چور؟ چوروں کے ہاتھ کاٹیں گے؟

کالم نگار  |  خالد احمد

کچھوے اور خرگوش نے دوڑ کا آغاز کیا اور حسبِ روایات کچھوا پیچھے رہ گیا مگر چلتا رہا اور خرگوش کو خراٹے مارتا دیکھ کر مسکرایا‘ اس کا موبائیل منہ میں دبایا اور قریبی نالے میں اُتر گیا ’موبائیل بیٹری‘ پانی میں ’شارٹ سرکٹ‘ کے باعث کچھوے کی موت کا سبب بن گئی! نالے میں رہائش پذیر مچھلیاں کئی روز تک دعوت اُڑاتی رہیں اور خرگوش اپنے ’موبائیل‘ کی ’واگزاری‘ کے لئے تھانوں کے چکر کاٹتا مر کھپ گیا اور اُس کے ہم سائے میں رینگنے والی چیونٹیاں بھی ’جشنِ مسرت‘ مناتے مناتے ہلکان ہو گئیں! اسلام آباد میں ملک کے ممتاز شاعر اور نقاد جناب محمد جلیل عالی کے گھر میں ڈاکے کی ’خبر‘ پر جناب شہباز شریف نے فوری ’ردعمل‘ ظاہر کیا اور پولیس حکام سے روز کے روز اس ’معاملے کی رپورٹ طلب کر لی۔ پولیس حکام یہ کام کرتے کرتے تھک چکے ہوں گے‘ لہٰذا اب پولیس کے اندر موجود شاعر حکام اور شاعر دوست حکام سے اپیل ہے کہ اب کچھ نہ تو ہو؟ وہی ’حرفِ تسلی‘ ’ہو جائے گا! آپ کا کام بھی ہو جائے گا!‘ سہی! ایک ایسا شخص‘ جس نے زندگی بھر صرف تعلیم دی ہو‘ تبلیغ کی ہو! اقبالؒ جیسے ’مشکل بنا دئیے گئے‘ شاعر کی تفہیم عام کر دینے میں بسر کی ہو‘ عمر کے اس حصے میں تھانوں کے چکر کاٹتا اچھا لگتا ہے؟ اس سے تو کہیں بہتر ہے کہ اُن سے کہہ دیا جائے کہ چوروں کا پتہ لگ گیا ہے‘ مگر انہیں ہاتھ لگا ہی دیا جائے! اسلام آباد پولیس نے بھی کچھوے کی چال سہی‘ خرگوش کو جا لیا اور اُس کے پاس پڑا ’موبائیل‘ اُٹھا کر جناب محمد جلیل عالی کے گھر پہنچا دیا ہے! اب رہ گئے زیورات وغیرہ‘ وہ بھی کسی نہ کسی خرگوش کے ’بھٹ‘ سے برآمد ہو ہی جائیں گے؟ کہ اس ’معاملے‘ کے نگران ایس پی ہمارے ایک کالم کار دوست کے بہت ہی قریبی دوست ہیں! اُن کا ایک ’ٹیلی فون‘ اس معاملے کو سلجھا سکتا ہے! جناب شہباز شریف اگر اس ’معاملے‘ کی رپورٹ پولیس حکام کی جگہ ’کالم کاروں‘ کے حکام سے طلب کریں تو شاید یہ معاملہ جلد نبٹ جائے! ہمیں تو ’معاملے‘ کے درست ہونے سے غرض ہے! اس کے طریقہ کار سے نہیں! جناب محمد جلیل عالی نے اپنی پوری زندگی عزت اور آبرو کے ساتھ بسر کی ہے‘ وہ اقبالؒ شناسی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے اور اقبالؒ پر گفتگو کرتے ہوئے وہ ایک ایسی سرشاری میں مضامینِ نَو بہ نَو کے انبار لگاتے چلے جاتے ہیں‘ ایسا لگتا ہے کہ اقبالؒ کے یہ اشعار ہم نے زندگی میں پہلی بار سُنے ہوں! ہم جیسا شخص جسے بذاتِ خود یہ ’زعم‘ ہو کہ وہ اقبالؒ آگاہ ہے‘ اگر وہ یہ کہہ
رہا ہے تو جناب محمد جلیل عالی کی اقبالؒ آگاہی کی حدود کا تعین کرنا اتنا آسان نہیں رہ جاتا ہے! جناب محمد جلیل عالی ضلعی مسلم لیگ امرت سر کے آخری صدر چوہدری فتح محمد کے فرزند ہیں اور یہ وہ ہستی ہیں جنہوں نے مسلم لیگ کی ملکیتی گاڑیاں مہاجرین کو ڈھونے کے لئے ان کے ڈرائیوروں کے سپرد کر دیا تھا اور انہیں ان کے بال بچوں سمیت پاکستان بھیج دیا اور اپنے اہل خانہ اور پورے خاندان اور علاقے کے دوسرے مسلمانوں کے ساتھ پیدل پاکستان کی طرف چل پڑے تھے! جناب محمد شفیق سلیمی نے ہمیں بتایا کہ ہمیں اپنے والد ماجد کی خدمات کا اعتراف نہ ہونے کا کوئی غم نہیں لیکن محنت‘ مشقت اور زندگی بھر کی پونجی کا ’ہم وطن چوروں‘ کے ہاتھوں لٹ جانا یقیناً روح فرسا ہے! ہمارے والد ماجد نے پاکستان کے قیام کے بعد ’حصہ داری کی بنیاد‘ پر پیش کی جانے والی ’الاٹ منٹیں‘ مسترد کرتے ہوئے کہا تھا ’میں کسی بھی نوع کی لوٹ مار کا حصہ نہیں بن سکتا!‘ شاید یہی سبب ہے کہ ان کی اولاد ’لوٹ مار‘ کے لئے چُن لی گئی ہے! جناب محمد شفیق سلیمی جناب محمد جلیل عالی کے برادرِ بزرگ ہیں اور انہیں ان کا ’دوست‘ کہنے میں بھی کوئی ہرج نہیں! کیونکہ دونوں بطور شاعر انفرادی پہچان رکھنے کے ساتھ ساتھ انفرادی سوچ کے بھی حامل ہیں مگر یہ دونوں ایک ’منفرد پاکستان‘ کے لئے شعر کہتے ہیں! ’امن اور امان‘ ’محبت اور اخوت‘ کا گہوارہ پاکستان! اُن کا خواب ہے! وہی جسے تحریکِ کارکنان پاکستان کا نصب العین بھی کہا جا سکتا ہے!