بازپرس کون کرے گا؟

کالم نگار  |  سعید آسی

ادھر ایوان اقتدار میں کتنے آرام اور تسلی کے ساتھ ملکِ خداداد کے عظیم قائد بانی ٔ پاکستان حضرت قائداعظم پر بھٹو اور زرداری خاندان کو ترجیح دے دی گئی۔ ایوانِ صدر اور وزیراعظم ہائوس کے کانفرنس ہال اور آفسز سے بانی ٔ پاکستان کی تصاویر غائب کرکے ذوالفقار علی بھٹو‘ بے نظیر بھٹو‘ آصف علی زرداری (جو اب صدرِ مملکت ہیں) اور بلاول بھٹو زرداری کے پورٹریٹ آوازاں کر دیئے گئے‘ جیسے پاکستان ان کی وراثت اور جاگیر ہو اور ادھر لندن میں بیٹھ کر آسودہ اور پرتعیش زندگی بسر کرتے ہوئے انہی وفاقی حکمرانوں کے حلیف الطاف بھائی نے کتنے اطمینان و سکون کے ساتھ یہ کہہ کر اس وطنِ عزیز کی جڑوں کو ہلا دیا کہ تقسیم برصغیر سے مسلمانوں کو نقصان ہوا ہے‘ وہ ڈاکٹر جاوید اقبال کی گواہی ڈلوا کر کتنے اعتماد کے ساتھ یہ غلط بیانی کر رہے ہیں کہ علامہ اقبالؒ نے قیام پاکستان کا مطالبہ نہیں کیا تھا‘ ملکی اور قومی تاریخ کو مسخ کرکے فرزند اقبال کی گواہی ڈالی جا رہی ہے‘ جس اقبال کو ہماری تاریخ مصور پاکستان کے نام سے یاد کرتی ہے‘ جنہوں نے بددل محمدعلی جناح کو مسلم لیگ کی قیادت کیلئے لندن سے اپنے ملک واپس آنے پر مجبور کیا اور جن کے خطبۂ الہ آباد نے برصغیر کے مسلمانوں کیلئے الگ خطے کے تصور کو اجاگر کیا‘ اسکے بارے میں حکومتی شہ پر الطاف بھائی یہ دشنام طرازی کرتے ہوئے کتنی سہولت محسوس کر رہے ہیں کہ علامہ اقبال نے قیام پاکستان کا مطالبہ نہیں کیا تھا۔
یقینی بات ہے‘ اگر وفاقی حکمران بانی ٔ پاکستان حضرت قائداعظم کے پورٹریٹ اقتدار کے ایوانوں سے غائب کرکے اور بھٹو زرداری خاندان کے پورٹریٹ اجاگر کرکے بانیانِ پاکستان کے ساتھ اپنے ’’دلی لگائو‘‘ کا سرعام اظہار کریں گے تو انکے ان حکومتی حلیفوں کے دل میں چھیڑ خانی کے جلترنگ کیوں نہیں بجیں گے جو تشکیل پاکستان کو آج بھی حقیقت سمجھتے ہوئے ہچکچاتے ہیں جنہیں سب کچھ اس مادر وطن نے دیا‘ سیاست‘ سیادت‘ قیادت‘ پرتعیش بود و باش‘ وفاداروں کی قطار در قطار‘ ملک سے باہر بیٹھ کر بھی ملک کے اندر اپنا سکہ چلانے کی آزادی‘ بادشاہی اور بادشاہ گری‘ یہ سب کچھ انہیں اس پاکستان کے صدقے میں ملا ہے جو تقسیم برصغیر کے نتیجہ میں تشکیل پایا تھا۔ برصغیر کے جن لاکھوں مسلمانوں نے اپنی جان مال اور مائوں‘ بہنوں‘ بیٹیوں کی عفتوں‘ عزتوں کی قربانیاں دے کر تقسیم برصغیر کے اس عمل میں اپنا حصہ ڈالا اور تشکیل پاکستان کی منزل کو یقینی بنایا۔ ذرا ان سے پوچھئے کہ کیا انہوں نے یہ عظیم قربانیاں اپنے نقصان کو بھانپ کر دی تھیں‘ یا ان کے پیش نظر برصغیر کے مسلمانوں کیلئے اس آزاد و خودمختار مملکت کا حصول تھا جس میں وہ انگریز اور ہندو بنیاء کی غلامی سے نجات حاصل کرکے اپنے مذہبی عقیدے کے مطابق آزاد زندگی بسر کر سکیں۔ الطاف بھائی کو تو بنا بنایا پاکستان اپنی آزاد زندگی گزارنے کیلئے مل گیا‘ انہیں اس کرب اور ان دکھوں کا کیا احساس ہو سکتا ہے جو قیام پاکستان کی منزل طے کرتے ہوئے برصغیر کے مسلمانوں نے اٹھائے تھے‘ کیا کبھی ان کی زبان پر کسی نے یہ ہلکا سا بھی شکوہ سنا ہے کہ تقسیم برصغیر سے مسلمانوں کو نقصان ہوا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد تو اسکے کٹر مخالفین نے بھی اس کی حقیقت کو تسلیم کرلیا تھا اور آج اس وطن عزیز میں وہی استحکام پاکستان کے داعی ہیں۔ اگر الطاف بھائی کو تقسیم برصغیر (یعنی تشکیل پاکستان) آج بھی کھٹک رہی ہے تو اسکی باز پرس کون کریگا۔ وہ تو خود اقتدار میں بیٹھ کر بانیان پاکستان پر اپنے خاندانوں کو مقدم سمجھ رہے ہیں۔
اس سوگوار فضاء میں مجھے اگلا جھٹکا گورنر سرحد اویس غنی کے اس بیان سے لگا کہ اگر میں گورنر نہ ہوتا تو بتاتا کہ پاکستان کو کون تقسیم کرنا چاہتا ہے۔ اگر بطور گورنر سرحد ان کے علم میں ہے کہ کون سے عناصر پاکستان کو تقسیم کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں تو کیا انہیں بے نقاب کرنے کا ان کے پاس یہ بہترین وقت نہیں؟ انہوں نے بطور گورنر ملکی و قومی مفادات کے تحفظ کا حلف اٹھایا ہوا ہے‘ کیا اس حلف کی پاسداری کا یہ تقاضہ ہے کہ پاکستان کو تقسیم کرنے کی مذموم سازش بطور گورنر انکے علم میں آئے اور وہ اس کو پی جائیں کہ وہ گورنر ہیں۔ معاف کیجئے! گورنر کے منصب اور قومی مفادات کا یہ ہرگز تقاضہ نہیں۔ اسی لئے تو قائداعظم کی تصاویر ایوان اقتدار سے غائب کرنے اور تقسیم ہند کے عمل میں تشکیل پاکستان کو تضحیک کا نشانہ بنانے کا موقع ملتا ہے۔ ان کا تعلق خانوادہ نشتر سے ہے‘ لعنت بھیجیں گورنری پر اور کھل کر بات کریں‘ کون بدبخت پاکستان تقسیم کرنا چاہتا ہے۔