بدترین پولیس گردی!

بدترین پولیس گردی!

اگر حکومت کا کام صرف موٹرویز بنانا اور میٹرو بسیں چلانا اور عوام کو پولیس کے رحم و کرم پر چھوڑنا ہے تو یہ حکومت کی ’’گڈ گورنس‘‘ کیلئے ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ حکومت کا پہلا کام عوام الناس کے جان و مال کا تحفظ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت عمر فاروقؓ کا یہ فرمانا ’’کہ اگر فرات کے کنارے کتا بھی بھوک سے مر گیا تو مجھ سے سوال ہو گا‘‘ خوف الٰہی و خوف آخرت کا واضح ثبوت ہے اور جس اسلامی ریاست میں حکومت خود ہی پولیس کے ہاتھوں عوام کا قتل عام ہوتا دیکھ کر تماشائی بنی رہے اور روک تھام کیلئے کوئی اقدامات نہ کرے تو ایسی ریاست کا خود کو ’’اسلامی جمہوریہ‘‘ کہلوانا بھی ایک سوالیہ نشان ہو گا۔ چند روز قبل ڈسکہ میں شہزاد نامی S.H.O نے سرعام فائرنگ کر کے دو وکلاء کو قتل کر دیا۔ اسی S.H.O نے 7 سال قبل ایک حوالاتی کو بھی قتل کر دیا تھا۔ دہشتگردوں نے 70 ہزار معصوم شہری شہید کر دیئے۔ پولیس آئے روز عام شہریوں کا قتل عام کر رہی ہے۔ حکومت کہاں کھڑی ہے؟ پولیس کو لگام کون دیگا؟ ویسے تو ہمارے ہاں صدر، وزیراعظم سے لے کر درجہ چہارم کے ملازم تک ہر کوئی اختیارات کا ناجائز استعمال کرتا ہے مگر پولیس تو بے گناہ لوگوں کو مارنے سے ذرا بھی نہیں چوکتی۔ اور نہیں تو مالک حقیقی کا بھی انہیں خوف نہیں ہوتا ان کے دل میں ذرا بھی خوف خدا اور خوف آخرت نہیں ہوتا۔ کالی وردیوں سے دل تو کالے نہیں ہو جاتے؟ صدر، وزیراعظم سے لیکر وزرائ، وکلا حضرات، پولیس والے سبھی زبانی تو قانون کے احترام کی باتیں کرتے نظر آتے ہیں مگر بخدا ان میں سے قانون پر عمل کوئی بھی نہیں کر رہا ہوتا۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں جن پولیس والوں نے درجن سے زائد عام شہری قتل کئے اگر انہیں پھانسی پر لٹکا دیا جاتا یا ان پر دہشت گردی کی دفعات لگا کر مقدمات چلائے جاتے تو آج کسی بھی پولیس والے کو قانون کو پاؤں تلے روندنے کی جرأت نہ ہوتی۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی رپورٹ میں وزیراعلیٰ، وزیر قانون وغیرہ کسی بھی ’’بڑے‘‘ کو نامزد نہیں کیا گیا۔ یعنی ان میں سے کوئی بھی اس سانحہ کا ذمہ دار نہیں تھا اگر اسے درست مان لیا جائے تو کیا یہ سارا کچھ پولیس نے من مانی سے کیا تھا؟ تو پھر ابھی تک وہ پولیس والے جنہوں نے قتل کئے ابھی تک سزا سے بچ کیوں رہے ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ مفرور ایس پی کو قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے۔ آئے روز تھانوں میں جب ’’مک مکا‘‘ نہیں ہوتا تو ملزم کو تشدد سے مار دیا جاتا ہے۔ اگر ’’مک مکا‘‘ کامیاب ہو جائے تو بخدا قاتلوں کو پولیس خود تحفظ فراہم کرتی ہے۔ اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان اکثر حکومت کو پولیس کے حد درجہ ظلم و ستم والے رویے سے خبردار کرتے رہتے ہیں مگر نہ تو پولیس افسران پر اثر ہوتا ہے نہ ہی حکومت کو نوٹس لینے کا وقت ملتا ہے۔ دو ماہ قبل ہائیکورٹ لاہور کے جج صاحبان نے ایک مقدمے میں پنجاب پولیس کی ان الفاظ میں ’’عزت افزائی‘‘ کی تھی ’’پولیس کو نہ خدا کا خوف ہے نہ اسکی اخلاقیات ہیں‘‘۔ ایک ماہ قبل منڈی بہاؤالدین میں ایک خاتون سے پولیس اہلکاروں کی زیادتی کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے جسٹس جواد نے فرمایا ’’پاکستان میں مفلس عورت اور غریب کی بیٹی ہونا جرم بن گیا ہے اگر پولیس قانون کی پاسداری نہیں کرتی قواعد و ضوابط کی پیروی نہیں کرتی تو شاہراہ دستور پر رکھ کر پولیس رولز کو آگ لگا دیں‘‘۔ پولیس صرف قتل عام کرنے میں ہی نہیں کرپشن میں بھی اول نمبر پر قرار پا چکی ہے۔ ’’محکمہ اینٹی کرپشن کی طرف سے تیار کردہ ایک حالیہ رپورٹ کیمطابق پنجاب پولیس کرپشن میں ایک بار پھر بازی لے گئی ہے۔ رپورٹ کیمطابق ساڑھے آٹھ ہزار سے زائد انکوائریوں اور پونے دو ہزار سے زائد مقدمات ہیں۔ پولیس کے افسران اور اہل کار کرپشن میں پہلے نمبر پر ہیں۔ بورڈ آف ریونیو کے دوسرے اور محکمہ تعلیم کے افسران تیسرے نمبر پر ہیں۔ عورتوں کو تحفظ دینے کی بجائے پولیس والے خود غریب و بے بس عورتوں سے زیادتیاں کرتے ہیں۔ تشدد سے مار دینا تو روز کا معمول ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب کچھ ایسے ہی چلتا رہے گا یا کوئی ایسا قانون وضع کیا جائیگا جو کہ پولیس کے ہاتھوں بے گناہ شہریوں کو تحفظ دے سکے گا۔ اگر ایک پولیس والا جتنے مرضی لوگ قتل کر دے تو اسے سب سے بڑی سزا ’’معطلی‘‘ کی دی جاتی ہے جو کہ تین چار ماہ کے بعد بحالی بھی ہو جاتی ہے۔ اگر تشدد سے مارنے پر پولیس کو کٹہرے میں لایا جائے اور فوراً سزا دی جائے تو ایک بھی تشدد سے ہلاکت کا واقعہ نہ ہونے پائے۔ یقین کریں تشدد جرم کا اقرار کرانے کیلئے نہیں کیا جاتا بلکہ مال کا نہ ملنا باعث ہوتا ہے۔ اگر ملزم غریب ہو گا تو مال تو دے نہیں پائے گا تو ’’تشدد‘‘ کا حق دار ہو گا بے شک جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ تشدد کرنیوالے کو بھی علم ہوتا ہے کہ غریب ہے مر بھی گیا تو میرا کیا بگڑ جائیگا۔
عدل و انصاف فقط حشر پر موقوف نہیں ہے
زندگی خود بھی گناہوں کی سزا دیتی ہے
اگر پولیس کو رینجرز کے کام پر لگا دیا جائے اور رینجرز کو پولیس کا کام سونپ دیا جائے تو یقیناً بہتری ہو گی۔ پولیس کو اپنے فرائض کا احساس ہو گا کہ صرف بے گناہ شہریوں کو مارنا ہی ہمارا ’’فرض‘‘ نہیں بلکہ دہشت گردوں کو پکڑنا اور ان کا تعاقب بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ ڈسکہ میں پولیس گردی کی جس قدر مذمت کی جائے کم ہے۔ مذکورہ S.H.O کو قانون کیمطابق سزا دلوانا اب حکومت کی ذمہ داری ہے۔ وکلاء حضرات بھی قانون کے رکھوالے ہوتے ہیں مگر ریاست کی املاک کو نقصان پہنچانا ناانصافی ہے۔ سابقہ چیف جسٹس ایک ریٹائر ہو چکے ہیں جو کہ قانونی ہونے کے بجائے ’’سیاسی‘‘ زیادہ دکھائی دیتے تھے۔ وکلا حضرات بھی سیاسی رویہ نہ اپنائیں بلکہ قانون کی پاسداری میں ہی انکے کالے کوٹ کی عظمت ہے۔