بے وقت کی راگنی

صحافی  |  عطاء الرحمن

ان دنوں پنجاب کو تقسیم کر کے سرائیکی صوبے کے قیام کے لئے جو آواز اٹھائی گئی ہے اس کے حق میں ایک بڑی دلیل یہ دی جا رہی ہے آزادی کے وقت بھارت کے 9 صوبے یا ریاستیں تھیں آج 26 ہیں۔ ہمارے یہاں ان کی تعداد میں اضافہ کیوں نہیں کیا جا سکتا۔ یہ رائے پیش کرنے والے اس حقیقت کو بھول جاتے ہیں بھارت نے گاڑی کے آگے گھوڑے کو جوتا تھا اس کے پیچھے نہیں۔ اس ملک نے 1952ء میں سب سے پہلے اپنا آئین تیار کیا اسے نافذ کیا آج تک اس پر عمل پیرا ہے۔ اس دوران جب بھی ضرورت پڑی صوبوں یا ریاستوں میں رد و بدل کیا۔ لیکن ہمارے یہاں تو اس کی نوبت نہیں آئی۔ بڑی اللہ آمین کے بعد 1956ء اور 1973ء میں آئین اگر نافذ کر بھی دیا گیا تو عملداری کو چلنے نہ دیا۔ آئینی تسلسل وجود میں نہ آ سکا۔ اس منفی عمل کے دوران ہم نئے صوبے کیا بناتے۔ ابتدا میں جو 5 تھے ان میں سے 4 رہ گئے۔ سب سے زیادہ آبادی والے نے علیحدگی اختیار کر لی۔
اس وقت بھی سب سے بڑا قومی مسئلہ در پیش ہے وہ سترہویں آئینی ترمیم کو کالعدم قرار دے کر آئین مملکت کو اصل حالت میں واپس لانا ہے اس کے بعد چاروں صوبوں کو اس کم از کم خود مختاری سے ہمکنار کرنا ہے جس کا 1973ء کے آئین میں وعدہ کیا گیا ہے۔ اس بنیادی اور اہم ترین فریضے سے سبکدوش ہونے کے بعد منتخب پارلیمنٹ اس سوال پر بحث کر سکتی ہے کہ صوبوں کی ازسرنو تقسیم ہونی چاہیے یا نہیں۔ ظاہر ہے جب آپ پنجاب کا بٹوارہ کریں گے تو بات یہاں تک محدود نہ رہے گی۔ صوبہ سندھ‘ بلوچستان اور سرحد میں بھی کئی لسانی گروہ پائے جاتے ہیں جو اپنے لئے علیحدہ صوبے کی خواہش رکھتے ہیں بلکہ مطالبہ بھی کرتے ہیں لیکن اگر اس پنڈورا بکس کو آئین کے مکمل نفاذ اور صوبائی خود مختاری دینے سے پہلے کھول دیا گیا تو ایسا انتشار جنم لے گا اور وہ آندھی چلے گی کہ کچھ نظر نہ آئے گا۔
پیپلز پارٹی بے وقت کی اس راگنی میں پیش پیش
ہے۔ اس سے قبل وہ تین مرتبہ حکومت کر چکی ہے تب اسے سرائیکی صوبے کی نہ سوجھی۔ اب شاید یقین ہو چکا ہے پنجاب میں انتخابی کامیابی اس کے قدموں سے بہت دور ہے۔ 2008ء کے انتخابات کسی کام نہ آئے‘ گورنر راج لگا کر دیکھ لیا منہ کی کھانی پڑی۔ سترہویں ترمیم ختم ہو جاتی ہے تو آصف علی زرداری کے پاس قابل ذکر اختیارات باقی نہیں رہیں گے۔ یہ امور سوہان روح بنے ہوئے ہیں۔ اس لئے سرائیکی صوبے کے نان ایشو کو چھیڑ دیا گیا ہے۔ بھارت میں ریاستوں کی تقسیم نو لسانی بنیادوں پر کی گئی۔ پاکستان میں ایک صوبہ ایسا نہیں جو لسانی وحدانیت کا دعویٰ کر سکے۔ ہمارے یہاں تو لوگ لہجے کو زبان کا نام دیتے ہیں۔ پھر اس کی بنیاد پر علیحدہ صوبے کے قیام کا مطالبہ کرتے ہیں۔ انگریزوں کے راج میں موجودہ صوبے انتظامی ضروریات کی بنیاد پر بنائے گئے تھے۔ ان میں یقیناً رد و بدل ہو سکتا ہے۔ لیکن پہلے قوم کو متفق علیہ آئین بحال کر کے ملک کو جمہوریت کی راہ راست پر ڈالئے اس کے بعد کوئی اور راگ چھیڑیے کہ سلامتی فکر و عمل کا یہی تقاضا ہے۔