اردو کہانی

کالم نگار  |  سید روح الامین
اردو کہانی

سعید آسی صاحب کا گزشتہ دنوں ایک کالم شائع ہوا جسے پڑھ کر علم ہوا کہ بعض اصحاب کو سلامتی کونسل میں وزیر اعظم کا انگریزی میں خطاب بھی ناگوار گزرا ہے۔ جناب سعید آسی صاحب نے بڑے مدلل انداز میں وضاحت کے ساتھ بیان کیا کہ بے شک اردو ہماری قومی زبان ہے مگر انگریزی سے نفرت بھی مناسب نہیں۔ بلاشبہ اردو ہماری قومی زبان ہے۔ قائد اعظمؒ نے بھی فرما دیا تھا کہ پاکستان کی قومی و سرکاری زبان اردو اور صرف اردو ہو گی۔ 1973ء کے آئین کی شق 251 میں بھی درج ہے کہ پندرہ سال یعنی 1988ء تک اس کو عملی طور پر نافذ کیا جائے گا جو کہ تاحال نہیں ہوا۔ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے فیصلہ بھی صادر فرمایا کہ اردو کے نفاذ کے لئے راہیں ہموار کی جائیں نفاذ اردو اشد ضروری ہے مگر ’’شدت پسندی‘‘ سے گریز کرنا ہو گا۔ انگریزی کلچر سے تو نفرت مناسب ہے جہاں تک زبان کا تعلق ہے دیگر زبانوں کی طرح انگریزی سے بھی فائدہ اٹھانا کوئی گناہ نہیں۔ راقم نے بھی 2004ء میں تحریک نفاذ اردو قائم کی۔ جس کی سرپرستی ڈاکٹر فرحان فتح پوری (مرحوم)، ڈاکٹر جمیل جالبی، ڈاکٹر محمد علی صدیقی (مرحوم)، پروفیسر فتح محمد ملک، ڈاکٹررشید امجد جیسے اہل علم نے کی۔ نہ صرف یہ کہ ہم اپنی قومی زبان سے زبانی حد تک محبت کے ’’دعویدار‘‘ تھے بلکہ راقم نے مندرجہ بالا اصحاب علم و دانش کی سرپرستی میں چند نایاب کتب اردو دنیا کو پیش کیں۔ جن میں ’’اردو ہے جس کا نام‘‘، ’’اردو تاریخ و مسائل‘‘ اردو کے دھنک رنگ وغیرہ شامل ہیں۔ آج یہ ساری کتابیں کئی جامعات کے ایم اے اردو اور پی ایچ ڈی کے نصاب میں شامل ہیں اور ان کتب پر تحقیقی کام بھی تین جامعات میں ایم اے کی سطح پر ہو چکا ہے۔ راقم نے جب کالم نویسی کا آغاز کیا تو آغاز میں تین سال صرف اردو کے حوالے سے کالم تحریر کئے۔ پھر جناب محترم مجیدنظامی صاحب نے حکم دیا کہ آپ اردو کے علاوہ حالات حاضرہ پر بھی لکھا کریں۔ ان کے حکم کی تعمیل میں حالات حاضرہ پر بھی لکھنے شروع کئے یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔ تحریک نفاذ اردو کے سلسلے میں ایک روز میں جناب مجید نظامی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا کہ جناب آپ اس تحریک کی سرپرستی فرمائیں۔ فرمانے لگے نہیں میں بھی آپ کی طرح ایک کارکن کی حیثیت سے اس میں شامل ہو رہا ہوں۔ آپ نے اپنے دستخط بھی فارم پر ثبت فرما دیئے جو آج بھی میرے پاس محفوظ رہے۔ ساتھ ہی فرمانے لگے کہ اردو کا نفاذ بہت ضروری ہے مگر ہمارے ہاں غریب جو بچے انگریزی نہیں پڑھ سکتے یا نہیں پڑھتے ان کو نوکریاں نہیں ملتیں جناب محترم نظامی صاحب کی یہ بات حقیقت پر مبنی اور معنی خیز تھی۔
