مظفر آباد میں خودکش حملہ !

صحافی  |  رشید ملک

26 جون کو صبح 6 بجکر 20 منٹ پر مظفر آباد میں دریائے نیلم کے دائیں کنارے پر ابھرتی اور پھیلتی بستی جسے عُرفِ عام میں گوجرہ اور سرکاری طور پر شوکت لائنز کہا جاتا ہے میں ایک نوجوان نے ایک سکیورٹی گاڑی سے ٹکرا کر اپنے آپ کو اڑا دیا۔ اس حملہ سے سکیورٹی کے دو اہلکار شہید اور تین زخمی ہو گئے تھے۔ شوکت لائنز میں آبادی ڈھلوان زمینیوں پر ہے‘ سکیورٹی کے مختصر سے دفاتر اور رہائشی کوارٹرز بھی قرب و جوار میں ہیں‘ درمیان میں سڑک کے کنارے پر ایک مسجد ہے‘ صبح نمازی جن میں سکیورٹی اہلکار بھی تھے‘ نماز پڑھ کر باہر نکلے تو انہوں نے اپنی مخالف سمت یعنی شوکت لائنز کی طرف جاتے ہوئے ایک شخص کو دیکھا ‘یہ سولہ اٹھارہ سال کی عمر کا نوجوان تھا۔ نمازیوں کو شک گزرا لیکن اس نوجوان نے پاس کھڑی گاڑی سے ٹکرا کر اپنے آپ کو اڑا دیا۔
مظفر آباد بلکہ آزاد کشمیر میں خودکش حملہ کا یہ پہلا واقعہ ہے۔ میرپور کے کچھ شہری حصوں کے علاوہ آزاد کشمیر زیادہ تر پہاڑوں کے دامن میں پھیلا ہوا خطہ ہے۔ تقریباً 5 ہزار مربع میل کا یہ خطہ جس کی آبادی تقریباً 32 لاکھ ہے۔ ڈوگرہ عہد میں ریاست کا پسماندہ ترین خطہ سمجھا جاتا تھا۔ آزادی کی برکتوں سے یہ خطہ ہر شعبہ زندگی میں پھل پھول رہا ہے۔
2005ء کے تباہ کن زلزلہ نے اسکے نکھرتے حسن و جمال اور کِھلتی خوشحالی کو کملا کر رکھ دیا تھا چونکہ ساڑھے تین سال گزر جانے کے بعد بھی زلزلہ سے تباہ شدہ علاقوں کو آباد کرنے کیلئے کوئی سنجیدہ کوشش اور منصوبہ بندی نہیں کی گئی‘ اب تعمیر نو کے بڑے منصوبوں کیلئے چینی کمپنیوں سے معاہدے ہوئے ہیں۔ زلزلہ کے مارے ہوئے علاقوں میں ابھی بھی ملبے کے ڈھیر پڑے ہیں۔
مظفر آباد ارد گرد سے آئے لوگوں سے اُبل رہا ہے۔ انہوں نے سڑکوں کے کناروں پر چوکوں میں اور اجڑے ہوئے بازاروں میں کھوکھے‘ ریڑھیاں لگا کر روزگار کے ذرائع اختیار کر لئے ہیں ‘اس طرح کی بکھری بکھری سی رہائشی زندگی میں یہ کبھی سوچا نہیں گیا تھا کہ طالبان اپنی دہشت گردی کا دائرہ ان بستیوں تک پھیلا دینگے۔ آزاد کشمیر کی بڑی سیاسی جماعتوں میں پیپلز پارٹی کے سوا کسی جماعت نے اپنی سرگرمیوں کا تعلق پاکستان کی کسی سیاسی جماعت سے عملی طور پر نہیں رکھا ہے‘ نظریاتی تعلق تو پاکستان کی نظریاتی اساس کی بنا پر سب کا ہے‘ اس لئے طالبان کو آزاد کشمیر میں اپنی دہشت گردی پھیلانے کا جواز نہیں ہے لیکن انکے اپنے خطرناک عزائم اور ٹارگٹ ہیں‘ انکے کوئی اصول تو نہیں ہیں۔
