ٹرمپ مودی = بیا باہم در آویزیم می رقصم

کالم نگار  |  عائشہ مسعو د ملک
ٹرمپ مودی = بیا باہم در آویزیم می رقصم

ٹرمپ کے آنے کے بعد سے ہی اچھی امیدیں رکھنا دشوار تھا جبکہ ہندوستان میں مودی کے آنے کے بعد کسی قسم کی خوش خیالی کو جگہ نہیں دی جا سکتی تھی یہ تو ہمارے کاروباری حکمران کی ناعاقبت اندیشی ہے کہ ملکی سلامتی کے اہم امور سامنے رکھنے کی بجائے ان دوستانہ تعلقات کی طرف لپکتے ہیں جو کھوکھلی بنیادوں پر ہوتے ہیں۔ اب ہماری غلطیاں کوتاہیاں تو چل رہی ہیںاور ادھر ٹرمپ اور مودی اس طرح گلے ملے جس طرح بچھڑے میت ملتے ہیں اور مودی کی یہ محبوبیت ہمارے وزیراعظم کے گھر جا کر پرتعیش قیام و طعام اور ان کی طرف سے دی گئی محبت اور پذیرائی کے باوجود دکھائی نہیں دی تھی۔کیونکہ مودی سرکار کا دل ادھر ملتا ہے ادھر نہیں ملتا اس لئے دونوں کے درمیان ’’ہم رقص‘‘ ہونے کی کیفیت دکھائی دے رہی ہے اور یہ رقص لمحہ فکریہ بھی ہے۔ علامہ ا قبال اپنے نعتیہ قطعات ارمغان حجاز میں مسلمانوں کو پیغام دے رہے تھے کہ ؎
بیا باہم در آویزیم و رقصم
زگیننی دل برانگزیمہ و رقصم
یکے اندر حریم کوچۂ دوست
زچشماں اشک خو ریزم و رقصم
ان اشعار کا ترجمہ یہ ہے کہ ایک دوسرے کے گلے مل کر رقص کریں۔ دنیا سے دل اچاٹ کریں اور رقص کریں۔ ایک دفعہ حریم دوست میں آنکھوں سے خوں بہائیں اور رقص کریں … مسلم امہ تو گلے مل کر اتحاد و یگانگت کا رقص کرنا بھول چکی ہے مگر دنیا نے سبق ایسا سکھایا ہے کہ جو مسلم یکجہتی کو پارہ پارہ کرنے پر مبنی ہے۔ یعنی کہ ہندوستان امریکہ کی آغوش میں ہے اور افغانستان دونوں کے زیر اثر ہے۔ جبکہ سعودیہ نے بھی اپنے معاملات کے مطابق حکمت عملی اختیار کی ہے اور ہم ایران اور قطر کے ساتھ عجیب طرح کے حالات سے دوچار ہو چکے ہیں۔ جو ابھی اپنی آخری تک نہیں گئے۔ سنبھل سکتے ہیں اور سنبھالے جا سکتے ہیں مگر ساول یہ ہے کہ یہ اس وقت کون کرے گا ؟ کیونکہ حکمران اپنی کرپشن کی کہانی کو سنبھالیں گے یا ملکی سلامتی کے اہم امور کو سنبھالیں گے اور بدقسمتی سے انہیں اپنی سلامتی ہی عزیز ہے۔ دنیا کے حالات کا جائزہ لیں تو اکثر جارحانہ جنگوں کے واقعات ملتے ہیں اور ان ’’جارحانہ جنگوں‘‘ کے خلاف جو اقدامات اٹھائے جاتے ہیں وہ ’’مدافعت‘‘ کی جنگ ہوتی ہے یا اپنے دفاع کے لئے ہوتی ہے۔ دنیا میں اب بظاہر جنگ دکھائی نہ بھی دے تو صورتحال ’’جارحانہ‘‘ دکھائی دیتی ہے اور یہ اس ترقی یافتہ دور کی بدولت ہے کہ بظاہر کسی ملک کی دو فوجیں آمنے سامنے نہیں ہیں مگر اندر ہی اندر سازشی عناصر اور خطرناک پالیسیوں کی وجہ سے کچھ ملکوں اور قوموں کو کھوکھلا کر دیا جاتا ہے۔ لہذا ان حالات کی موجودگی میں کسی بھی ایسے ملک کے حکمرانوں پر جو کہ ’’دفاع‘‘ حالات میں ہیں نہایت عقلمندی اور سمجھ بوجھ کے ساتھ حالات کو دیکھنا اور پھر نظام مرتب کرنا ہوتا ہے اور یہاں بھی بدقسمتی سے ہمارے ہاں ’’دو اور دو چار‘‘ کرنے والے تو ہیں مگر ’’دانشور حکمران‘‘موجود نہیں جبکہ بعض جگہوں پر ایسے حاضرین ہیں کہ جن کی عمروں کی ناتوانی بھی ان کے آڑے آتی ہے۔ مگر پھر بھی وہ لگے ہوئے ہیں کہ جیسے تیسے ڈنگ ٹپاتے چلے جائیں۔ دراصل کسی بھی پسماندہ ملک یا ’’مداخلت‘‘ اختیارکر کے اپنی سلامتی کو محفوظ کرنے والے ملک کے لئے انتہائی محنت طلب کام کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کام کے لئے اقبال و قائد اعظم جیسے بلند خیالات کے حامل لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جو ملک میں اصلاح کا فریضہ سرانجام دے سکیں اور جو اپنی خامیوں پر قابو پانے کا سلیقہ رکھتے ہوں۔ مگر کیا کیا جائے ؟ انتہائی نازک حالات میں بھی اقبال و قائد جیسا کوئی نہیں اور اپنی خامیوں پر قابو پانے کا سوال تو تب آئے گا جب کوئی اپنی خامیوں کو تسلیم کرے گا اور باقی رہی بات بلند خیالات کے حامل افراد کو جمع کرنے کی تو بد قسمتی ہے۔ نہایت ’’پست خیالات‘‘ اور ’’پست کردار‘‘ کے حامل افراد کا چناؤ کر کے اداروں کا ہی بیڑہ غرق کر دیا گیاہے۔ میں ذاتیات پر جانا نہیں چاہتی مگر وفاق کے بعض معاملات قابل تشویش ہیں۔ اسی طرح ہمارے لئے یہ بات بھی ضروری ہو چکی ہے کہ یہ معلوم کریں کہ ہمارے دوست کون ہیں ؟ اور ہمارے دشمن کون ہیں ؟ کیونکہ یہ پہچان ہی ملکوں اور قوموں سے ایسی غلطیاں سرزد کروا دیتی ہے جن کا تاریخ کے اوراق پر ناکامیوں اور کامیابیوں کی صورت ثبوت مل سکتا ہے مگر وقت کا پہیہ گھوم چکا ہوتا ہے اور یہ تاریخ موجودہ وقت کے لوگوں کے گم گشتہ ماضی کا حصہ بننے کے بعد سامنے آتی ہے۔ کیونکہ دوست اور دشمن کی درست پہچان کے بغیر جنگیں پیدا کرنا‘ جنگوں کے لئے موافق حالات پیدا کرنے میں مدد کرنا اور پھر کسی کا حلیف بننا اور یا کسی کا حریف بننا شامل ہوتا ہے۔ جیسا کہ افغانستان کے معاملے میں ہم امریکہ کے ساتھ چلے اور آج ڈونلڈ ٹرمپ مودی کو گلے لگا رہے ہیں اور افغانستان کے لاکھوں لوگوں کو پناہ گزین بنا کر رکھنے کے باوجود وہاں سے دوستی کی خوشبو نہیں آتی۔ مرتضیٰ برلاس کا شعر ہے کہ …؎
بس تجربوں کی نذر ہوئے اپنے سارے خواب
کیا ہم نے کرنا چاہا تھا ‘ کیا کردیا گیا
بدقسمتی سے امریکہ بھارت کے ساتھ مل کر کشمیر کی آزادی کو تحریک کو دہشت گردی میں بدل کر اس خطے کا امن خطرے میں ڈال رہاہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ بھارت سے مل کر اسلامی انتہا پسندی کو ختم کرینگے مگر آزادی کی تحریک کو اسلامی انتہا پسندی کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ ہندوستان ہی کشمیر کے مسئلے کو لے کر اقوام متحدہ گیا تھا۔ اگر یہ ’’اسلامی انتہا پسندی‘‘ کا قصہ ہوتا تو وہ اقوام متحدہ یہ مسئلہ لے کر نہ جاتا اور پھر اس کے بعد آسٹریلیا سمیت دوسرے ممالک کے لوگ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے زحمت نہ کرتے تو کیا اقوام متحدہ کی قراردادوں کو ہی تسلیم نہیں کیا جائے گا اور بین الاقوامی عدالت بھی ایسی عدالت بن جائے گی کہ جو انصاف کے تقاضوںکو پورے کرنے میں نااہل ہے۔ حالانکہ یہ بات بھی ریکارڈ پر موجود ہے کہ ہندوستان مذاکرات سے دور بھاگتا رہا ہے۔
اب امریکی فوجی ٹیکنالوجی ہندوستان کو دینا اور یہ کہنا کہ اسلام آباد اپنی سرزمین سے دہشت گردی روکے ناانصافی کی ایک نئی بنیاد ڈالنے کے مترادف ہے۔ لہذا قوم شیعہ سنی یا بریلوی یا کوئی اور ہونے کی بجائے متحد ہو کر آگے بڑھے تاکہ گلے مل کر نیا رقص جو شروع ہو رہا ہے اس کے برعکس ’’دفاعی‘‘ پالیسیاں بنائی جا سکیں!! اپنا خیال رکھیئے گا۔