مُتشدد رویئے اور قانون؟؟؟

کالم نگار  |  فہمیدہ کوثر
مُتشدد رویئے اور قانون؟؟؟

سانحہ ڈسکہ نے ایک بار پھر یہ سوال پیدا کر دیا کہ پاکستانی معاشرے کی سمت کیا ہے۔ اڑسٹھ سالوں میں صحیح طورپر قوانین کے نفاذ پر عملدرآمد کیوں نہ ہو سکا اور مزید یہ کہ اس طرح کے کتنے روح فرسا واقعے جنم لیتے رہیں گے۔ خون کی مسلسل ہولی اور خوف و ہراس نے بے یقینی کی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ کبھی ماڈل ٹائون میں چودہ لاشیں گرا دی گئیں اور کبھی تھانیدار نے سیدھی فائرنگ کرکے وکیلوں کو نشانہ بنا ڈالا۔ کہیں عدالت کے سامنے صحافیوںپر تشدد ہوا اور کہیں طاقتور قانون سے بچ نکلا۔ درحقیقت ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں طاقتور کیلئے الگ قانون ہے۔ پولیس کیلئے الگ قانون‘ وکلاء کیلئے اور عوام کیلئے الگ قانون ہے‘ لیکن صحیح اور جامع قانون کا وجود سرے سے ہی ناپید ہے اور یہی برابیوں کی جڑ ہے۔ لاقانونیت‘ غلط رویوں کو جنم دیتی ہے جس میں توڑ پھوڑ‘ جلائو گھیرائو اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا سرفہرست ہے۔ سوال تو یہ ہے کہ یہ متشددانہ رویئے ملک و قوم کو کس طرف لے کر جا رہے ہیں۔ کیا یہ اسلامی معاشرے کے تقاضے ہیں کہ لوگوں کی جان و مال تک محفوظ نہ رہے۔ ایک اسلامی ممالک کے کیا تقاضے ہیں‘ آپؐ نے ایک اسلامی معاشرے میں عوام کی جان و مال اور آبرو کو تحفظ دیا۔ آپؐ نے فرمایا کہ حاکم رعیت میں ایسا ہے جیسے روح جسم میں اسلامی معاشرے میں خلیفہ کے اختیارات و فرائض کا تعین کچھ اس طرح کیا جا سکتا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے مسند خلافت پر بیٹھتے ہی اپنے سب سے پہلے خطبے میں فرمایا کہ ’’میری اطاعت اس وقت تک کرو جب تک کہ میں اللہ اور اسکے احکام کی پاسداری کروں۔ اگر میں ذرا بھر بھی راہِ مستقیم سے ہٹوں تو مجھے سیدھا کر دینا۔‘‘اسلامی ریاست کا ہر شہری تو قانون کی نظر میں برابر ہوتا ہے۔ سورہ مائدہ میں فرمایا کہ ’’پس تم لوگوں کے درمیان اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلے کرو اور اس قانون حق کو چھوڑ کر جو تمہارے پاس آیا لوگوں کی خواہشات کی پیروی مت کرو۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم خواہشات کے جنجال میں الجھ کر اس قانون کو فراموش کر چکے ہیں جو متوازن معاشرے کی بنیاد رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قیام پاکستان سے لیکر اب تک ہم وہ لائحہ عمل تشکیل نہیں دے سکے ہیں کہ جو عوام کو تحفظ فراہم کر سکے۔ انصاف کی فراہمی اور عوام کی انصاف تک رسائی ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔ جس ملک میں انصاف کے حصول کیلئے عمر خضر‘ صبر ایوب اور دولت قارون کی ضرورت ہو وہاں اس قسم کے واقعات معمول کا حصہ بن جاتے ہیں۔ لاقانونیت اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ لوگ قانون کو ہاتھ میں لینے لگتے ہیں۔ توڑ پھوڑ اور سرکاری املاک کا نقصان ایک عام سی بات بن جاتی ہے ۔اس معاشرے میں جارحانہ رویئے پیدا ہوتے ہیں۔ ایک تاریخی مورخ اسپینگلر ان حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ ’’جب برسراقتدار طبقہ خود کو عقل کل سمجھے لگے اور عوام کے فیصلوں کو درخور اعتنا نہ سمجھے تو قانون اپنی اصل حیثیت اور ہیئت کھو بیٹھتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نجانے اس قسم کے واقعات کب تک ہوتے رہیں گے۔ اس وقت بحیثیت مجموعی ہمیں اس سیاسی سوجھ بوجھ کی ضرورت ہے جس سے اندرونی اور بیرون عوامل سے نمٹا جا سکے کیونکہ جب لاشوں پر سیاست ہونے لگے تو بیرون قوتوں کو بھی پرپرزے نکالنے کا موقع مل جاتا ہے۔ کسی بھی معاشرے کی سمت کا تعین کرنے کیلئے اختیارات و فرائض کی سمت مقرر کرنا ضروری ہوتا ہے‘ لیکن جب اختیارات و فرائض میں ہی توازن نہ رہے تو ملک بے سمت ہو جاتا ہے۔ عوام میں فرسٹریشن بڑھنے لگتی ہے۔ ملک کی کارکردگی بہتر بناننے کیلئے انفرادی کارکردگی بہتر بنانا از حد ضروری ہے‘ لیکن طرہ یہ کہ 250 سیاستدانوں کی ڈگریوں پر سوالیہ نشان بلاشبہ ملک و قوم کی کارکردگی کی طرف واضح اشارہ ہے۔ ہم نے جمہوریت پر بارہا تجربے کئے‘ کبھی اسے محدود جمہوریت کا لبادہ اوڑھایا گیا اور کبھی آمریت اور جمہوریت کا منصوبہ بنا کر جمہوری اصولوں کو نافذ کر دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم صحیح معنوں میں اس جمہوریت تک نہ پہنچ پائے جس میں عوام کو جان و مال کا تحفظ حاصل ہو۔ تب کچھ بعید نہیں کہ ان واقعات کا سدباب ممکن نہ ہو سکے۔ عوام کے رویہ میں جارحیت پسندی کا عنصر غالب ہو جائے اور سب سے زیادہ افسوسناک بات تو یہ ہے کہ جب قانون کی حفاظت کرنے والے ہی قانون توڑنے لگیں تو حالات کی سنگینی کا اداک کرنا مشکل امر نہیں ہے۔