”جنگلات کی کٹائی“

کالم نگار  |  مسرت قیوم
”جنگلات کی کٹائی“

سپریم کورٹ میں” مارگلہ پہاڑیوں“پردرختوں کی کٹائی و سٹون کرشنگ سے متعلق کیس چل رہا ہے، عدالت عالیہ کے بار بار حکم کے باوجود درختوں کی کٹائی” رک“ سکی نہ ہی مافیا کو روکنے میں کسی نے دلچسپی لی۔گزشتہ سماعت پہ جسٹس شیخ عظمت سعید کا کہنا تھا ”کہ اسلام آباد پولیس کو تھپڑ کھانے سے فرصت نہیں مل رہی وہ کام کیا کرے گی“ پولیس عدالت میں کھڑے ہوکر جھوٹ بولتی ہے،کہا جاتا کہ کہیں کوئی غیر قانونی کام نہیں ہو رہا ۔ پولیس کو درختوں کی کٹائی نظر کیوں نہیں آتی۔ درختو ں کی کٹائی روکنے بارے کیس دائر کرنے والے” منوں مٹی“ تلے چلے گئے لیکن کیس کا ابھی تک فیصلہ نہیں ہو سکا۔ جنگلات کسی بھی ملک میں اس کی زمین اور آب و ہوا کے لیے بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ عموما جنگلات کے تحفظ اور ان کو بڑھانے کا ”رجحان“ ہونا چاہیے مگر یہاں معاملہ” یکسر“ الٹ ہے۔ وطن عزیز میں جنگلات کے کٹاﺅ کا سلسلہ کبھی ”چوری“ اور کبھی” سینہ زوری“ سے جاری ہے ۔
درحقیقت جنگلات کے” بے دریغ“ کٹاﺅ کو نہ روکا گیا تو دنیا میں بسنے والے تمام لوگوں کی زندگیوں کو موت کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ زمین کے درجہ حرارت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین ماحولیاتی آلودگی سے بچاﺅکے لیے زیادہ سے زیادہ درخت اور پودے لگانے پر زور دے رہے ہیں،جبکہ ہم زیادہ سے زیادہ کاٹنے میں مگن ہیں ۔ پاکستان کا شمار ایسے ممالک میں ہوتا ہے جہاں”ماحولیاتی آلودگی“ نہایت خطرناک صورت اختیار کر چکی ہے۔ ہمارے ہاں ماحولیاتی آلودگی کا اہم سبب درختوں کی ”بے دریغ“ کٹائی ہے۔2011 ءمیں سروے کے مطابق پاکستان میںکل رقبے کے 5.1 فیصد علاقے پر جنگلات تھے ،لیکن بدقسمتی سے اس وقت پاکستان سالانہ 42 ہزار ہیکٹر جنگلات سے محروم ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی تنظیم برائے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت پاکستان میں جنگلات مجموعی طور پر کل 16 لاکھ 17 ہزار ہیکٹر رقبے پر ہیں جو مجموعی ملکی رقبے کا محض 2.2 فیصد بنتا ہے۔ ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں جنگلات کی شرح میں کمی والے کل143 ملکوںکی فہرست میں پاکستان 113نمبر پر موجود ہے۔
پاکستان میں سب سے زیادہ جنگلات آزاد کشمیر میں 4 لاکھ 35 ہزار 138 ہیکٹر رقبے پر محیط ہیں جو آزاد کشمیر کے کل رقبے کا 36.9 فیصد بنتا ہے، خیبر پختونخوا میں 20.3 فیصد، اسلام آباد میں 22.6 فیصد، فاٹا میں 19.5 فیصد،گلگت بلتستان میں 4.8 فیصد، سندھ میں 4.6 فیصد، پنجاب میں2.7 فیصد اور بلوچستان میں محض 1.4 فیصد رقبے پر جنگلات ہیں۔ آزاد کشمیر کے سالانہ بجٹ کا تقریباً ساٹھ فیصد حصہ ان ہی جنگلات سے حاصل ہوتا ہے۔ یہاں سے حاصل ہونے والے پھل، قیمتی جڑی بوٹیاں، ادویاتی پودے، شہد اور دیگر اجناس سے سالانہ کروڑوں روپے کی آمدنی ہوتی ہے۔جنگلات ماحول کو ٹھنڈا اور خوشگوار بنانے، آکسیجن کی زیادہ مقدار فراہم کرنے اور عمارتی لکڑی حاصل کرنے کے لیے ہی ضروری نہیں بلکہ یہاں انواع و اقسام کے پرندے، جانور اور حشرات الارض بھی پرورش پاتے ہیں۔ جنگلات میں پیدا ہونے والی جڑی بوٹیاں، پھل پھول، شہد اور دیگر اشیا انسان کی بہت سی ضروریات پوری کرتی ہیں۔ ہر ملک کے کم از کم پچیس سے چالیس فیصد رقبے پر جنگلات کا ہونا ضروری ہے۔