میرپور اور بھمبر کے علاقوں میں ان کی سرحدیں پنجاب کے اضلاع جہلم‘ گجرات کے علاقوں سے گھلی ملی ہوئی ہیں۔ آزاد کشمیر میں معمول کے داخل ہونے کے مقامات دریائے پونچھ پر گروٹ اور آزاد پتن‘ دریائے جہلم پر کوہالہ اور ایبٹ آباد سے آنیوالوں کیلئے برار کوٹ کی چیک پوسٹ ہیں۔ دریائے کاغان اور جہلم پر بعض مقامات پر لوہے کے رسوں کے معلق پُل تعمیر کئے گئے ہیں۔ انکے ذریعے ضلع ہزارہ کی آبادی کو پیدل چلنے کی سہولتیں حاصل ہیں۔ ان پُلوں سے کسی خودکش حملہ آور کا گزرنا ‘ اسکے خطرناک مقاصد کیلئے آسان اور فائدہ مند نہیں ہو سکتا۔
انٹری مقامات پر آزاد کشمیر حکومت نے حال ہی میں سکیورٹی کے انتظامات سخت کئے ہیں۔ گاڑیاں چیکنگ کے بغیر گزر نہیں سکتیں۔ ان انٹری مقامات پر شہروں کا سا ہجوم نہیں ہوتا کہ کوئی گاڑی چیکنگ کے بغیر گزر جائے‘ ہاں! پیدل چلنے والوں پر سخت چیکنگ نہیں رکھی جاتی۔ یہ خودکش نوجوان پیدل چل کر شوکت لائینز کی بستی میں کیسے آرام سے پہنچ گیا جبکہ اس نے بارود بھری جیکٹ بھی پہن رکھی تھی۔
اس سے یہ بات بھی ثابت ہو گئی کہ دہشت گردوں کا نیٹ ورک بڑی ہُنرمندی سے کام کرتا ہے۔ باعثِ تعجب یہ بات بھی ہے کہ بیت اللہ محسود نے اس خودکش حملہ کی ذمہ داری بھی قبول کر لی ہے یعنی جنوبی وزیرستان کی پہاڑیوں سے لیکر مظفر آباد کی شوکت لائنز تک طالبان نے اپنے رابطے بھی اور اپنے راستے بھی بنا لئے ہیں۔
آزاد کشمیر میں زلزلہ سے پہلے بھی سرحدی علاقوں کے پٹھان بھائی کافی تعداد میں محنت مزدوری کرتے تھے حتیٰ کہ دیہاتی بھی خود گھاس کٹائی کا کام ’’لسیتری‘‘ کی رسم کے طور پر چھوڑ کر ان پٹھان بھائیوں سے ہی مزدوری پر کرواتے ہیں۔ زلزلہ کے بعد مظفر آباد میں خاص کر ارد گرد کے دیہاتوں سے اور سرحدی بھائیوں کا ہجوم اُمڈ آیا ہے۔ یہ لوگ محنت مزدوری کا کام بھی کرتے ہیں اور ریڑھیوں کے ذریعے سودا سلف اور سبزی فروٹ بھی بیچتے ہیں لیکن ان کی طرف سے امن و امان میں خلل کی کبھی کوشش نہیں کی گئی نہ ان کی قابل شک و شکایات حرکات نوٹس کی گئی ہیں‘ طالبان کا ان سے خفیہ تعلق کا شک بھی نہیں کیا جاتا لیکن شوکت لائنز میں خودکش حملہ آور کا پہنچنا کسی رابطے کے بغیر ممکن نہیں۔
اس رابطے کے ذریعے کا کھوج لگانے کی ضرورت ہے۔ آزاد کشمیر میں اس طرح کے لوگوں کا جو ہجوم ہے انکی رجسٹریشن کا مطالبہ تو کیا جاتا رہا لیکن یہ رجسٹریشن کی نہیں گئی۔ بہرحال مظفر آباد میں خودکش حملہ کا ہونا ایک بڑے خطرے کا الارم ہے۔ اس الارم کی بنا پر سکیورٹی کے انتظامات مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