جس طرح بعض لوگ دوسروں کو امریکہ سے نفرت کا درس دیتے نہیں تھکتے مگر خود ان کے اپنے بچے امریکہ میں تعلیم بھی حاصل کرتے ہیں اور روزگار بھی ادھر کرتے ہیں۔ بالکل اسی طرح ہمارے ہاں کئی اصحاب ایسے ہیں جو خود تو ساری زندگی انگریزی پڑھاتے ہیں یا انگریزی میں پڑھاتے ہیں ان کی اولاد میں انگلش میڈیم سکولز کالجز میں تعلیم حاصل کر کے اعلیٰ عہدے پر فائز ہو جاتی ہیں مگر خود وہ جب ریٹائرڈ ہوتے ہیں تو وقت گزاری کے لئے اردو کی وکالت شروع کر دیتے ہیں۔ بلاشبہ ہر پاکستانی کی یہی خواہش ہے کہ ہماری قومی و سرکاری زبان اردو کو عروج حاصل ہو اور اس کا دنیا کی متمدن زبانوں میں شمار ہو لیکن معاف کیجئے گا یہ کام انگریزی کی مخالفت سے نہیں ہو سکتا۔ انگریزی زبان دنیا کی مہذب زبانوں کی صف اول میں جگہ رکھتی ہے جدید وسائل نقل و حرکت کی وجہ سے پرانی جغرافیائی حد بندیاں ٹوٹ چکی ہیں اور روز بروز قومیں ایک دوسرے کے قریب تر آ رہی ہیں۔ تجارت، صنعت و حرفت، سفر کی ضروریات، سیاسی تعلقات ان سب کی وجہ سے ہمیں ایک ایسی زبان کی ضرورت ہے جس سے ہم دوسرے ممالک سے خط و کتابت کر سکیں یا رفتہ اربتاط بڑھا سکیں سیاسی اور ادبی دونوں لحاظ سے انگریزی کو عدیم المثال وقار حاصل ہے چونکہ ہم یہ زبان مدت سے سیکھ رہے ہیں اور ہمیں اس کی تعلیم کے لئے شمار وسائل اور صلاحیتیں حاصل ہیں لہذا اس کا بطور ثانوی زبان کے سیکھنا ہمارے لئے بے حد موزوں ہو گا۔ باقی رہا یہ سوال کہ کیا اردو زبان میں اس وقت اتنی وسعت اور صلاحیت ہے کہ اسے انگریزی کی جگہ ذریعہ تعلیم قرار دیا جائے گا تو اس کا جواب صرف ایک ہی ہے کہ جب کسی زبان کو اعلیٰ مقاصد کیلئے استعمال کیا جاتا ہے تو اس میں از خود بتدریج مطلوبہ صلاحیتیں پیدا ہو جاتی ہیں دنیا میں کوئی زبان خود بخود ترقی نہیںکرتی بلکہ جب اسے اعلیٰ مقاصد کیلئے استعمال کیا جاتا ہے تو اس کی وسعت، گہرائی اور لطافت میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ اورنگ زیب کی وفات سے پیشتر فارسی کو وہی مقام حاصل تھا جو ہمارے ہاں آج کل انگریزی کو ہے خاندان مغلیہ کے زوال کے بعد مسلمان علماء نے یہ محسوس کیا کہ انہیں اردو کو فروغ دینا چاہیے اس تحریک میں خان آرزو سب سے آگے تھے۔ وہ اور ان کے رفقاء اس مشن میں کامیاب ہوئے چنانچہ فارسی کی جگہ اردو نے لے لی لیکن اردو کو فروغ دینے کا ان کے پاس صرف ایک ہی ذریعہ تھا یعنی اردو کو فارسی کی دولت سے مالا مال کیا جائے اگر آج ہم اردو کو فروغ دینا چاہتے ہیں تو ہمارا بھی ایسا ہی فیصلہ ہونا چاہیے یعنی انگریزی علوم کو اردو میں منتقل کریں۔ ہمیں اردو کے نفاذ کے لئے ہر سطح پر کوشش کرنی چاہیے۔ مگر انگریزی کے بارے شدت پسندی اور منافرت سے اجتناب کرناہو گا۔ انگریزی زبان کے ہم پر احسانات بھی ہیں۔ ان کاذکر کسی اور کالم میں کریں گے۔ نفاذ اردو بے حد ضروری ہے مگر انگریزی سمیت بھی دوسری زبان سے دشمنی کئے بغیر۔