جنگلات فضاءمیں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار کو بڑھنے نہیں دیتے کیونکہ انھیں خود اس گیس کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ آکسیجن خارج کرتے ہیں جو انسانی زندگی کے لیے لازمی ہے۔ ایک عام درخت سال میں تقریباً ”بارہ کلو گرام“ کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتا ہے اور چار افراد کے کنبے کے لئے سال بھر کی آکسیجن فراہم کرتا ہے۔ ایک ہیکٹر میں موجود درخت سالانہ چھ ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں۔ بھیڑ، بکری، اونٹ جیسے حیوانات اپنی غذا ان ہی جنگلات سے حاصل کرتے ہیں۔ماحولیاتی آلودگی آج ہمارے لیے ایک ایسے سنگین اور خطرناک مسئلے کے طور پر ابھر رہی ہے جس کا سدباب نہ کیا گیا تو آنے والے دنوں میں ہمارا ماحول اپنے قدرتی اور” فطری پن“ کو کھو بیٹھے گا اور آنے والی نسلیں متعدد بیماریوں میں مبتلا ہوکر معاشرے کو ایک” اذیت زدہ“ معاشرہ بنادے گی، آج کل جس خطرے سے دنیا زیادہ تر پریشان ہے اور دنیا کو اس کا سامنا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی جس سے پوری دنیا متا ثر ہو رہی ہے۔ وہ خطے زیادہ اس کے لپیٹ میں ہے، جہا ں پر جنگلات کی کمی ہے اور مقررہ رقبے سے کم ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی کی روک تھام میں جو واحد چیز اپنا موثر کردار ادا کرسکتی ہے وہ زیادہ مقدار میں جنگلات ہیں۔ جن خطوں میں جنگلات کا رقبہ زیادہ ہے وہاں پر ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات اس علاقے کے مقابلے میں کم ہو گی ،جہاں پر یہ کم ہے ہر ملک اور خطے میں مختلف ا قسام کی پودے پائے جاتے ہیں جس کی تعداد لاکھوں میں ہیں۔ باجوڑ ایجنسی قبائلی علاقہ کا ایک ایجنسی ہے اوراپر دیر خیبر پختون خواہ صوبے کا ایک اہم ضلع ہے۔ باجوڑاور اپر دیر دونوں علاقے جو شمال میں واقع ہے ان کی سرحد یں افغا نستان کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔اگر چہ باجوڑ میں اتنی زیادہ مقدار میں جنگلات نہیں ہیں لیکن پھر بھی میدانی علاقوں کے مقابلے میں زیادہ ہیں لیکن اپر دیر کے علاقے میں پہلے بہت سے گھنے جنگلات تھے ۔کئی عشروں سے ان قدرتی جنگلات کی” کٹائی “ہورہی ہے جس میں ”ٹمبر مافیا“ کے ساتھ ساتھ علاقے کے بااثر لوگ بھی ملوث ہے، ان لوگوں سے کوئی نہیں پوچھتا کے وہ کیوں اس گھناونے کام میں مصروف ہے ہر ایک نے آنکھیں بند رکھی ہیں۔ ٹمبر مافیا جنگلات کی کٹائی ایسے بے ددردی سے کر رہا ہے جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اگر یہ صورتحال اسی طرح جاری رہی تو بہت جلد یہ سارے جنگلات ختم ہو جائیں گے اور یہ سرسبز پہاڑ چٹیل اور خالی میدانوں کا نظارہ پیش کریگی۔
جنگلات کے تحفظ کے لئے بہت سے ”موثر قوانین “موجود ہے لیکن اس پر عملدرآمد کی کمی ہے جس کی وجہ سے ٹمبر مافیا روز بروز طاقتور ہو تا جارہا ہے اور قانون کمزور۔جنگلات کی لکڑی کی نقل و حمل کے” پرمٹوں“ پر پابندی عائد کی جائے اور قانونی طور پر بھی اس کے کٹائی پر پابندی لگائی جائے ۔ جنگلات کے تحفظ کے لئے بھی بیس سالہ ایمرجنسی لگائی جائے، تاکہ جنگلات کے رقبے میں اضافہ کیا جا سکے۔ خیبر پختون خواکی صوبائی حکومت نے سونامی بلین ٹریزکے نام سے درخت لگانے کا ایک بڑا منصوبہ شروع کیا ہے جس سے توقع کی جارہی ہے کہ ایک ارب تک پودے لگا ئے جائیں گے۔یقینی طور پر اس سے موسمیات میں تبدیلی واقع ہو گی ، حکومت لوگوں کے آگاہی کے لئے ایک موثر مہم چلائے، لوگوں کو جنگلات کے” فوائد“ سے باخبر کیا جائے ان میں شعور پیدا کیاجائے کہ جنگلات کی کٹائی سے کون کو نسی تباہی آسکتی ہے۔