کالا باغ ڈیم کی مخالفت ٗستم ظریفی

کالم نگار  |  محمد یسین وٹو

ملک میں پانی اور بجلی کا بحران جون کے مہینے میں بہت شدت اختیار کر گیا ہے۔ چنانچہ ہفتہ کے روز پنجاب اور وفاق کے ایوانوں میں پانی کے بحران کی صدائے بازگشت سنی گئی اور اراکین اسمبلی میں گرما گرم بحث و تکرار کا سلسلہ جاری رہا۔ پانی کے موجودہ ناکافی ذخائر سے صوبوں کو فراہم کئے جانے والے پانی کی تقسیم اور منیجمنٹ کے لئے باقاعدہ ادارہ ’’ارسا‘‘ موجود ہے۔ ارسا میں چاروں صوبوں سے ایک ایک نمائندہ لیا جاتا ہے۔ 24 جون کو صدر آصف علی زرداری کے زیر صدارت ارسا اور وزارت پانی اور بجلی کے اجلاس میں پنجاب کا نمائندہ موجود نہیں تھا اس اجلاس میں جناب صدر زرداری نے ہی سندھ کو پانی کی فراہمی میں اضافہ کرنے کا نادر شاہی حکم جاری کیا تھا اس سے بھی یہی تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے جیسے سندھ کو جان بوجھ کر پانی کی فراہمی کم کی جا رہی ہے اور اس کا ذمہ دار پنجاب ہے۔ جبکہ اخباری اطلاعات کے مطابق موجودہ جون کے مہینے میں خلاف معمول دریائوں میں پانی کی آمد گذشتہ برس کے مقابلے میں کم رہی ہے۔ اصل مسئلہ تو مجموعی طور پر پانی کی کمی ہے۔ چنانچہ مسلم لیگ کے رکن اسمبلی شیرعلی نے پنجاب اسمبلی میں یہ کلمہ حق بلند کر ہی دیا کہ پانی کی کمی کے مسئلہ کا حل ’’کالا باغ‘‘ ڈیم کی تعمیر ہی میں مضمر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں پانی اور بجلی کے بحران کا حل کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے ہی ممکن ہے کالا باغ ڈیم سے اتنی بجلی بھی حاصل ہو گی کہ ضرورت سے وافر ہو گی۔ لیکن یہ کس قدر ستم ظریفی ہے کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کی مخالفت بھی صوبہ سرحد کی ولی خاں پارٹی کے بعد صوبہ سندھ کے سیاستدان ہی سب سے زیادہ کرتے چلے آئے ہیں۔ اور پھر الزام بھی مرکز اور بالخصوص پنجاب کے سر لگا دیتے ہیں۔ پیپلزپارٹی کی موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی اعلان کر دیا تھا کہ کالا باغ ڈیم قصہ ماضی ہے۔ یہ ڈیم نہیں بنایا جائے گا۔ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے سلسلے میں غیر ملکی ماہرین کی تیار کردہ تمام فیزیبلٹی رپورٹوں میں اسے ایک قابل عمل اور مفید منصوبہ قرار دیا گیا ہے۔ ان رپورٹوں اور زمینی سروے پر قوم کے 80 ارب سے زائد خرچ ہو چکے ہیں۔ لیکن سندھ اور سرحد کے سیاستدانوں نے بالخصوص کالا باغ ڈیم کو اپنی سیاست چمکانے کا مسئلہ بنا کر اس کی شدید مخالفت کی۔ عوام سمجھتے ہیں کہ پانی اور بجلی کے بحران کے ذمہ دار ہمارے سیاستدان ہیں۔ بھارت نے پاکستان آنیوالے دریاؤں پر 62 ڈیم بنانے کے ساتھ ساتھ دریائے سندھ پر کارگل میں دنیا کے تیسرے بڑے ڈیم کی بھی تعمیر شروع کر دی ہے۔ ایک ہم ہیں کہ ایک کالا باغ کی تعمیر پر بھی متفق نہیں ہو رہے۔ یہ خصوصاً ہمارے سیاستدانوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔
٭٭٭