قومی مسائل سے لاتعلقی… حکومت کا ’’طرۂ امتیاز‘‘!

کالم نگار  |  خالد کاشمیری
قومی مسائل سے لاتعلقی… حکومت کا ’’طرۂ امتیاز‘‘!

پاکستان اور اسکے کروڑوں عوام اقتصادی، سیاسی، سماجی اور معاشی طور پر تاریخ انسانی کے جن بدترین حالات کا سامنا کر رہے ہیں ایسے میں اوپر سے نیچے تک کے ارباب اقتدار کے دعوے اور بیانات ثانوی حیثیت اختیار کر چکے ہیں بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ مسند نشینوں کے بیانات محض سراب اور دھوکہ ہیں۔ حکمرانوں کی طرف سے ملک و عوام کی ترقی کے معاملے میں اپنی نااہلیوں اور ناکامیوں کو چھپانے کی ناکام کوششوں میں حزب اختلاف کو ذمہ دار قرار دینے کا سلسلہ حسب سابق جاری ہے۔ نشۂ اقتدار سے سرشار ایوان اقتدار کے مکینوں کے ایسے ایسے بیانات دیکھنے اور سننے میں آتے ہیں جن کا کوئی سر پیر ہے نہ کوئی مطلب! حال ہی میں ملک کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کے چیف ایگزیکٹو نے فرمایا کہ نوجوانوں کو بااختیار بنا کر ملک و قوم کی تقدیر بدل سکتے ہیں، آخر اس فرمان پر عملدرآمد کرنے کیلئے کون آئیگا؟ صرف واہ واہ کی خاطر نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے وعظ سے تو نوجوان بااختیار ہونے سے رہے، بااختیار ہونے کا مطلب اس نوجوان نسل پر امور مملکت میں شامل ہونے کے دروازے وا کرنے ہیں جنہوں نے آگے چل کر اپنے ہم وطنوں کو ان کربناک معاشی، سیاسی اور اقتصادی حالات سے نکالنے کیلئے تگ و دو کرنا ہو گی جن کربناک حالات سے آ کے نوجوان اور پوری قوم گزر رہی ہے۔ ہاں ملک میں جو لوگ غریب عوام کے خون پسینے کی کمائی کی بدولت جمہوری اداروں سے لے کر ایوان اقتدار اور اس کی غلام گردشوں تک رسائی پر عیش و آرام کی زندگی بسر کر رہے ہیں اور اسی بنیاد پر فکر معاش سے آزادی حاصل کر چکے ہیں۔ ملک کے اٹھارہ کروڑ عوام میں انکی تعداد ہزاروں خاندانوں سے تجاوز نہیں کرتی۔ اگر واقعی اہل اقتدار کی دل سے یہ خواہش ہو کہ نوجوان نسل کو بااختیار بنا کر امور مملکت میں ان کو شریک کیا جائے تو نوجوانوں کو امور مملکت چلانے کیلئے تربیت کے بنیادی اداروں کے قیام سے گریز نہ کیا جاتا، ارتکاز اختیارات کی حرص کو ایک طرف رکھ کر بلدیاتی اداروں کے انتخابات کو اولیت دی جاتی۔ اب تو نوبت بہ اینجا رسید کہ پنجاب حکومت نے بچوں کو تعلیم دلانے سے بھی معذوری کا اظہار کر دیا ہے۔ عوامی خدمت کے زبانی جمع خرچ کی دعویدار حکومت پنجاب کے سرکاری تعلیمی اداروں سے چھٹکارا حاصل کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے۔ دنیا بھر کے ممالک کی حکومتیں بچوں اور نوجوانوں کی تعلیمی ضروریات پوری کرنے کیلئے اپنے میزانیہ میں زیادہ سے زیادہ رقوم عوام کو طبی سہولتوں اور تعلیم کے شعبے کیلئے مختص کرتی ہیں مگر ادھر نوجوانوں کو بااختیار کرنے کے نعرے لگانے والوں کے عہد حکومت میں مستقبل کے معماروں کی تعلیم کے سلسلے میں ہاتھ کھڑے کر دیئے گئے ہیں۔ پنجاب حکومت کے اس فیصلے سے سرکاری سکولوں کے لاکھوں اساتذہ استانیوں بلکہ کروڑوں طلباء و طالبات کے والدین کا عجیب و غریب قسم کی ذہنی اذیتوں میں مبتلا ہو جانا فطری امر ہو گا تاہم حکمرانوں کو ایسی عاقبت نااندیش پالیسیوں کا نتیجہ بھگتنے کیلئے تیار رہنا ہو گا۔ حکمرانوں نے ملک کے غریب عوام کو جسم اور روح کا رشتہ بحال رکھنے کی خاطر سہولتیں مہیا نہ کرنے کی تو غالباً قسم اٹھا رکھی ہے۔ رمضان المبارک کی آمد میں قریباً ایک ماہ باقی ہے مگر حکمرانوں کے حسن انتظام کا یہ عالم ہے کہ ملک کے تمام حصوں میں سبزیوں، پھلوں اور دیگر اشیائے خورد و نوش کے نرخوں نے آسمان سے باتیں کرنا شروع کر دی ہیں۔ جس عہد حکومت میں ٹماٹر 90 روپے، پیاز 70 روپے، کریلا 60 روپے، بھنڈی 80 روپے، پھلیاں 200 روپے، اروی 60 روپے، مٹر 80 روپے، امرود 100 روپے، سیب 150 سے 200 روپے فی کلو ہوں اس کے حکمران کس منہ سے ’’گڈگورننس‘‘ کے تمغے کے حقدار کہلا سکتے ہیں؟ پنجاب میں برائلر مرغی کا گوشت 220 روپے فی کلو بکنا ارباب اقتدار کیلئے لمحۂ فکریہ ہونا چاہئے۔ اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مہنگائی، طبی سہولتوں کا سو فیصد فقدان، تن ڈھانپنے کیلئے کپڑے کا حصول، رہنے کیلئے چھت، پینے کیلئے صاف پانی حکمرانوں کا مسئلہ نہیں ہے نہ یہ کسی بھی سطح کے وزیروں، مشیروں اور معاونین خصوصی کا مسئلہ ہے نہ ان حاشیہ نشینوں کا جن کی ایک کھیپ کو جو مختلف سطحوں پر پولیٹکل سیکرٹریوں اور کوآرڈی نیٹروں کے نام سے نوازا جاتا ہے۔ لاتعداد ایسے ہیں جو مختلف نیم خودمختار اداروں میں حاکمان وقت کے صوابدیدی اختیارات کی ’’خیرات‘‘ سے اہم عہدوں پر نامزد ہو کر ہمیشہ کیلئے فکر معاش سے آزاد ہو چکے ہیں۔ اسکے علاوہ ارکان صوبائی اور قومی اسمبلی ہیں، ان میں بڑی کثیر تعداد میں مختلف کمیٹیوں کے چیئرمین ہیں، باقی اراکین، چیئرمینوں کو فاقہ کش عوام کے خون پسینے کی کمائی سے ٹیکسوں سے جو مراعات حاصل ہوتی ہیں انہی کے نتیجے میں انہیں ان مجبور و بے بس عوام کے مسائل کے حل کی طرف ارباب حکومت کی توجہ مبذول کرانے کا فرض فراموش کر رکھا ہے۔ جن غریب عوام نے اپنے ووٹوں سے صرف اور صرف انکے انتخابی نعروں سے دھوکہ کھا کر انہیں منتخب کرانے کا ’’گناہ‘‘ کیا تھا، برسراقتدار طبقے سے عبارت ہزاروں افراد پر مشتمل یہ کھیپ ملک کے پورے کے پورے وسائل کو اپنے ذاتی مسائل کے حل کی طرف موڑ چکی ہے اور ملکی وسائل کو عوام کے مسائل کے حل کیلئے استعمال کرنے کا انکا کوئی پروگرام تھا نہ ہے۔ موجودہ حکمرانوں کے ’’گڈگورننس‘‘ نے دعووں کی قلعی اس حقیقت نے کھول کر رکھ دی ہے کہ کینسر ایسے موذی مرض کی جو دوائی ہمسایہ ملک بھارت میں صرف دس ہزار روپے میں فروخت ہوتی ہے حکومتی ادارے نے پاکستان میں درآمد کی جانیوالی اس دوائی کو من مرضی کے نرخوں پر فروخت کرنے کی اجازت دی ہے اور حکومت کے اس فیصلے کی روشنی میں پاکستان کی ایک ملٹی نیشنل کمپنی نے گردے، دماغ اور پھیپھڑوں کے کینسر کے علاج کیلئے استعمال ہونے والی دوائی کو 76,667/- روپے میں درآمد کر کے دو لاکھ 32 ہزار 800 روپے میں فروخت کرنا شروع کر رکھا ہے۔ بھارت ہمارا دشمن ملک ہی سہی مگر وہاں کے حکمرانوں نے اپنی دواساز کمپنی سے یہی دوا بھارت میں تیار کرائی اور وہاں صرف دس ہزار روپے میں کینسر کے مریضوں کو مہیا ہوتی ہے۔ہم بحیثیت قوم کدھر جا رہے ہیں؟ قومی پژمردگی کیا رنگ لائے گی؟ باغبان کا کام گلشن کے کسی مخصوص روش کی آبیاری اور نشوونما نہیں، پورے گلشن میں بکھرے ہر طرز اور ہر طرح کے گل و خار کی پرورش و دیکھ بھال ہوتا ہے۔ اگر صیاد، مالیوں کا روپ دھار لیں تو گلشن کا حسن چھن جانا اس کا مقدر بن جاتا ہے۔ خدا کرے اس گلستان کے مالی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنے لگیں۔