیں تھی۔ یہاں تک کہ حاجیوں کو بھی لوٹا گیا۔ ”وزیراعظم“ گیلانی کے اہل خانہ بھی کرپشن میں ملوث تھے۔ گیلانی نے صرف زرداری سے ”وفاداری“ نبھائی۔ ملک کے عوم اور ملکی اداروں سے گیلانی کو کوئی سروکار نہیں تھا۔ گیلانی کو عدالت عظمیٰ نے بر طرف کیا۔ دوسرا وزیراعظم راجہ پرویز اشرف (راجہ رینٹل) بنے مگر وہ بھی کرپشن سے بچ نہ سکے۔ زرداری کی ”مفاہمت“ کے فارمولے نے ملک کا ستیاناس کردیا تھا۔ کسی کو کوئی پوچھنے والا ہی نہیں تھا۔ موجودہ حکومت جوکہ اس وقت اپوزیشن تھی۔ یہ بھی فرینڈلی ہی رہی، یعنی اداروں کی اس قدر تباہی کے باوجود ”ن لیگ“ زرداری حکومت کیخلاف خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتی رہی۔ اس نام نہاد ”مفاہمت“ کے تحت ن لیگ نے زرداری سے تیسری بار وزیراعظم بننے کا قانون پاس کرایا تھا۔ ہاں اس وقت ”خادم اعلیٰ “ کے یہ بیانات ضرور پڑھنے کو ملتے تھے کہ ”زر بابا اور چالیس چوروں کے ٹولے کو بھاگنے نہیں دینگے ان سے ایک ایک پائی وصول کرینگے اورانہیں الٹا لٹکا دینگے“مگر جب 2013ءمیں انتخابات ہوئے ن لیگ نے ”اکثریت“ حاصل کی تو نواز شریف صاحب نے اپنے پہلے ہی خطاب میں ”زرداری دور کو جمہوریت کی بہترین خدمت قرار دیا اور دعا کی تھی کہ صدر ممنون حسین بھی زرداری صاحب کی طرح خدمات سرانجام دینگے۔ یہ بیان عوام الناس کیلئے بہر حال حیران کن اور پریشان کن بھی تھا۔ نواز شریف نے بھی ”مفاہمت“ کی پالیسی کو اپنایا۔ یہی وجہ ہے کہ دو سال ہونے کو ہیں۔ زرداری دور کی کرپشن کا ایک پیسہ بھی وصول نہیں کیا گیا۔ قانون کی حکمرانی سے ملک ترقی کرتے ہیں۔ قانون پر عملدرآمد سے ہی مجرموں کو سزائیں ملتی ہیں اور جرائم پیشہ افراد کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور عام آدمی کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے، مگر ہمارے ہاں قانون ہر فرد کی حیثیت کیمطابق کارروائی کرتا ہے۔ دنیا میں کہیں بھی اسکی مثال نہیں ملتی کہ ملزموں سے پوچھا جائے کہ آپ کوکونسا جج پسند ہے۔ اور اس سے آپکو انصاف دلایا جائے، مگر ہمارے ہاں ایسا ہی ہوتا ہے۔ نیب کا چیئرمین بھی ”مفاہمت“ سے لگایا جاتا ہے۔ ”گورنر“ سرور چودھری ”مفاہمت“ کے نہیں اصولوں اور قانون کی حکمرانی“ کے قائل تھے۔ وہ کوئی سندھ کے گورنر عشرث العباد تو نہیں تھے جو شاید ”تاحیات“ گورنری کے خواہاں ہیں۔ قیدی صولت مرزا کے بیانات قابل غور ہیں۔ نائن زیرو پر چھاپے میں بڑے بڑے مگر مچھوں کا پکڑے جانا حیران کن بالکل بھی نہیں ہے۔ ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کی یہی ”مفاہمتی“ پالیسی ہے۔ صولت مرزا سے قبل ڈاکٹر ذوالفقار مرزا بھی ایسی باتیں کرتا تھا۔ بہرحال اب تو قانون کی حکمرانی قائم ہونی چاہئے سندھ کے گورنر پر جو الزامات لگے ہیں انہیں خود کو بھی احتساب کیلئے پیش کرنا چاہئے بلکہ ”قائد تحریک“ یا ”متحدہ“ کی اجازت کے بغیر خود ہی اس عہدے سے علیحدہ ہو جانا چاہئے۔ جنرل راحیل شریف اور دیگر سکیورٹی ادارے مبارک باد کے مستحق ہیں جو ملک میں امن و سلامتی کیلئے اپنی جانیں پیش کر رہے ہیں۔ قتل کرنیوالے کے علاوہ جو قتل کرنے پر راغب کرتا ہے اسے بھی سزا ہونی چاہئے۔ طالبان خود تو سامنے نہیں آتے آگے معصوم بچوں کو استعمال کرتے ہیں۔ بلدیہ ٹاﺅن کراچی میں 259 افراد کو زندہ جلایا گیا۔ مگر شرجیل میمن نے نیا کمیشن بنا دیا ہے۔ دو سال اور گزر جائینگے۔ کچھ بھی نہیں ہوگا۔ ”مفاہمت“ جیت جائیگی اور قانون کی حکمرانی“ ہار جائیگی اور 259 افراد کو زندہ جلانے والا بھی بچ جائیگا؟ لاہور میں عیسائیوں نے جس طرح تباہی کی اسکی مثال نہیں ملتی۔ کروڑوں کا نقصان کیا۔ اسکے علاوہ دو مسلمانوں کو زندہ جلا دیا۔ کیا یہ ہے انکی حب الوطنی؟ بہرحال قانون کیمطابق زندہ جلانے والوں کو عبرت ناک سزا ملنی چاہئے۔ اگر ”اکثریت“ 60 ہزار شہریوں کے مارے جانے پر صبر کادامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتی تو ”اقلیت“ کو بھی ایسا ہی کرنا چاہئے تھا۔ یقین کریں اگر نوازشریف حکومت جنرل راحیل شریف کے شانہ بشانہ دہشت گری کے خاتمے میں کردار ادا کرتی ہے اور بلا تفریق کراچی میں آپریشن جاری رکھ کر ”بااثر“ ملزموں کو سزا دلانے میں کامیاب ہوجاتی ہے اور ملک میں امن و سلامتی کے دور کا آغاز ہوتا ہے تو یہ کوئی چھوٹا کام نہیں ہوگا یقینا بڑا کام ہوگا۔ مگر اس کےلئے نام نہاد ”مفاہمت“ کو خیر باد کہنا ہوگا اور قانون کی حکمرانی کو مقدم رکھنا ہوگا۔