مظلوم کی آہ سے بچو!

مظلوم کی آہ سے بچو!

بہت عرصہ پہلے… شاید کئی صدیاں گزر گئی ہیں … جب پہلی بار پنجاب کا وزیر اعلیٰ منتخب ہونے پر میاں شہباز شریف نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ تھانہ کچہری کلچر کو بدل کر رکھ دیں گے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ شہباز شریف وہ شخص ہے جو جیسا چاہتا ہے اور جو چاہتا ہے اور جب چاہتا ہے، کر لیتا ہے۔ اس کا یہ مطلب (از خود بالکل) نہیں کہ وہ مختار کل ہے بلکہ اسے اپنی صلاحیتوں پر اس درجہ اعتماد ہے اور اپنے ارادے میں ایسی پختگی رکھتا ہے کہ پہاڑ اپنی جگہ سے ہل سکتا ہے لیکن شہباز شریف اپنی کہی ہوئی بات سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔ گویا میاں شہباز شریف فارسی کے اس ضرب المثل کی جیتی جاگتی تصویر ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ:
’’زمین جنبد نہ جنبد گل محمد‘‘
لیکن پولیس تھانہ کچہری کلچر تبدیل کرنے میں شہباز شریف جیسا دیوقامت وزیر اعلیٰ بھی ناکام ہو گیا ہے بلکہ پولیس کلچر میں پہلے کی نسبت زیادہ خرابیاں پیدا ہو چکی ہیں۔ ماڈل ٹائون کا واقعہ اور اس کے بعد اب ڈسکہ کا واقعہ، پولیس کی تاریخ کے بدترین واقعات ہیں یعنی جو اسلحہ سرکار، پولیس کو عوام کی حفاظت کے لیے دیتی ہے اب وہ اسلحہ بے گناہوں کو قتل کرنے کے کام آ رہا ہے اس سے بڑھ کر کسی حکومت کی ناکامی اور بے عزتی اور کیا ہو گی کہ سرکاری اہلکار بے گناہ شہریوں کو بیچ چوراہے کے اپنی انا اور ضد کی بھینٹ چڑھاتے جائیں اور کوئی انہیں پکڑنے والا، پوچھنے والا اور سزا دینے والا نہ ہو۔وجہ اس کی یہ ہے کہ پولیس جو کچھ بھی کرتی ہے اس کا ’’کریڈٹ‘‘ براہ راست صوبائی حکومت کو جاتا ہے۔ پولیس کی دہشت گردی کا خمیازہ پولیس کو بعد میں اور حکومت کو پہلے بھگتنا پڑتا ہے۔اگر وزیر اعلیٰ پنجاب نے اس بار بھی قاتل پولیس والوں کو سزا دلوانے میں کوتاہی کا مظاہرہ کیا تو پھر انہیں یہ نوشتۂ دیوار بھی پڑھ لینا چاہیے کہ ظلم کی حمایت کرنے والا بھی ظالم ہے اور کوئی ظالم خدا کے قہر سے بچ نہیں پاتا۔ اگر وہ گناہگاروں کو سزا دلوانے میں ناکام رہتے ہیں تو انہیں ایسی حکومت ، ایسی کرسی اور ایسے اقتدار کو ٹھوکر مار دینا چاہیے جو ظالم کو کیفر کردار تک پہنچانے کے کام بھی نہیں آ سکتا۔حکومت نے گزشتہ بجٹ میں پولیس کی تنخواہوں میں سو گنا اضافہ کیا تھا لیکن کیا اس سے پولیس کی کارکردگی بہتی ہوئی؟ یا پولیس نے عوام کو جانی و مالی تحفظ دینے میں سنجیدگی سے کام لیا؟ اب بجٹ کی آمد آمد ہے۔ وزیر اعظم نے فرمایا ہے کہ آئندہ بجٹ میں فوج کی ضروریات کو پورا کیا جائے گا۔ چلیے ہم بھی سمجھتے ہیں کہ جو لوگ ملک کی سرحدوں کی حفاظت کر رہے ہیں اور ملک کے اندر دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے اپنے تن من کی بازی لگا رہے ہیں ان کی ضروریات پوری ہونی چاہئیں لیکن وزیر اعظم کو عوام کو بھی کچھ خیال ہے کہ نہیں؟ کہ پاکستانی عوام کی اکثریت غریبوں اور بے سہارا اور بیروزگاروں پر مشتمل ہے۔ کیا آئندہ بجٹ میں غریب عوام کی ضروریات کو بھی پورا کرنے کا کوئی پروگرام بنایا گیا ہے؟ جبکہ خبریں یہ آ رہی ہیں کہ بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں مزید اضافے کی سمری وزیر اعظم کو بھجوا دی گئی ہے اور اس کے علاوہ مختلف قسم کے ٹیکسوں پر چھوٹ بھی ختم کی جا رہی ہے۔ گویا غریب عوام کو آئندہ بجٹ میں مزید کچلنے اور ان کا خون نچوڑنے کے بندوبست کیے جا رہے ہیں۔اس سے تو آصف زرداری کی حکومت بہتر تھی جس نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں پچاس فیصد اضافہ کرکے عوام کے دل جیت لیے تھے جبکہ مسلم لیگ (ن) جب سے اقتدار میں آئی ہے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں دس فیصد سے زیادہ اضافہ نہیں کیا گیا اور یہ دس فیصد اضافہ کرکے بھی سرکاری ملازمین پر بڑا احسان جتایا جاتا ہے جبکہ آئندہ بجٹ میں یہ شرح کم کرکے چھ فیصد کی جا رہی ہے۔ گویا سرکاری ملازمین جن میں سب سے زیادہ قابل رحم سکول اور کالج اساتذہ ہیں، کو بچوں سمیت بھوکوں مارنے کی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔میاں نواز شریف عوام کے ووٹوں سے ہی منتخب ہو کر وزیر اعظم بنے ہیں اور اب انہی عوام کی محرومیوں کو کم کرنے کے بجائے ان میں اضافہ بھی کرتے چلے جا رہے ہیں۔ حکومت کو غریب عوام پر ترس کھانا چاہیے۔ آئندہ بجٹ کے ساتھ ہی رمضان المبارک کی بھی آمد آمد ہے۔ کم از کم رمضان میں تو اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں قابل ذکر کمی ہونی چاہیے۔ وزیر اعظم کو خصوصی طور پر غریب عوام کی خوشحالی اور فلاح کی طرف توجہ دینا ہو گی ورنہ بقول خواجہ غریب نواز: ’’مظلوم اور خدا کے مابین کوئی پردہ نہیں ہوتا اسی لیے مظلوم کی آہ سے بچنا چاہیے‘‘۔